ایران اور امریکہ, اسلامک بلاک اور سی پیک۔۔۔۔ بلال شوکت آزاد

کیا آپ لوگ جانتے ہیں اس صدی کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز کیا ہوگی؟

نہیں جانتے؟

چلیں ہم آپ کو آج بتاتے ہیں کہ اس صدی کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز یہ ہوگی کہ”امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا”۔

اب یہ بھی سن لیں کہ یہ صرف ایک بریکنگ نیوز ہے جو فی الحال صرف آپ کو میری تحریر میں ہی پڑھنے کو ملے گی۔

جب میں نے یہ بات سنی تو مجھے بھی اس میں رتی برابر شک نہیں لگا بلکہ جو میرے ذہن میں چل رہا تھا یہ بالکل اس کے عین مطابق ترجمانی تھی۔میں بچپن سے پاکستانی اور غیر ملکی میڈیا کی خبروں میں یہ سنتا اور پڑھتا آرہا ہوں کے امریکہ اور ایران کی آپس میں دشمنی ہے کیونکہ ایران اسرائیل کا دشمن ہے۔لیکن اصل مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تینوں ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں بلکہ درپردہ یہ ایک دوسرے کے مفادات کے سب سے بہترین اوربڑے محافظ ہیں۔

ایران کا خوف اور دبدبہ خطےمیں ایک تسلسل سے بنانے کا فائدہ امریکہ٫ اسرائیل اور ایران کو ہی ہوا۔کیونکہ اگر خطے میں ایران جیسی ریاست نہ ہوتی اور اس کا مذہبی یا مسلکی پس منظر نہ ہوتا جو مڈل ایسٹ میں موجود اس کے متضاد مسلک والے ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے تو امریکہ اور اسرائیل کی عالمی سازشی دیگ کبھی بھی چولہے پر نہ چڑھتی۔

ایک طرف امریکہ٫ ایران کو دھمکیاں لگاتا رہتا ہے لیکن کبھی ایک گولی بھی ایران پر نہیں چلاتا۔جبکہ دوسری طرف اسرائیل٫ ایران کو آنکھیں دکھاتا رہتا ہے لیکن اس کی اٹھکیلیاں اور لاڈ بھی جاری رہتے ہیں۔اور ایران؟

ایران کی تو کیا ہی بات ہے؟

ایران ایک طرف امریکہ کو اپنے جوہری طاقت بننے کی دھمکی لگاتا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو تباہ کرنے کے دعوے کرتا رہتا ہے لیکن درحقیقت جب جب خطے میں کوئی جنگی یا درون خانہ سازشںی بساط سجتی ہے تب تب ایران ہر وہ چال چلتا ہوا نظر آتا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو خطے میں محفوظ کرتی ہے۔

کیا یہ اتفاق ہے کہ اس سال فروری میں محمد بن سلمان جب پاکستان کے دورے پر آئے تب بیک وقت بھارت اور ایران میں فالس فلیگ آپریشن اور من گھڑت دہشت گردی کے واقعات رو پذیر ہوئے۔جن کے ڈانڈے ان دونوں ممالک نے پاکستان سے زبردستی جوڑنے کی کوشش کی اور صرف کوشش نہیں کی بلکہ دھمکی بھی دی۔

اور اسی کا تسلسل پھر پاک بھارت محدود پیمانے کی جنگ کی صورت میں ساری دنیا نے دیکھا اور جس میں بعد کی انٹیلی جنسیو رپورٹس کی روشنی میں پتہ چلا کہ بیک وقت 3 سے 4 ممالک پاکستان کو اپنے حملے کی زد پر لینے کے لئے تیار بیٹھے تھے صرف بھارت ایک دفعہ کھل کر بسم اللہ کرتا۔

کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ وہ 4 ممالک میں سے بھارت کے علاوہ باقی تین کون کون سے تھے؟

ایران٫ اسرائیل اور امریکا۔۔۔۔

اب یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ ان تین ممالک کو بھارت کے علاوہ پاکستان سے کیا تکلیف ہے اور یہ کس وجہ سے درون خانہ ایک جیسے مفادات رکھتے ہیں جو پاکستان کی تباہی پر منتج ہیں۔

سی پیک۔ ۔ ۔

جی ہاں سی پیک ہی وہ مشترکہ تکلیف ہے جو بیک وقت بھارت٫ ایران٫ اسرائیل٫ امریکہ اور افغانستان کو ہے۔اس تکلیف کو تقویت اس وقت مزید پہنچی جب روس٫ سعودی عرب٫ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک سمیت چند یورپی ممالک نے بھی سی پیک میں اظہار دلچسپی دکھایا بلکہ یہاں تک کہ محمد بن سلمان جب پاکستان میں دورے پر آئے تب سی پیک کے حوالے سے اچھی خاصی انویسٹمنٹ کی بات کرکے گئے جس سے خطے میں راتوں رات سیاسی اور نظریاتی بھونچال آیا۔

اب یہ کوئی اتنی بڑی راکٹ سائنس نہیں کہ ہم لوگ موجودہ عالمی صورتحال کو سمجھ نہ سکیں۔

امریکہ اور اسرائیل کسی صورت نہیں چاہتے کہ خطے میں پاکستان کسی بھی صورت جڑ پکڑے کہ اسے مشرق وسطی میں وہی حیثیت حاصل ہونا شروع ہو جو انیس سو ستر اور اسی کی دہائی میں حاصل تھی۔مطلب یہ سارے عرب ممالک کہیں سی پیک میں سرمایا کاری اور منافع کے لالچ میں پاکستان کی طرف جھک کر اسے خطے کا چوہدری نہ بنا دیں کہ ایک بڑا اسلامک بلاک تشکیل پا جائے لہذا ہر وہ طریقہ ہر وہ چال اپنائی جائے جس سے پاکستان کو اپنے لالے پڑے رہیں اور ہم خطے میں بلا شرکت غیرے چوہدری بن کر پنجائتیں سجاتے رہیں اور سب کو اپنی اپنی پڑی رہے۔

اس میں جو سب سے زیادہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے وہ اور کوئی نہیں بلکہ پاکستان کے تین ہمسایہ ممالک یعنی افغانستان٫ ایران اور بھارت ہیں۔اب آپ کہیں گے کہ اتنی لمبی چوڑی بحث کا کیا فائدہ جب کہ امریکہ تو خطےمیں اپنا بحری بیڑہ اور فضائی و بری افواج لیکر بیٹھ گیا ہے۔

درحقیقت یہ بحری بیڑہ اور فضائی و بری افواج خلیج میں ایران کی سرکوبی کے لئے نہیں بلکہ سعودی عرب کو کنٹرول میں رکھنے اور پاکستان پر قریب سے نظر رکھنے کے لئے اتاری گئی ہیں۔یہ اچانک سے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے حملے٫ ایران اور پاکستان کی سرحدوں پر جھڑپیں اور تنازعات٫ افغانستان کی طرف سے عسکری اور نظریاتی مداخلت اور بھارت کی طرف سے دن رات پروپیگنڈا مشینری پاکستان کے خلاف مصروف عمل ہے جبکہ امریکہ پاکستان کو دیدہ و نادیدہ شکنجوں میں لپیٹ رہا ہے۔

اور پچھلے دو سالوں میں جو درحقیقت بریکنگ نیوز تھیں جن پر امت مسلمہ کا شدید ردعمل آنا چاہیے تھا خواہ وہ عسکری اور سیاسی ہوتا یا نظریاتی۔لیکن پہلی چوٹ پر چِلانے کے بعد باقی معاملات پر معذرت کے ساتھ امت مسلمہ سمیت وہ ممالک بھی خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے جو انسانی حقوق کے چیمپئن بنے پھرتے ہیں۔

آغاز امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے کیا٫ پھر نئی امریکی حکومت نے پاکستان کے کردار کو مسخ کرنے کا سلسلہ شروع کیا یہ کہہ کر کہ پاکستان ایک دھوکے باز ملک ہے جس نے امریکہ سے 33 بلین ڈالر کی امداد وصول کرکے امریکہ کو کہیں کا نہیں چھوڑا٫ اس کے بعد امریکہ بنفس نفیس شام میں اتر آیا اور وہاں اس نے کیا کیا گل کھلائے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور سب سے آخر میں جو اہم پیشرفت ہوئی وہ یہ کہ گولان کی پہاڑیاں آفیشلی اسرائیل کے حوالے کردیں اور پورے حق سے کیں یہاں تک کہ انداز بھی جارحانہ تھا اور اب شنید ہے کہ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر میں حائل سے سب سے بڑی رکاوٹ مسجد اقصیٰ کا انہدام بھی جلد ہی ٹرمپ کی مہربانی اور اجازت سے ممکن ہونے والا ہے۔

اس کے علاوہ امریکہ کا گھوم پھر کر ہر بل پاکستان پر پھٹا کہ پاکستان یکدم سفارتی اور خارجی سطح پر دنیا ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ میں ابھر کر سامنے آنے کی کوشش کر رہا تھا جو امریکہ کی دور رس نتائج والی صیقل پالیسیوں کے خلاف تھا۔اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ جو چیز٫ بات٫ شخصیت٫ نظریہ اور ملک
امریکی پالیسیوں کے خلاف ہو اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ اس کے مفادات کے حق میں نہیں۔

اچھا ویسے امریکہ کے مفادات دراصل ہیں کیا؟

سب سے پہلے تو امریکہ کی سپر ویژن برقرار رہے٫ اسرائیل ناصرف محفوظ رہے بلکہ دن بدن پھلے اور پھولے تاکہ گریٹر اسرائیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہو اور اسلام یا اسلامی ممالک کسی صورت وہ طاقت نہ حاصل کر سکیں جو ماضی میں ان کو حاصل تھی۔یہ ہے امریکی مفادات کا وہ نچوڑ جس کے اردگرد رہ کر امریکہ کی ساری سیاسی و عسکری پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں۔

میں پھر کہوں گا کہ اگر کسی بھائی کو یہ غلط فہمی ہو رہی ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے کے لئے خطے میں آکر بیٹھا ہے یا کسی بھی وقت امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران پر حملہ کریں گے یا ایران جوابی کارروائی میں امریکا یا اسرائیل پر کوئی شدید حملہ کرے گا تو وہ یہ غلط فہمی دور کر لے کہ ایسا ہوتا ہوا فی الحال نظر نہیں آتا۔

وہ پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ “کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو”٫ اس وقت خطے میں “ساس” مطلب کہ امریکہ جو کچھ بھی “بیٹی” یعنی ایران کو سنا رہا ہے وہ دراصل “بہو” یعنی کے سعودی عرب اور پاکستان کو سنا اور جتا رہا ہے۔

مجھے اس بات پر ایک سو ایک فیصد یقین ہے کہ امریکہ ناک ناک تنگ آچکا ہے پاکستان کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت اور سی پیک کے بعد متوقع معاشی ترقی کو بھانپ کر لہذا اب امریکا کھل کر نہ سہی پر کسی حد تک جتا کر پاکستان کے سر پر بیٹھنے کے لئے خلیج میں اترا ہے کہ”بھائی تم میری باتوں کو یا شورشرابے کو دور کے ڈھول سہانے سمجھ کر کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔”

مجھے ذاتی طور پر یہ لگتا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کو اس صورتحال کا اندازہ تھا اسی وجہ سے ان کے درمیان گزشتہ چھ سے آٹھ ماہ میں ہر طرح کا تعاون اور قربتیں بڑھی ہیں۔باقی اگر کسی کو ایک فیصد بھی یہ بات حقیقت لگتی ہے کہ امریکہ ایران پر جنگ مسلط کرنے کے لیے آیا ہے یا محدود پیمانے کا حملہ کرے گا تو چلو دیکھ لیتے ہیں پھر۔

بیس سال تو مجھے ہوگئے ہیں یہ سنتے اور پڑھتے ہوئے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے والا ہے۔اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو پھر یہ واقعی ایک بریکنگ نیوز ہوگی اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بریکنگ نیوز آپ کو اور مجھے کب اپنے ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”ایران اور امریکہ, اسلامک بلاک اور سی پیک۔۔۔۔ بلال شوکت آزاد

  1. “بےشک میری قبر پر آکر پیشاب کر دینا اگر امریکہ یا اسرائیل کبھی بھی ایران پر حملہ کرے۔”
    جنرل حمید گل مرحوم کے اس جملے کا کیا حوالہ ہے؟

    1. نوٹ: اوپر حمید گل سے منسوب بات غلط اور غیر مصدقہ ثابت ہونے پر اسے میری وال سے حذف کردیا گیا ہے اور میں اپنی اس غلطی پر شرمندہ ہوں کہ مجھے جس سورس کے منہ سے یہ بات سننے کو ملی انہوں نے غلط بیانی سے کام لیا کہ یہ وہ متنازعہ بیان حق نواز جھنگوی سے منسوب ہے۔ دل آزاری کے لیئے معذرت اور میں مکالمہ کی انتظامیہ سے بھی معذرت کرکے اسے حذف کروادوں گا۔ شکریہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *