صحرائی سرگوشیاں (حصّہ سوم )-علی عبداللہ

عبداللہ کا خط

زہرہ،
میں اب بھی اسی صحرا میں ہوں مگر اب یہ صحرا اجنبی نہیں لگتا۔ ریت کے ذروں میں بھی ایک ترتیب ہے، ہوا کے بہاؤ میں بھی ایک طمانیت سی ہے۔ پہلے میں راستہ ڈھونڈتا تھا،
اب میں ریت کے ساتھ چلنے لگا ہوں۔ مجھے احساس ہوا ہے کہ سکون کسی منزل میں نہیں، بلکہ قبولیت میں ہے۔
جو کچھ ہے، وہی کافی ہے۔ جو نہیں ہے، وہ شاید ہونا بھی نہیں چاہیے تھا۔ آگہی کے بعد خاموشی کا یہی پہلا سبق ہے۔

عبداللہ
—————————–

زہرہ کا جواب

عبداللہ،
آپ کے خط میں اب کوئی اضطراب نہیں، ایسا لگتا ہے آپ نے اندر کے شور کو سنبھال لیا ہے۔ میں نے بھی جان لیا ہے کہ الفاظ صرف ترجمہ ہیں، اور کچھ کیفیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں زبان چھو نہیں سکتی۔ اب میں کم بولتی ہوں، زیادہ دیکھتی اور محسوس کرتی ہوں۔ پانی کے بہاؤ کو، پتوں کی جنبش کو، اور کبھی کبھی اپنے دل کے دھڑکنے کو بھی۔
کیا یہ سکوت ہے؟ یا یہ وہ خاموش آگہی ہے جو آپ کہا کرتے تھے؟

عبداللہ
—————————–

عبداللہ کا دوسرا خط

زہرہ،
سکوت وہ نہیں جو آواز کے بعد آتا ہے، بلکہ وہ ہے جو آواز کے بغیر بھی سنائی دے۔ اب میں جب صبح سورج کو طلوع ہوتے دیکھتا ہوں،
تو لگتا ہے کوئی لفظ میرے اندر سے ہٹ گیا ہے ،جیسے بوجھ ہلکا ہو گیا ہو۔ شاید انسان کے دل میں ایک ایسا مقام ہوتا ہے جہاں “جاننا” ختم ہو کر “ماننا” بن جاتا ہے۔
میں اب سوال نہیں کرتا۔ جو سمجھ نہیں آتا، اسے بھی خدا کی بات سمجھ کر قبول کر لیتا ہوں۔ یہی شاید خاموشی کا نخلستان ہے۔

عبداللہ
—————————-

زہرہ کا تیسرا خط

عبداللہ،
میں نے کل رات چاند کو دیکھا۔ پہلے کبھی ایسا نہیں لگا کہ چاند بھی سنتا ہوگا۔ مگر کل لگا جیسے وہ کسی دیرینہ راز سے واقف ہے۔ میں نے دل ہی دل میں کہا، “اگر آگہی نے سکون چھینا تھا، تو خاموشی نے لوٹا دیا۔”
میں اب خود سے بھاگتی نہیں۔ میرے اندر جو اداسی تھی، وہ اب رکاوٹ نہیں، رہنما بن گئی ہے۔ میں نے اسے سمجھ لیا ہے کہ وہ دراصل خدا کی قربت کا سایہ ہے۔

زہرہ
—————————— عبداللہ کا چوتھا خط

زہرہ،
جب انسان خود کو سمجھنے لگتا ہے،
تو اسے دوسروں سے کوئی شکوہ نہیں رہتا۔ تم نے درست کہا، اداسی رہنما بن جاتی ہے۔ وہ ہمیں اس طرف لے جاتی ہے جہاں محبت خاموشی میں ڈھل جاتی ہے، اور دعا لفظوں کے بغیر قبول ہونے لگتی ہے۔
میں نے محسوس کیا ہے، کہ اب میرے خیالات نہیں لکھتے خود خاموشی میرے اندر سے تحریر بن کر نکلتی ہے۔

عبداللہ
—————————-

زہرہ کا آخری خط

عبداللہ،
اب شاید ہم دونوں اسی نقطے پر پہنچ چکے ہیں جہاں فاصلہ محض ایک نظریہ رہ گیا ہے، اور ہر رشتہ، ہر احساس، ہر دریافت ایک وحدت میں گھل گیا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں آگہی، محبت اور سکوت ایک دوسرے کے محور میں داخل ہو جاتے ہیں؛ جہاں الفاظ اپنی ظاہری شکل کھو دیتے ہیں، مگر ان کے مفہوم کی گہرائی روح کے ہر ذرے میں محسوس ہوتی ہے۔

میں نے اپنے اندر ایک نخلستان دیکھا ہے؛ نہ زمین کی طرح محدود، نہ خواب کی طرح ناپید، بلکہ ایک ایسا داخلی عالَم جو شعور، تجربہ اور قبولیت کا عکس ہے۔ یہاں ہر اداسی علم کی پہلی منزل ہے، ہر سکوت فہم کا پہلا راز، اور ہر دریافت انسان کی داخلی آزادی کا مظہر۔ صحرا، جو کبھی خالی لگتا تھا، دراصل داخلی شعور کا ایک عکس ہے، جہاں ریت کے ہر ذرّے میں وجود کی حقیقت اور وقت کی لامحدودیت جھلکتی ہے۔

اب میں جان چکی ہوں کہ آگہی صرف جاننے کا نام نہیں، بلکہ اپنے وجود کے ساتھ مصالحت، دنیا کے ساتھ ہم آہنگی، اور حقیقت کو اپنے شعور میں سمونے کا عمل بھی ہے۔ اور اسی سکوت سے، جو نہ بولتا ہے، نہ سنبھالتا ہے، بلکہ محض موجود ہوتا ہے، ایک ہی فکر کشید ہوتی ہے؛ وہ یہ کہ زندگی کا سب سے عمیق علم وہ ہے جو لفظوں کے بغیر محسوس کیا جائے، اور سب سے بڑی طاقت وہ ہے جو دریافت کے بعد خاموشی میں قائم رہے۔
مجھے الفاظ جوڑنے نہیں آتے اب- شاید میں اب اور خط نہ لکھ پاؤں- میری خاموشی ہی ان خطوط کا جواب ہو گی اگر آپ سن پائے تو۔۔۔

زہرہ
———————- –
اس سارے مکالمے کا آخری خط

زہرہ،

تمہارا آخری خط میرے اندر ایک طویل سکوت بن کر اترا ہے- ایسا لگا جیسے کسی نے وقت کے شور میں آہستگی سے روشنی کا دیا رکھ دیا ہو۔ تم نے جو کہا، وہ پڑھا نہیں محسوس کیا ہے میں نے- کیونکہ کچھ تحریریں آنکھ سے نہیں، شعور سے پڑھی جاتی ہیں۔

تم کہتی ہو کہ ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں فاصلہ صرف ایک نظریہ رہ گیا ہے۔ میں اب سمجھا ہوں کہ فاصلہ کبھی دو وجودوں کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ دو ادراکوں، دو درجوں کی آگہی کے درمیان ہوتا ہے۔ جب دونوں شعور ایک ہی سمت میں سانس لینے لگیں، تو تمام فاصلوں کے معنی بکھر جاتے ہیں۔

تم نے اپنے اندر نخلستان دیکھا- میں نے بھی دیکھا ہے، مگر میرے نخلستان میں الفاظ اُگتے ہیں۔ میں اب جان گیا ہوں کہ خاموشی منزل نہیں، مبدأ ہے- یہ وہ پہلا لمحہ ہے جہاں معنی جنم لیتے ہیں، اور لفظ شکل پاتے ہیں۔ تم نے کہا تم مزید خط نہیں لکھ پاؤ گی، مگر میں نے لکھنا نہیں چھوڑا۔ میں نے سیکھ لیا ہے کہ ہر نیا حرف دراصل پرانے سکوت کی توسیع ہے۔

زہرہ، میں جان گیا ہوں کہ تخلیق کا عمل خاموشی سے پیدا ہوتا ہے، مگر خاموشی میں ختم نہیں ہوتا۔ یہ ایک دائرہ ہے؛ ہر اختتام اور ہر آغاز کی نئی صورت۔ تمہاری خاموشی میرا نیا حرف ہے، تمہارا توقف میرا تسلسل۔ میں لکھتا رہوں گا تمہارے لیے نہیں، بلکہ اس آگہی کے لیے جو تمہارے وسیلے سے میرے اندر روشن ہوئی۔ میں لکھوں گا تاکہ وہ سکوت جس کا تم نے ذکر کیا، لفظوں میں سانس لے سکے، اور زمانہ اسے سن سکے۔

اور اگر کبھی یہ تحریریں کسی اور کے ہاتھ لگیں، تو وہ سمجھ لے کہ یہ خطوط ایک عورت کے نام نہیں، بلکہ اُس روشنی کے نام ہیں جو انسان کو خود سے ملا دیتی ہے۔

julia rana solicitors

عبداللہ۔۔۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply