سی ایم پنجاب کسان کارڈ بمقابل بے نظیر ہاری کارڈ /اطہر شریف

ہر وقت پنجاب کی ترقی کا الاپ کیا جاتا ہے سندھ کے متعلق منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے اب مریم نواز شریف نے سی ایم کسان کارڈ کا اعلان کیا ہے
ہم اس کا تقابلی جائزہ بے نظیر ہاری کارڈ سے اعداد و شمار سے کرتے ہیں
پہلے سندھ کے بے نظیر ہاری کارڈ کا جائزہ لیتے ہیں –

، ابتدائی منصوبہ کے ساتھ 1-25 ایکڑ کے حامل 298,000 کسانوں کو کارڈ جاری کرنے کا منصوبہ ہے۔ کچھ رپورٹس بتاتی ہیں کہ 80,000 نئی رجسٹریشن کارڈ جاری کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دریں اثنا، محکمہ کی اپنی ویب سائٹ پر 1.4 ملین کسانوں کے ہدف ہے۔

سندھ حکومت نے ایک بڑا اعلان کرتے ہوئے کا بے نظیر ہاری کارڈ متعارف کرادیا۔ 55.9 بلین سبسڈی پروگرام، جسے “خوش حال کسان” (ہمارے کسان خوش ہوں گے) کے نام سے مشہور ہیں۔ ااس اسکیم کے تحت 400,000 کسانوں اور 22.6 لاکھ ایکڑ اراضی کا اندراج کیا گیا ہے۔

بے نظیر ہاری کارڈ کے ذریعے ہر رجسٹرڈ کسان ڈی اے پی کھاد کے ایک تھیلے اور یوریا کے دو تھیلے کا حقدار ہے۔ مارکیٹ کے اندازے کے مطابق ڈی اے پی کے 50 کلو تھیلے کی قیمت روپے ہے۔ 12,430-12,610 اور یوریا روپے۔ 5,040–5,080۔ اعلان کردہ استفادہ کنندگان میں ان اخراجات کو ضرب دینے سے سبسڈی کے بڑے اعداد و شمار میں ترجمہ ہوتا ہے:
اس سے ایک کاشتکار کو22770 روپے کا فائدہ ہوگا

بے نظیر ہاری کارڈ کے ذریعے، ہر رجسٹرڈ کسان کو حاصل کرنا ہے:

ڈی اے پی کھاد کا 1 بیگ، اور
یوریا کھاد کے 2 بیگ
موجودہ مارکیٹ ریٹ اس کے ارد گرد ہیں:

یوریا کے لیےروپے 2.16 بلین (400,000 کسانوں کے لیے)

ڈی اے پی کے لیےروپے 4.97 بلین (400,000 کسانوں کے لیے)
۔
مجموعی طور پر، 22.6 لاکھ ایکڑ پر کھاد کی امداد کی قیمت تقریباً روپے ہے۔ 49 ارب۔جیسے ہی جنوبی سندھ میں گندم کی کاشت کا موسم شروع ہو رہا ہے، حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ کھاد کی
سبسڈی کسانوں تک جلد اور منصفانہ طریقے سے پہنچے۔

کلیدی فوائد

زرعی آدانوں (بیج، کھاد) پر سبسڈی۔
بلا سود قرضوں اور مالیاتی خدمات تک رسائی۔
دھوکہ دہی میں کمی کے لیے بایومیٹرک شناخت اور فائدہ اٹھانے والوں کی تصدیق۔
آن لائن رجسٹریشن اور کسانوں کی خدمات کے لیے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم۔
بنظیر ہاری کارڈ کیا ہے؟
بنظیر ہری کارڈ سندھ حکومت کے محکمۂ زراعت کا ایک اقدام ہے جو چھوٹے کسانوں کو بیج اور کھاد پر سبسڈی، سُود سے پاک قرضے، بایومیٹرک تصدیق اور بینک/اے ٹی ایم سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام کا ہدف پورے سندھ میں 1.4 ملین کسانوں کی رجسٹریشن ہے۔

اہم فوائد

زرعی ان پٹس (بیج، کھاد) پر سبسڈیز۔
سود سے پاک قرضے اور مالی خدمات تک رسائی۔
بایومیٹرک تصدیق برائے فراڈ کم کرنا۔
آن لائن رجسٹریشن اور کسانوں کے لیے ڈیجیٹل پلیٹفارم۔
اہلیت

سندھ کے چھوٹے اور قلیل المدت کسان۔ مکمل شرائط و ضوابط اور درجِ نام کا طریقہ کار آفیشل پورٹل پر دستیاب ہے۔

ضروری دستاویزات

شناختی کارڈ (CNIC)
زمین کی ملکیت یا کاشت کا ثبوت
حالیہ پاسپورٹ سائز تصویر
مزید دستاویزات جو پورٹل مانگے
ہیلپ لائن اور رابطہ
۔ ہر 20 دن بعد اضافی 50,000 کارڈ تقسیم کیے جائیں گے۔بے نظیر ہاری کارڈ کے اہم فوائد
بے نظیر ہری کارڈ کسانوں کو مالی امداد اور مدد فراہم کرے گا:

بیجوں، کھادوں، کیڑے مار ادویات اور جدید زرعی مشینری پر سبسڈی۔
قدرتی آفات کے دوران فصلوں کی بیمہ اور مالی امداد۔
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے لیے بلا سود قرض۔
مہر نے بتایا کہ سندھ حکومت پہلے ہی روپے تقسیم کر چکی ہے۔ 2022 کے سیلاب سے متاثرہ تقریباً 400,000 کسانوں کے لیے 19 ارب روپے کی مالی امداد۔ بے نظیر ہری کارڈ براہ راست ضروری وسائل فراہم کرکے کسانوں کی مدد کو مزید ہموار کرے گا۔

دوسری جانب پنجاب نے بھی سی ایم کسان کارڈ کے نام سے ایک پیکج اناؤنس کیا ہے جو اشتہارت کے مطابق 150 ارب روپے میں مشتمل ہے جس میں ایک انسان کو ایک ایکڑ سے لے کر ساڑھے 12 ایکڑ تک کے ملکیت کے کاشت کار کو ایک ایکڑ سے پانچ ایکڑ تک قرضہ مل سکتا ہے جس میں فی ایکڑ 30 ہزار روپے اس کی حد 30 ہزار روپیہ کم از کم زیادہ زیادہ سے زیادہ پانچ ایکڑ پر ڈیڑھ لاکھ روپیہ قرض حاصل کر سکتا ہے یہ قرضہ چھ ماہ کے لیے بغیر سود کے ہے
اس قرضے کو کاشتکار اپنی بیج سپرے اور ذرائع حالات وغیرہ میں استعمال کر سکتا ہے
اب ہم بے نظیر ہاری کارڈ اور سی ایم کسان کارڈ کا قابل جائزہ لیتے ہیں اعداد و شمار کی روشنی میں
پنجاب کی آبادی 2023 کے سینسز کے مطابق 12 کروڑ 76 لاکھ 88 ہزار 922 جب جو کہ کل پاکستان کا 52.8 % فیصد ہے جبکہ سندھ کی ابادی پانچ کروڑ 56 لاکھ 96 ہزار 147 !جو ٹوٹل پاکستان کا پاکستان کا 23.07% فیصد ہے-
پنجاب کا زرعی رقبہ 41.21 ملین ایکڑ ہے اور سندھ کا زرعی رقبہ قابل کاشت 8.11 ملین ایکٹر ہے جو کہ پنجاب سے 5 گنا کمُ ہے-پنجاب کا رقبہ سندھ سے 508% پرسنٹ زیادہ ہے اس کے باوجود پنجاب کا پیکج 150 ملین روپے اور سندھ کا 55.9 ملین روپے ہے اس کی اگر پر ایکڑ کاسٹ نکالی جائے تو تین اشاریہ 62 روپے پنجاب نے فی ایکڑ کے لیے لاگت رکھی ہے اور سندھ کی اس سے دوگنی 6.99 روپے فی ایکڑ کی کاسٹ اتی ہے۔پنجاب میں کاشتکاروں کی تعداد 3.8چ4 ملین اور سندھ میں ایک اشاریہ پانچ ملین ہے -پنجاب میں 52 لاکھ 49 ہزار 800 فارم ہیں اس کے مقابلے میں سندھ میں تقریبا” 3 گنا کم 18 لاکھ 26 ہزار 420 فارم ہے
اب دیکھنے کی بات ہے پنجاب وسائل و رقبہ کے حساب سے سندھ سے زیادہ ہی لیکن اپنے چھوٹے کا شتکاروں کو سندھ کے مقابلے میں کم سہولیات دے رہا ہے لیکن پروپیگنڈہ صرف سندھ کے خلاف ہوتا
ہے
SOURCE:Agriculture department Punjab
Bank of Punjab
Benazir Hari card gov pk
The agriculture census 2024
INDEPENDENT.KHUSHAAL KISAN SINDH

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply