نسل در نسل/ حبیب شیخ

میں صبح سات بجے اپنے دوست کے گھر ناشتہ کر کے اور اخبار پڑھ کر باہر نکلا، اور کھیتوں کی طرف چل پڑا۔ ابھی سورج کی تمازت کم تھی، تھوڑی ہی دیر میں آگ برسنی شروع ہو جائے گی ۔ دور مجھے چھوٹے چھوٹے جسموں کے انسان کچھ کام کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ میں قریب پہنچ کر ان کا مشاہدہ کرنے لگ گیا۔ مفلسی اور مشقت ان کا بچپن چوری کر چکی تھی۔ یہ میرے سامنے بھاولپور کے ایک پسماندہ علاقے کے دس بارہ سال کے بچے، کیا انہیں لکھنا پڑھنا آتا ہے؟ کیا انہیں اپنے علاقے سے باہر کی دنیا کے بارے میں کچھ پتا ہے؟ ان بچوں کی آرزوئیں کیا ہیں؟ کیا ان کے ذہن میں سوالات آتے ہیں؟
میں نے ایک بچے کو اشارے سے بلایا۔ وہ کام چھوڑ کر میری پاس ڈرتے ڈرتے آیا۔
”کیا بات ہے صاب جی؟“
”تمہارا نام کیا ہے؟“
”جی میرا نام سعید ہے۔“
”میں نے تم سے کچھ پوچھنا ہے۔“
”ہاں جی۔“
”تمہیں لکھنا پڑھنا آتا ہے؟“
”نہیں جی، میں کبھی اسکول نہیں گیا۔ بس قرآن پاک پڑھا ہے۔“
”تم اسکول کیوں نہیں گئے؟“
”ماں باپ نے بچپن ہی سے ادھر کام پہ لگا دیا۔ صبح تڑکے کام شروع کرتا ہوں اور دوپہر کے وقت گھر چلا جاتا ہوں۔“
”تمہاری بہن یا بھائی، کوئی اسکول گیا ؟“
”نہیں جی۔ ہم پانچ بہن بھائی ہیں۔ ہمارے ہاں کوئی اسکول نہیں جاتا۔“
مجھے سوچنے لگ گیا کہ کس طرح بات کو آگے بڑھاؤں۔
”تمہیں پتا ہے کہ انٹرنیٹ کیا ہوتا ہے۔“
اس نے فورا پر جوش ہو کر جواب دیا۔ ”ہاں! ہاں! یہ میرے ابا کے فون میں ہے۔ میں کبھی کبھی اس سے فلم دیکھ لیتا ہوں۔“
”اور کچھ نہیں کرتے فون پہ ؟“ میری نظر بار بار اس کے معصوم چہرے کی طرف جا رہی تھی۔
سعید نے ذرا سوچ کر جواب دیا۔ ”اور تو مجھے پتا نہیں ، بس فلموں کا پتا ہے۔“
”تم بڑے ہر کر کیا کرو گے؟ “
”میرا باپ مزارع ہے۔ میں بھی مزارع بن جاوں گا۔“
میں خاموش ہو گیا اور سعید کو حیرانی سے تکتا رہا۔ ایک معصوم بچّہ، قوم کا مستقبل ، آج کے انٹرنیٹ کے دور میں جب علم کی مقدار ہر سال دو گنا بڑھ جاتی ہے یہ بچہ دنیا سے سینکڑوں سال پیچھے ہے۔ انٹرنیٹ نے تعلیم کی دستیابی کو چار سو مفت پھیلا دیا ہے۔ لیکن یہ بچہ سعید اب بھی اس تعلیم کی بنیادی ضرورت اور بنیادی حق سے محروم رہے گا، اور شاید اس کی اگلی نسل بھی۔ میں دنیا کے حالات کا مطالعہ کرتا ہوں، پھر تجزیہ کرنے کے لئے مزید پڑھ سکتا ہوں ۔ فن اور سائنس کے علم کی ہر شاخ کی پہنچ میری چند انگلیوں کی حرکت کی محتاج ہے ۔ لیکن یہ سعید! ایک انسان جس کی زندگی کا مقصد علامہ اقبال کے نزدیک خودی کا حصول ہونا چاہئے، اسی اقبال کے خطّے میں انسان خود ہی سے نا آشنا ہیں اور شاید ساری عمر ایسے ہی گزار دیں گے۔
میں وہاں کھڑا کیا کیا سوچ رہا تھا۔ مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ سعید کب وہاں سے جا چکا تھا۔ سارا دن سعید میرے ذہن پہ سوار رہا۔ رات کو جب بھی میری آنکھ کھلی، تَو ہر طرف مجھے سعید اپنے میلے کچیلے کپڑوں میں مسکراتا ہوا نظر آیا۔
اگلی صبح میں اپنے زمین دار دوست کے ساتھ ناشتہ کر رہا تھا۔ میں نے خود ہی بات چھیڑ دی۔ ”یار، یہ ہاریوں کے بچے تعلیم سے کیوں محروم ہیں؟“
اس نے پراٹھے اور انڈے کا نوالہ بناتے ہوئے کہا۔ ”تمہیں پھر دنیا کا غم لگ گیا! بھئی یہ لوگ نسل در نسل ایسے ہی رہ رہے ہیں۔ یہاں کوئی اسکول نہیں ہے اور نہ ہی یہ لوگ اپنے بچوں کو تعلیم دینا چاہتے ہیں یار، اسے کہتے ہیں دنیا ۔“
”لیکن تم کچھ تو ان کی لکھائی پڑھائی کا بندوبست کر سکتے ہو۔ “
میرے دوست نے کوئی جواب نہیں دیا۔
مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply