زہرہ کا پہلا خط
عبداللہ!
آپ نے جو تحریر بھیجی تھی، اس پر میں کچھ کہہ نہیں پائی۔ نہ تعریف، نہ تنقید، بس ایک خلا سا محسوس ہوا۔ گویا لفظ میرے اندر اترنے سے پہلے ہی تحلیل ہو گئے ہوں۔ خاموشی نے گفتگو پر قبضہ کر لیا ہے، شاید کبھی کبھی رائے نہ دینا بھی ایک طرح کی رائے ہوتی ہے۔
بس یہ سمجھیں کہ اسی خاموشی میں ہی میں نے سب کچھ کہہ دیا ہے، جو الفاظ میں کہنا ممکن نہ تھا۔۔
زہرہ۔۔۔
—————–
عبداللہ کا جواب
زہرہ!
اگر تمہارے پاس کہنے کو کچھ نہیں تو پھر اس تحریر کے وجود کا حاصل کیا ہے؟ میں الفاظ کو اس لیے نہیں لکھتا کہ وہ تعریف پائیں، بلکہ اس لیے کہ وہ خاموشی ہلکی سی آہٹ پیدا کر سکیں۔ مگر تمہاری یہ خاموشی، یہ تو خود ایک صحرا بن گئی ہے۔
تم کہتی ہو، میرے خیالات یکساں ہیں۔
میں کہتا ہوں، یہ آوارہ خیالات ہیں، میں کسی نظم کا پابند نہیں ہوں- تم اسے لاکھ یکسانیت کہو، مگر میں تو صرف وہی لکھ سکتا ہوں جو دل کے قریب ہو۔
میرے اندر جو بے ترتیبی ہے، وہی میری اصل شناخت ہے۔
عبداللہ
——————-
عبداللہ کا دوسرا خط
زہرہ،
صحرا میں رہنے والے اکثر یہی کہتے ہیں کہ فاصلہ انہیں سکون دیتا ہے۔ مگر یہ فاصلہ دراصل اندر کے شور کو چھپاتا ہے۔ میں صبح جب ٹیلوں کے بیچ سے گزرتا ہوں تو وہ ایک ترتیب میں نظر آتے ہیں، مگر شام کو واپسی پر سب بدل چکے ہوتے ہیں۔ یہی زندگی ہے ایک بار دیکھو تو خوبصورت، دوبارہ دیکھو تو اجنبی۔
اور شاید۔۔۔ “شاید” ہی زندگی کا سب سے سچا لفظ ہے۔ نہ مکمل یقین، نہ مکمل انکار۔
عبداللہ
– —————–
زہرہ کا جواب
عبداللہ،
“شاید” میرے لیے محض ایک کمزور پناہ گاہ ہے۔ میں حقیقت میں رہتی ہوں۔ خیالات کو خواب نہیں بناتی۔ میں نے دیکھا ہے، فکشن لکھنے والے اکثر وہی زندگی لکھتے ہیں جو وہ جینے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اور میں نے اب خوابوں کی زندگی ترک کر دی ہے۔ کیونکہ خوابوں میں مجھے خود کو کھونا پڑتا تھا،اور حقیقت میں اب میں خود کو پا رہی ہوں۔
زہرہ
———————-
عبداللہ کا تیسرا خط
زہرہ،
تم حقیقت کی بات کرتی ہو، مگر حقیقت وہ نہیں جو دکھائی دے، بلکہ وہ ہے جو دکھنے کے بعد بھی چھپ جائے۔ میں مایوس نہیں ہوں، میں صرف پُرسکون ہوں، اتنا کہ اب تبدیلی بھی کوئی فرق نہیں ڈالتی۔
اور ہاں۔۔۔تم کہتی ہو، تم بدل گئی ہو؟
بدل جانا کوئی کارنامہ نہیں، اصل بات تو یہ ہے کہ بدلنے کے بعد بھی انسان خود سے مل پائے۔
عبداللہ
—————- —–
زہرہ کا پانچواں خط
عبداللہ،
میں خود سے مل چکی ہوں اسی لیے اب فکشن نہیں لکھ سکتی۔ جب انسان حقیقت کی تہہ میں اتر جائے، تو تخیل کی زمین بانجھ ہو جاتی ہے۔
آپ کہتے ہیں یہ“فطری اداسی” ہے، مگر خدا نے کبھی انسان کو اداس پیدا نہیں کیا۔ ہاں، اسے بے صبرا بنایا ہے، تاکہ وہ جاننے، کھوجنے، سمجھنے کی کوشش کرے۔
یہی تلاش کبھی کبھی اداسی بن جاتی ہے۔
مگر وہ اداسی علم کا پہلا زینہ ہے۔
زہرہ
——————
عبداللہ کا آخری خط
زہرہ،
تم ٹھیک کہتی ہو، اداسی مایوسی نہیں، آگہی کی علامت ہے۔ جو کچھ ہم جان لیتے ہیں، وہ ہمیں سادہ نہیں رہنے دیتا۔ آگہی، انسان سے اس کا سادہ پن چھین لیتی ہے۔ اور پھر ہم یا تو بہاؤ میں بہہ جاتے ہیں، یا دریا کی تہہ میں اتر کر خود کو کھوجنے لگتے ہیں۔
میں اسی کھوج میں ہوں۔ خود سے آگاہ ہونا شاید زندگی کا سب سے طویل سفر ہے۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں