داستانِ زیست۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط21

گزشتہ قسط:

ہم اپنے ڈیرے پر پہنچے ، پنڈی جانے کو تیار شیار ہو کے، پرفیوم لگا کے نکلے۔ صاحب کے گھر گھی چھوڑا، تو وہاں دور کی رشتہ دار ممانی بمعہ دختر پنڈی جانے کا سن کے لفٹ نشین ہو گئیں، سکستھ روڈ پاس ان کے گھر رکے، ممانی چائے پی کے جانے کا حکم صادر کرتے اندر چلی گئی، انکی بیٹی اور میں ڈیوڑھی میں پارک کار کے ساتھ سے گھسم گھسا کے صحن میں گئے۔ اس بیس فٹ کے سفر میں بیس سال کی رفاقت طے ہو گئی۔ خوشبو سے شباب کی لؤ دہکی، اتصال نے وصال کی امنگ جگائی ۔ ممانی سے دس بستہ معذرت کی ،کزن کے سر پہ  شفقت سے ہاتھ پھیرا ۔
اور ہم مسرور موڈ میں پنڈی صدر انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل پہنچے جہاں ہمارے کولیگ چوہدری اور ڈاکٹر کی شاید پی اے ریسپشن پر ہمارے منتظر تھے۔
ہم نے نکٹائی  ٹھیک کی۔ گردن اکڑائی ، بالوں کو ہاتھ پھیر کے سیٹ کیا۔ کوٹ کی سلوٹ ہٹائی ، تن کے چلتے ، گارڈ کے سلوٹ کا سر ہلا کے جواب دیتے ، پراپر اسلام آباد کے افسرانہ سٹائل میں ان دونوں کے ہمراہ لفٹ میں سوار ہوئے   ۔ خاتون از خود ہمارے بائیں، چوہدری اور لفٹ بوائے سامنے تھے

قسط 21:

چوتھے فلور پر لفٹ رکنے اور دروازہ کھلنے تک ہم ذہنی طور پر الرٹ ہو چکے تھے۔ گیلری میں ہی تھے کہ ڈاکٹر عربی قندورہ یا جُبہ پہنے اپنے کمرے سے نکل آیا۔ اونچی آواز میں بولا ، ویلکم ویلکم یور ایکسیلنسی ، اوہ اٹ از مائی آنر ۔۔۔
کمرے سے دو تین بندے بھی گیلری میں نکلے تو ڈاکٹر نے ہٹو بچو کا شور مچا دیا، کمرے میں داخل ہوئے اندر کچھ اور لوگ بھی تھے، ڈاکٹر نے  رعب سے سب کو چلے جانے کا   کہا، ایمبیسی کے بڑے افسر آئے ہیں، تم سب جاؤ کل  صبح آ جانا، ان کو دھکیلتے ہوئے کمرا خالی کرا لیا، وہ لوگ جیسے نکل رہے تھے ایک جوان نے مجھے سلام کیا ۔ اس وقت تو اس ہما ہمی میں سمجھ نہ آئی  کہ وہ کون ہے، بعد میں یاد آیا کے ہارلے سٹریٹ میں ملازمت کے دوران اس وقت سیکرٹری بورڈ کے پی اے ، شبیر۔۔ جس نے بعد میں صدر کے ہوٹل شالیمار میں ٹریول ایجنسی کھولی تھی ، جہاں ہمارا آنا جانا تھا وہاں کام کرتا تھا۔ باقی لوگ بھی پنڈی کے ٹریولنگ ۔ ٹکٹنگ کا کام کرنے والے لگے تھے۔

بی بی نے سٹنگ ایریا میں صوفہ کشن صحیح کیے  ، سنٹر ٹیبل پر پڑے کاغذات سمیٹے ، اور ڈریسنگ ٹیبل سے جڑی ڈرنکس ٹرالی جو ٹیبل کا حصہ لگتی تھی موڑ کے رکھی، ڈاکٹر نے الماری سے شیواس کی بوتل نکالی اور چوہدری کو پکڑاتے ہوئے  کہا،
سر جی یُو اوپن دی سیل ۔۔
ہمارے ریفلیکسز ہائی  الرٹ پر تھے۔ محسوس کر لیا کہ ہمارا سین کمرے سے بندے نکالنے تک تھا۔
چوہدری نے چار ڈرنکس بنا دیں ، مطلب وہ خاتون بھی مے کش تھی۔ دو تین گھونٹ لے کے ہم واش روم گھس گئے۔۔
آئینہ دیکھا تو چہرے پر سخت تناؤ تھا، گیلے تولیے  سے منہ سر کو ٹھنڈا کیا، کنگھی کی ، باہر نکلے تو ڈاکٹر چوہدری کو سمجھا رہا تھا۔۔کہ ایک کمپنی کو چار سو بندے درکار ہیں، ویزے  کے درخواست فارم وہاں سے آئے ہیں۔ ہر فارم کی ناقابل واپسی فیس پانچ ہزار ہے، مکمل ہونے پر دس ہزار مزید لینے ہیں، بقایا پچیس ہزار ویزہ آنے پر لیے  جائیں گے، ٹکٹ بھی امیدوار خریدے گا۔ یوں یہ ایجنٹس بھی فعال تھے، انہیں ٹکٹ بکنے کے ساتھ پانچ ہزار فی کس بھی ملیں گے۔

ہمارے لیے  آفر تھی کہ ہم بھی اپنے دس،پندرہ، بیس بندے بھیج دیں ۔ ہمیں یہ سروس فری ملے گی۔۔۔۔فریش ڈرنکس بنانے کے وقفہ میں ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ آپ تو چکوال سے جتنے چاہئیں بھیج سکتے ہیں ۔۔۔
ہماری بے قراری اب شک میں بدل گئی کہ کچھ نہ کچھ غلط ہے، یا یہ سب فراڈ اور  ڈرامہ ہے۔۔۔
بی بی نے روم سروس سے فرائیڈ فش اور فرائز منگوا لیں۔۔۔
ڈاکٹر کو ہم نے ہنستے ہوئے بتایا کہ اگر چکوال کے بندوں سے پیسے اور پاسپورٹ پکڑوں تو وہ یہ دینے سے پہلے تحصیل چوک پہ  ہمارے بابا جی  کی بیٹھک ،جہاں دن بھر علاقے کے معززین کی محفل ہوتی وہاں جا کر اعلان کریں گے۔
ذرا سی بھول چُوک یا دیر ہوئی  تو اسی چوک میں بزرگ ہماری باجماعت چھترول کر دیں گے، تو مکمل معذرت !

چوہدری نے لقمہ دیا کہ میرے پاس تو روز کوئی  نہ کوئی  نوکری دلانے کو چکوال سے آتا رہتا ہے انکی مدد کر دوں ،باہر بھجوا دوں، ثواب بھی کماؤں ۔۔ میں نے اسے بھی ہنس کے ٹال دیا۔ مزید ڈرنکس سے معذرت کی ۔ کھانے بارے عرض کی کچھ زیادہ کھا لیا ہے، اجازت لی، وہ تینوں بھی شاید  مجھ سے جان چھڑانا چاہتے تھے، واپسی پہ  ہم اکیلے بنفس نفیس  لفٹ سے زمینی فلور پہ  آئے، ہوٹل کی پارکنگ سے کار نکالی ، کچہری چوک سے ائیرپورٹ والے راستے،عطا اللہ سے” چن کِتھاں   گزاری  آئی رات وے، میرا جی دلیلاں تے وات وے”۔۔ سنتے ،سوچتے، جھومتے اسلام آباد اپنے ڈیرے پہ پہنچے تو یوں لگ رہا تھا  کہ  جانے کتنی مسافت  طے کر کے آئے ہیں، ڈاکٹر کی فنکاریاں سوچتے سو گئے۔۔

رات بھر لاشعور اور شعور میں بحث جاری رہی ۔ خواب کہ ڈاکٹر کی بات مانی جائے ۔ بیس بندے بھیجے جائیں تو پندرہ ہزار فی کس مل جائیں تو تین لاکھ میں تو اسلام آباد میں گھر بن سکتا تھا !
صبح بشیر نے بیڈ ٹی بنا کے جگایا۔ چائے پکڑاتے  ہوئے بولا، سر کچھ پریشان لگ رہے ہیں میرے بابا سے حساب نکلوا لیں۔۔
دفتر جانے لگے تو بشیر نے کار نکالی ۔ ہم نے بابا موچی کو سلام کیا۔ خیریت پوچھی ، اس نے جوتا چمکاتے جواب دیا،
صاحب کسی کی جیب بندہ نہ کاٹے تو اس کی جیب خالی نہیں  رہتی۔۔۔۔
اس رمز پہ  غور کرتے ایمبیسی پہنچ گئے۔۔۔ریسپشن والی میزبان بی بی نے بتایا کہ بنک سے کال آئی  تھی وہ لوگ آنا چاہتے ہیں ،
سفیر صاحب کے پاس انکے دفتر میں لیڈی سیکرٹری براجمان تھی، ہم فرسٹ سیکرٹری صاحب کے پاس جا بیٹھے۔
ان سے باتوں میں بنک اکاؤنٹس ٹرانسفر کرنے بارے پوچھا، پتہ چلا کہ اپروول تو تین دن ہوئے آ چکی ہے، بنک والوں کے میٹنگ کے لیے  آنے کی بات کی، انہوں نے کھٹ سے انٹرکام پہ  سفیر صاحب سے عربی میں پوچھا، سفیر صاحب نے کچھ تفصیل پوچھی ہو گی جو میرے پاس ہی ہونی تھی، سیکرٹری صاحب نے کہا کہ میں انکے پاس موجود ہوں !

سفیر صاحب نے دونوں کو اپنے دفتر بلا لیا، ہم انکے گیسٹ لاؤنج میں پہنچے تو لیڈی سیکرٹری انکے کمرے سے نکلی مجھے اس نے خونخوار نظروں سے گھورا، پتہ نہیں  کیوں چند دنوں سے وہ کچھ پریشان تھی۔
بنک والوں کو فون کیا تو وہ دس منٹ میں پہنچ گئے، میٹنگ میں انہوں نے اکاؤنٹ فارم اور کارڈ پر دستخط کرائے جو سفیر صاحب اور فرسٹ سیکرٹری کے ہونے تھے، ہم نے تجویز دی کہ پرانے بنک سے کنورٹیبل اکاؤنٹ سے واپس ڈالر اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کی بجائے اگلی ٹرانسفر سے اکاؤنٹ آپریشن شروع کرنا بہتر ہو گا ، پرانے بنک سے پرانے بزنس ریلیشن یوں ختم کرنا مناسب نہیں ، سفیر صاحب نے بس سر ہلا کے او کے کر دیا، اور حکم دیا کہ میں انہیں چائے پلا کے رخصت کروں تو ہم لوگ میرے دفتر میں آ گئے۔

جی ایم شیخ صاحب نے بریگیڈئیر صادق صاحب سے ملنے کا پروگرام بتایا کہ دو دن بعد وہ انکے اکاؤنٹس کھولنے انکے آفس جائیں گے ، بہتر ہے میں بھی ساتھ چلوں، چائے پی، آپریشن مینجر نے بنک کی ڈائریاں اور کیلنڈر میرے حوالے کیے۔۔کہ سٹاف میں جسے چاہوں دے دوں ،انہیں گیٹ تک چھوڑ کے واپس آیا تو فون آپریٹر نے بتایا کہ گھر سے کال ہے !
ریسپشن کی ایکسٹنشن پہ  وہیں کال لے لی، ہیلو کہا ، تو دوسری طرف لفٹ لینے والی ممانی صاحبہ کی بیٹی بولی ،بھائی  سلام ، میں عطی اوہ عطیہ۔۔۔ لیں امی سے بات کریں ، ممانی نے فائرنگ شروع کر دی۔ چکوال سے تمہارا نمبر لیا،تم پچھلے ہفتے گھر کیوں نہیں  گئے۔ آپا پریشان ہے ، پرسوں اتوار چھٹی ہے، کل دفتر سے سیدھے میرے گھر آنا ،
کھانا پکا کے رکھوں گی، میں اور عطی تمہارے ساتھ چکوال جائیں گی، آپا سے وعدہ کیا  ہے ،تمہیں کان سے پکڑ کے لاؤں گی۔ آپا اماں ہے تمہاری۔ تم کدھر آوارہ گردی کرتے ہو، ماں سے ملنے نہیں  جاتے۔
ریسپشن پہ  موجود مرد و زن میری ہونق شکل دیکھ کر سمجھ گئے ۔ ۔کہ بغیر وقفے کے اتنی لمبی بات کوئی  چاچی۔ مامی ہی کر سکتی ہے، میں نے مناسب سمجھا کہ یس یس کر کے جان چھڑائی  جائے ، جی ٹھیک ۔ ضرور ضرور کہہ کے فون بند کیا، اور گراہم بیل کو دل میں دس گالیاں دیں۔۔۔۔۔لیکن فوراً  ڈیلیٹ کر دیں ۔ کیونکہ تین ماہ سے اپنے پورشن میں فون لگوانے کے لیے  سارے جتن کر بیٹھے تھے ،محکمہ ٹیلیفون کنکشن دینے پر راضی نہیں  تھا۔ اسلام آباد میں کثرت سرکاری ملازمین کی ہے ان کے کوارٹر تک فون لگے ہیں۔
باقی جو عام انسان ہیں انکے لئے ترجیحی لسٹ ہے جس میں ہم سفارت خانے کے لوکل ملازم کسی شمار میں نہیں  آتے۔۔درخواست جمع کروائی  ، ڈیمانڈ نوٹس لینا بھارت کا ویزہ لینے سے بھی مشکل ٹھہرا۔
پنڈی چاندنی چوک ملک صاحب والے گھر فون تھا جسے ہم بلاتکلف استعمال کرتے تو فون کی قدر ہی نہ تھی کہ یہ کیسی نعمت غیر مترقبہ ہے، اسلام آباد شفٹ ہوئے تو دنیا سے کٹ گئے، کال کرنا مسئلہ نہ تھا وہ تو دن میں دفتر سے اور شام کو سُپر مارکیٹ میں دوست کی  دکان سے کرنے کی سہولت تھی، پی سی او بھی کافی تھے جہاں سے کال کی جا سکتی تھی مسئلہ ہمارے ان متاثرین کا تھا جن کو وقت بے وقت ہماری ضرورت پڑتی تو ہم سے بات بھی نہیں  ممکن ہوتی تھی۔

جیسے بنک کی ڈائری ۔ کیلنڈر جب ہم نے لیڈی سیکرٹری کو اس کے دفتر جا کے پیش کرتے خیریت پوچھی تو وہ  پھٹ پڑی۔۔ تمہیں کیا ہے ؟ کوئی  مرے یا جیے ۔۔۔۔ اتنی بڑی مشکل آن پڑی ہے ، بندہ مشورہ ہی کر لیتا ہے ، گھر میں تم نہیں  ہوتے، فون ہے نہیں ۔۔۔۔ ہم نے منہ بسور کے کہا تم کسی کو کہہ کے فون لگوا دو درخواست دے رکھی ہے !

اس نے ڈائری اپنے وینٹی بیگ کے ساتھ رکھی کیلنڈر سائیڈ ٹیبل پہ  سجاتے ہوئے کہا، میں سیریس پرابلم میں ہوں تم شام کو میرے گھر آؤ گے، اکیلے ساتھ کوئی سہیلی نہ لے آنا،
ہم اپنے بارے میں ایسے منفی امپریشن سے پریشان تو ہوئے لیکن دلیل و ثبوت کا موقع نہیں  تھا۔
سفیر صاحب سے اتنی طویل میٹنگ بارے اس وقت پوچھنا آ ،مر کھنی ، گائے مجھے مار کے مصداق ہوتا ۔۔۔۔
چلنے لگے تو آرڈر ایشو ہوا فائیو پی ایم شارپ یُو ول بی ایٹ مائی  ہاؤس ۔۔۔ ہم نے سر تسلیم خم کیا اور بھاگ آئے
ویزہ انچارج چوہدری سے ٹاکرا نہیں  ہوا تھا ، بلکہ ہم کنی کترائے رکھنا چاہتے تھے۔
سیڑھیاں اُترتے آمنا سامنا ہو ہی گیا، ہم نے پوچھا ، ہمارے بعد محفل کیسی رہی، بولے کل تفصیل سے بات ہو گی۔۔۔
ذہن کی آسودگی اور تھکن کم کرنے کو ہم لیڈی ٹائپسٹ کے ڈیسک پر گئے، وہ چھٹی کے انتظار میں اخبار کا فلمی صفحہ دیکھ رہی تھی، سٹول کے سامنے بیٹھ گئے تو بولی ، کیسے ہیں آپ ؟ آج فراغت ہے کیا ؟ اتنے مصروف کیوں رہتے ہیں ؟۔۔۔
ہم نے پسلیوں سے کھلکھلا کے قہقہہ مارا۔ حیران سی ہوئی۔ ۔ ہم نے کہا بی بی کام ۔ کام اور کام ، یار پتہ نہیں  ،ابھی تک ہماری اگلے چار دنوں کی بکنگ ہو چکی ہے !
اب قہقہہ مارنے کی اس کی باری تھی، وہ مسکرائی  بھی نہیں ، بس شرما کے آہستہ سے بولی، شریر ہیں آپ !

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *