“سر ہمارا جوان لڑکا ہے کسی بھی طرح اس کو بچا لیں ہم جتنے پیسے چاہئیں وہ دینے کو تیار ہیں”، یہ کہنا تھا اس باپ کا جو اپنے جوان بیٹے کو ٹھیک ڈیڑھ ماہ پہلے میرے کلینک پر لایا تھا۔ میں نے اس وقت پہلی نظر میں دیکھ کر بھانپ لیا کہ اسے لمف نوڈ کا کینسر (لمفوما) ہے جو اگریسیو لگ رہا تھا اور فوری علاج کا متقاضی تھا۔ علاج شروع کرنے سے پہلے لازمی تھا کہ بائیوپسی ہو جس پر کینسر کی نوعیت کا تعین کر کے اس کے لیے مخصوص دوائی کا فیصلہ کیا جا سکے۔ مگر یہاں سے اصل مسئلہ شروع ہوا! لڑکے کے باپ نے ایک “ڈاکٹر صاحب” کو سوشل میڈیا پر سُن رکھا تھا جن کا کہنا تھا کہ بائیوپسی کرنے سے جب کینسر کو “چھیڑا جائے” تو یہ پھیل جاتا ہے۔ میں نے بہتیرا زور لگایا کہ جناب اس کی گردن، بغل، پیٹ اور دیگر مقامات پر پہلے سے کینسر کی گلٹیاں ہیں، وہ کسی کے چھیڑنے سے نہیں بنی ہیں نہ ان کو مزید پھیلنے کے لیے “چھیڑے جانے” کی حاجت ہے۔ لیکن نہیں، بات نہ بن سکی۔ نیچروپیتھ ڈاکٹر جیت گیا اور ہماری سپیشلائزیشن ہار گئی۔
پھر یہی کیس ڈیڑھ ماہ روحانی اور دیسی و نیچری علاج کے بعد ہمارے پاس دوبارہ آیا۔ لڑکا آخری سانسوں پر تھا۔ باپ کہہ رہا تھا کچھ بھی کر کے بچا لو، لیکن دیر ہو چکی تھی۔ میں نے احترام کے ساتھ فیس واپس کروائی اور والد سے دو بول ہمدردی کے بول کر انہیں سمجھا دیا کہ اب اس بچے کا علاج میرے پاس بھی نہیں ہے۔
دل اس بات پر دُکھا کہ لڑکے کا مرض سو فیصد قابل علاج تھا۔ بلکہ اتفاق سے جس دن میں نے اس بچے کے باپ کو کلینک سے رخصت کیا، اسی دن میرے پاس بالکل اسی مرض (لمفوما) کو کامیابی سے شکست دے چکنے والا میرا ایک اور مریض بھی رُوٹین فالو اپ کے لیے آیا تھا جس کی اجازت سے اس کی بائیوپسی رپورٹ (جس میں لمفوما کا ثبوت موجود ہے) اور ہم سے علاج کروانے کے بعد کی سکین رپورٹ (جس میں لکھا ہے کہ کینسر مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے) کو بھی شیئر کر رہا ہوں۔ دیکھیے کہ جہالت اور شعور کے درمیان کا فرق کیسے زندگی اور موت کے درمیان کا فرق بن جایا کرتا ہے۔ شفایاب ہو چکا مریض اب دو سال ہونے کو ہیں کہ اپنے اگریسیو کینسر سے مکمل نجات پا کر الحمد للہ نارمل زندگی گزار رہا ہے کیونکہ اسے شعبے کے ماہرین کی رائے معتبر لگتی تھی، جبکہ ایک جوان لڑکے کی فیملی اگلے سال اس کی برسی منائے گی کیونکہ انہیں ایک فراڈیے نے یقین دلایا تھا کہ کینسر بائیوپسی سے پھیلتا ہے۔
وطن عزیز میں یوں تو ہر حوالے سے جہالت کا سکہ رائج ہے لیکن طب کے حوالے سے یہ رجحان تشویشناک سطح تک ہے۔ ہر بندر جس کے ہاتھ کیمرہ، مائیک اور پوڈکاسٹ کی ماچس لگی ہوئی ہے وہ پوری توجہ کے ساتھ سارے جنگل کو آگ لگانے میں مصروف ہے۔
ہمارے حکام کسی ایک بندے کے سی سی ٹی وی پر کسی کو چھیڑنے کے عمل پر اتنے حساس ہیں کہ ایسوں کے نیفوں میں پستول چلوانے کے لیے ایک پورا ادارہ قائم کر دیا ہے۔ لیکن زیر نظر تصویر میں دیکھے جا سکنے والے جناب جمیل مہروی صاحب ڈنکے کی چوٹ پر طب کے ماہر بن کر سوشل میڈیا سے لے کر الیکٹرانک میڈیا تک بالکل غلط اور گمراہ کُن معلومات دے کر ہزاروں یا شاید لاکھوں لوگوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں، لیکن انہیں لگام ڈالنے کے لیے کوئی ادارہ متحرک نہیں ہو رہا۔
جب ادارے کام نہ کریں تو اگلی امید سول سوسائٹی (پڑھے لکھے انٹیلیجنشیا، جرنلسٹ، عدلیہ سے منسلک لوگ وغیرہ) سے ہوتی ہے کہ وہ تمام فورمز پر ایسوں کو ایکسپوز کریں۔ قانون کے کٹہرے میں لائیں یا پھر آگاہی کے لیے کام کریں۔ لیکن یہاں بھی قحط الرجال! ہمارے نامور کالم نگار و لکھاری بہت دلجمعی سے ڈاکٹر طبقے کے بارے اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں (کہ کیسے ڈاکٹر لوٹتے ہیں، زیادہ فیس لیتے ہیں، توجہ نہیں دیتے وغیرہ)۔ لیکن ان کے قلم اور مائیکوں کیمروں سے ایسے فراڈیوں کے لیے ہمیشہ یا تو پبلی سٹی کا انتظام ہوتا ہے یا خاموش تائید کا۔ اسے یوں ہی سمجھیں جیسے ملک میں ہر قانون اسی پر لاگو ہوتا ہے جو رجسٹر ہو کر ٹیکس پیئر بن کر قانونی دائرے میں آ جائے۔ آپ قانونی دائرے میں اگر سرے سے آئیں ہی نہ تو راوی چین ہی چین لکھتا رہتا ہے، نہ کوئی آپ کو معیار کی کہانی سناتا ہے، نہ کوئی پروفیشنل ازم کے وعظ کرتا ہے، نہ طبی اخلاقیات کی ڈُگڈُگی بجاتا ہے۔

لیکن چلیں اگر ادارے و سول سوسائٹی ہمارے معاون نہیں تو ہمیں پھر بھی ہے حکمِ اذاں! ہر پروفیشنل ڈاکٹر کو چاہیے کہ فراڈیوں کی آواز سے بہتر، مدلل اور گونج دار آواز کے ساتھ اپنی بات ہر فورم پر رکھے تاکہ لوگوں کی زندگی و صحت ایسوں سے محفوظ رہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں