• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مذہبی تشریحات اور سماجی نظریات کے باہمی تعاملات کی حدود و امکانات /وحید مراد

مذہبی تشریحات اور سماجی نظریات کے باہمی تعاملات کی حدود و امکانات /وحید مراد

مذہب یا دین کہنے اور لکھنے میں تو ایک ہی لفظ ہے، مگر اس کے باطن میں زندگی اور کائنات سے متعلق ہدایت و معنی کا ایک لا متناہی جہاں پوشیدہ ہے۔ دینِ اسلام اپنی وحی، تعلیمات اور بنیادی عقائد میں غیر متبدل ہے لیکن ہر اطلاق کے ساتھ حکمت اور اجتہاد کو نظرانداز نہیں کرتا۔ سماجی اطلاقات میں حکمت اور اجتہاد کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہاں فرد کی نجات سے بڑھ کر اجتماع کی بقا، ارتقا اور ہم آہنگی مقصود ہوتی ہے۔
زندگی کا اجتماعی پہلو جامد نہیں بلکہ مسلسل متغیر اور حرکیاتی ہے۔ اس تغیر کا ادراک کیے بغیر ابدی اصولوں کی تاثیر اور معنویت کو صحیح طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ ابدی اصول اپنی جگہ اٹل ہیں مگر ان کی تفہیم اور تطبیق ہر دور میں نئے شعور، نئے سیاق و سباق اور نئی معنوی جہتوں کا تقاضا کرتی ہے۔ جب انسانی عقل اور وجدان ان اصولوں کی روشنی میں اپنے عہد کی حقیقتوں سے نئے رشتے استوار کرتا ہے تو وہی دین کی روح کی تازگی اور تسلسل کا ضامن بنتا ہے۔
درحقیقت، گرد و پیش کے بدلتے تناظر میں حقیقت کے ساتھ نئے تعلقات قائم رکھنا ہی زندگی کا اصل حسن اور دوام ہے۔ زندہ معاشرے ہمیشہ اپنی اساس اور اقدار کو محفوظ رکھتے ہوئے اظہار، اسلوب اور طرزِ عمل میں نیا پن پیدا کرتے ہیں اور یہی تغیر دراصل بقا اور تسلسل کا ضامن ہے۔
اسلام میں وحی پر مبنی متن پر تو سب مسلمانوں کو اتفاق ہے حتیٰ کہ غیر مسلم غیر متعصب علماء بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ لیکن مذہب کی سماجی، معاشی اورسیاسی اطلاقات میں بے شمار تعبیرات و تشریحات ہیں جن پر نہ امت کے اندر اتفاق ہے نہ باہر۔ اور یہ اختلاف زحمت نہیں، رحمت ہے کیونکہ سماج کوئی مشین نہیں کہ جسے ایک بار چلا دیا جائے تو وہ ہمیشہ اسی انداز سے چلتی رہے۔
سماج میں آئے دن تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں جو کئی تعبیر و تشریحات کو جامد اور غیر متعلقہ بنا دیتی ہیں۔ اگر انہیں وقت کے تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ نہ کیا جائے تو ان تعبیر و تشریحات کی بنیاد پر قائم ادارے اور نظامات جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جب کوئی نظام انسانوں کے پاؤں کی بیڑیاں بن جائے تو فطری قوتیں ایک بڑی تبدیلی کے تحت وہ جوا اتار پھینکتی ہیں۔
مغرب میں یہی ہوا ؛ جب مذہبی علماء اور اداروں نے فرسودہ تعبیرات پر اصرار کیا تو مختلف انقلابات نے ان اداروں اور تعبیرات پر قائم پورے نظام کو توڑ پھوڑ دیا۔ چنانچہ وہاں سماجی علوم کے نام سے نئی فکر سامنے آئی جس میں ہیومن ازم، سیکولرازم، لبرل ازم، کمیونزم اور فیمنزم جیسے نظریات نے جنم لیا۔ ان میں سے کوئی ایک نظریہ یا سماجی تھیوری بھی ایسی نہیں جس کے اندر سینکڑوں مختلف تعبیرات اور اختلافات نہ ہوں۔ ہر ملک اور معاشرہ انہیں اپنے حالات کے مطابق مختلف انداز میں استعمال کرتا ہے۔
نظریہ یا سماجی تھیوری خود کوئی حتمی یا ابدی قدر نہیں؛ اس کی اہمیت صرف اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی معاشرے کے عوام اسے دل سے قبول کریں اور مقتدر و فکری طبقات اس کے مقاصد کو حاصل کرنے میں سنجیدہ اور مخلص ہوں۔انہی تھیوریوں نے بعض ممالک میں جزوی طور پر اچھے نتائج دیے اور بعض معاشروں میں بری طرح ناکامی کا سامنا کیا۔
سماجی اطلاقات کے حوالے سے مذہبی تعبیر و تشریح کا معاملہ بھی کئی لحاظ سے اس سےمماثلت رکھتا ہے ۔اگر مخصوص مذہبی سماجی تعبیر و تشریح کو کسی معاشرے کے عوام دل سے قبول نہ کریں، مذہبی اسکالر اور سیاسی رہنما مخلص نہ ہوں، ان کی حکمتِ عملی حالات کے تقاضوں سے میل نہ کھاتی ہو تو صرف متون کے ساتھ وابستگی کسی سماجی تبدیلی یا اصلاح کا ذریعہ نہیں بنتی۔ واضح رہے کہ مذہب کا وہ پہلو جو عقیدہ، عبادات، عاقبت یا آخرت سے متعلق ہے وہ سردست موضوعِ بحث نہیں ہے۔
یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ جس طرح دینِ اسلام اور دیگر مذاہب میں بنیادی فرق ہے اسی طرح مذہبی سماجی تعبیرات اور سماجی نظریات بھی ایک چیز نہیں۔دیگر مذاہب کے مقدس متون تحریف کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ دینِ اسلام کے متون محفوظ ہیں۔ دینِ اسلام وحیِ الٰہی پر مبنی ہے، جب کہ سماجی نظریات مذہب کی باقیات، انسانی فکر اور تجربے کا مرقع ہیں۔
سماجی اطلاقات میں جو چیز مذاہب یا سوشل نظریات میں یکساں طور پر پائی جاتی ہے وہ تدبر، تفکر، حکمتِ عملی اور لائحۂ عمل ہے۔اس لیے ان سب کو اس تجزیے میں ایک ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔اگر اس لحاظ سے کوئی مماثلت نہ پائی جاتی تو تقابل بے معنی ہوتا۔چنانچہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی اطلاقات میں جہاں بھی گہری سوچ بچار، وسیع تر مشاورت، تمام سماجی قوتوں کے درمیان مثبت مکالمہ اور خلوصِ نیت کے ساتھ سب کو ایک ساتھ چلانے کی کوشش ہوگی، وہاں بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔بصورت دیگر صرف نظریاتی وابستگی کسی بڑی تبدیلی کی ضمانت نہیں بن سکتی ۔
مذہب اور عقیدہ کی سماجی تعبیر و تشریح ہو یا سماجی علوم و نظریات، سب دراصل انسانی ارادے، فہم اور باہمی تعامل کو مہمیز فراہم کرنے والے فکری سانچے ہیں، نہ کہ جبری نظامات۔ ان کا وجود انسان کے شعور کو متحرک کرتا ہے مگر اسے قید نہیں کرتا۔انسان اپنے داخلی فہم اور اخلاص سے جب کسی نظریے یا عقیدے کو زندہ عمل میں ڈھالتا ہے تو وہ زندگی بخش قوت بن جاتا ہے۔ لیکن اگر وہی وابستگی محض رسم، تقلید یا جذباتی وابستگی تک محدود رہ جائے تو کوئی عقیدہ، فلسفہ یا نظریہ اسے اخلاقی یا عملی بلندی پر نہیں لے جا سکتا۔ عقائد اور نظریات انسانوں کو بیدار تو کر سکتے ہیں مگر ان پر جبر نہیں کر سکتے۔ زندگی کی اصل حرارت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنے اختیار اور ارادے سے کسی قدر کو معنی عطا کرتا ہے اور یہی لمحہ فہم، آزادی اور تخلیق کا سنگم بن جاتا ہے۔
اسی پس منظر میں جب یہ بات کی جاتی ہے کہ ہمیں اب ان مخصوص تعبیرات و تشریحات سے اوپر اٹھنا چاہیے جو ہمارے ملک کے مختلف طبقات کے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور توازن کے قیام میں رکاوٹ بن چکی ہیں تو فوراً سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ “اوپر اٹھنے” کا عمل شریعت کے دائرے سے باہر نکل کر ہیومنزم یا سیکولرازم میں داخل نہیں ہو جائے گا؟ یہ خدشات اپنی جگہ قابلِ فہم ہیں لیکن اس خوف نے ہمارے فکری اور سماجی نظام کو ایک طویل “ٹریفک جام” میں تبدیل کر دیا ہے جہاں سب اپنی جگہ ٹھہرے ہوئے ہیں مگر کوئی آگے نہیں بڑھتا۔
حقیقت یہ ہے کہ فکری بائنری صرف عقیدے اور ایمان کے دائرے میں ہی معنی رکھتی ہے جہاں کفر سے لاتعلقی اور ایمان کے ساتھ وابستگی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ مگر یہاں ایک باریک نکتہ قابلِ غور ہے کہ مذہبی متون میں کفر اور ایمان کی یہ بائنری اپنی جگہ پر اٹل اور واضح ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہم بطور انسان اس حتمی تقسیم کو اپنے شعور، فہم اور تناظر میں کہاں تک درست طور پر اپلائی کر پاتے ہیں؟ اس حوالے سے انسانی فہم اور الٰہی علم کے درمیان ایک فاصلہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ہم حقیقتِ مطلق کو جزوی ادراک کے آئینے میں دیکھتے ہیں اور یہی جزویّت ہمیں احتیاط، تواضع اور خود احتسابی کی دعوت دیتی ہے۔
عملی زندگی میں انسان تضادات، کمزوریوں، لغزشوں اور خطاؤں کا مجموعہ ہے۔ اسی لیے مذہب میں توبہ کا دروازہ موت تک بند نہیں ہوتا کیونکہ انسانی عمل میں امکان ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ یہ امکان دراصل وہی تخلیقی اور اخلاقی گنجائش ہے جو انسان کو فہمِ نو اور اصلاح کی طرف لے جاتی ہے۔ایمان جامد نہیں، ایک زندہ نسبت ہے جو ہر لمحہ شعور، احساس اور عمل کے درمیان نئی معنویت اختیار کرتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ مذہب انسان سے معصومیت نہیں بلکہ مسلسل محاسبہ، توازن اور تجدیدِ شعور کا مطالبہ کرتا ہے۔
عقیدہ اور ایمان متون کی حد تک متفقہ ہیں، مگر سماجی عمل میں ان کی کوئی متفقہ تعبیر یا تشریح نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح سماجی نظریات کی بھی کوئی جامع و مانع تعریف نہیں دی جا سکتی؛ اگر کوئی تعریف قائم بھی کر لی جائے تو وہ صرف لغت کے صفحات میں محدود رہتی ہے، زندگی کی حرکیات میں نہیں۔ اس لیے سنجیدہ فکری مطالعے اور عملی لائحہ عمل کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس ضد سے باز آئیں کہ پہلے سب مفاہیم پر اتفاق کر لیا جائے کیونکہ فہم کا عمل جامد نہیں، بلکہ ارتقا پذیر ہے۔
جہاں تک بات ہے مخصوص تعبیر و تشریحات سے اوپر اٹھنے کی، تو اس سے مراد کسی دینی اصول سے انحراف نہیں بلکہ اس تعبیری جمود سے باہر نکلنا ہے جو سماجی ارتقا کے راستے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ یہ ایمان و کفر کی نہیں، عمل و تدبر کی بات ہے۔ دینی متون کے دائرے میں رہتے ہوئے فکری تنوع، عملی اجتہاد اور مکالمے کے دروازے کھلے رہ سکتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہم فوری فیصلوں اور فتووں کی عادت میں اتنے عجلت پسند ہو چکے ہیں کہ کسی نئی بات کو سمجھنے سے پہلے ہی اسے کفر کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔
اگر کسی موقف یا تجویز سے اختلاف ہے تو بہتر یہی ہے کہ اس پر سوالات اٹھائے جائیں، تنقیدی نکات سامنے رکھے جائیں اور اس کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ کسی مصنف کے خیالات کا جائزہ اس کی نیت یا ایمان سے نہیں بلکہ اس کے استدلال اور دلائل سے لیا جانا چاہیے۔ عجلت میں کسی بات کو سمجھے بغیر غیر شرعی یا لادینی قرار دینا ہمارے فکری و علمی ماحول میں مکالمے کے دروازے بند کر دیتا ہے اور یہی وہ طرزِ عمل ہے جو ہماری فکری گاڑی کو “سماجی ٹریفک جام” میں پھنسائے رکھتا ہے۔
علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اختلاف کو فہم و ادراک کے سفر کا دروازہ سمجھیں، نہ کہ اسے دیوار بنا کر مکالمے کا راستہ بند کر دیں۔ سوال اٹھانا علم کی حرکیات کو جنم دیتا ہے، کیونکہ سوال ہی سے نئی جہتوں کی دریافت ممکن ہوتی ہے۔ لیکن جب ہم سوال کرنے کے بجائے فوری فیصلہ صادر کرتے ہیں تو ہم دراصل علم کے امکانات کو محدود کر دیتے ہیں۔اصل مقصد کسی کو غلط ثابت کرنا نہیں بلکہ حقیقت کی گہرائی تک پہنچنا ہوتا ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اختلاف کو کشادگیِ فکر، تحقیق کی رغبت اور اجتماعی شعور کے ارتقا کا ذریعہ سمجھیں۔ یہی رویہ وہ بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر مکالمہ، برداشت اور فکری ترقی کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply