عبدالرزاق ساجد ایک مثال ایک کہانی/ اقتدار جاوید

مجھے کامیابی اور جدوجہد کی کہانیاں خود کامیاب آدمیوں کی زبان سے سننا بہت پسند ہے۔میں جب بھی کامیاب لوگوں سے ملتا ہوں تو ان سے ان کی کامیابی کا راز اور جدوجہد کے مراحل کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا ہوں۔کہا جاتا ہے کہ ہر آدمی کی ایک قیمت ہوتی ہے اور اس کی مثال ابراہام لنکن کی دی جاتی ہے۔کوئی آدمی لنکن کے ساتھ سیڑھیاں چڑھ رہا تھا اور اپنے کام اور اس کام کے عوض پیشکشیں بھی کرتا جا رہا تھا۔ہر سیڑھی پر وہ پیشکش ڈبل کر دیتا تھا جب اس منزل کی دو سیڑھیاں باقی تھیں تو لنکن وہ دونوں سیڑھیاں ایک بڑا قدم لے کر پھلانگ گیا اور بولا کہ آخری سیڑھی پر وہ اس جگہ پہنچ سکتا تھا جہاں میں یا میرا ضمیر ڈول جات۔میں نے اپنے رستے میں وہ جگہ، وہ مقام، وہ سیڑھی آنے ہی نہیں دی۔مجھے مغل بادشاہوں میں ہمایوں کی شخصیت پسند ہے۔جب وہ ہندوستان میں شکست کے بعد صفوی حکمران طہماسپ کے پاس پہنچنا چاہتا تھا تو اس واپسی کے پہلے پنجاب کا راستہ لیا مگر یہاں اپنے ہی بھائی کامران نے اس کا رستہ روکا اور وہ ٹھٹھہ سے ہوتا ہوا قندھار سے مشرقی ایران پہنچا۔مگر پنجاب میں ہمایوں کی کئی کہانیاں مشہور ہیں۔ میں نے جہلم میں زندگی کے پانچ سال گزارے ہیں وہیں میں نے ہمایوں کی واپسی کے دوران ایک راجے کی نوکرانی اور ہمایوں کے بارے میں ایک واقعہ سنا۔وہ کہانی یا مکالمہ کیا تھا، اس کالم کے آخر میں بیان کیا گیا ہے۔
ایک اور قسم کی فتح اور فاتح کی کہانی بھی بہت دلچسپ دل کشا اور فرحت بخش ہے۔یہ میاں چنوں کے ایک لڑکے کی داستان ہے۔اس کا نام عبدالرزاق ساجد ہے جو اب ایک کامیاب ویلفئر ٹرسٹ کے بانی مبانی ہیں تب وہ لڑکپن میں تھے جسے مجاز لکھنوی (وہی ” مزدور ہیں ہم مزدور ہیں ہم“ والے مجاز، ) نے خوب بیان کیا
جوانی سے طفلی گلے مل رہی تھی
ہوا چل رہی تھی کلی کھل رہی تھی
(جوانی میں یہ نظم نورا میری پسندیدہ نظموں میں سے ایک تھی)جب اس کی کایا کلپ ہو گئی۔جیسے میں نے کہا مجھے کامیابی کی کہانی سننے کا لپکا ہے سو یہ کہانی اس لڑکے سے میں نے یوں سنی۔”
یہ سردیوں کی ایک صبح تھی۔اس دن میاں چنوں میں موسم بہت ٹھنڈا تھا۔میں اپنے رہائش گاہ سے نکل کر کالج جارہا تھا راستے کے کنارے ایک بچہ ننگے پاؤں بیٹھا رو رہا تھا۔۔بھیگ مانگ رہا تھا۔ اس کے پاس دو کتابیں بھی تھیں۔
میں اس بچے کے قریب گیا، مگر بول نہ سکا۔ اس کی آنکھوں میں بھوک تھی، اور بھوک صرف روٹی کی نہیں، بلکہ عزت، تحفظ اور موقع کی بھوک تھی۔ وہ لمحہ میرے دل پر یوں نقش ہو گیا جیسے پتھر پر حرفِ محبت لکھ دیا جائے، میں نے اس سے پوچھا کہ بیٹے کیا بات ہے ۔ تم سکول کیوں نہیں گئے۔کہنے لگا۔ میری ماں سخت بیماری ہے ۔ ہمارے گھر میں اس کی دوائی کےلئے پیسے نہیں ، میں صبح ناشتہ بھی نہیں کیا۔رات کا کھانا نہیں کھایا تھا۔ اب مجھے چکر آرہے ہیں ۔ خیر اس بچے کےلئے اس وقت میں جو کچھ کر سکتا تھا کیا مگر میں اس دن گھر لوٹا تو عجیب کیفیت تھی۔ رات بھر نیند نہیں آئی۔ دل کہتا تھا، “رزاق! تمہیں بھی رزق دیا گیا ہے، مگر اس میں دوسروں کا حصہ بھی ہے۔” میں نے سمجھا کہ شاید یہ صرف ایک احساس ہے، مگر دن گزرتے گئے اور وہ منظر میری روح میں اتر گیا۔ میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ خدمت دراصل انسان کے باطن کی زبان ہے، وہ زبان جو صرف دل سمجھتا ہے۔
پھر ایک دن مسجد کے باہر ایک بوڑھی عورت ملی۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرچی تھی، جس پر لکھا تھا: “میرا بیٹا اسپتال میں ہے، خون کی ضرورت ہے۔” میں اس کے ساتھ گیا، اسپتال کے دروازے پر وہ میرے ہاتھ پکڑ کر کہنے لگی: “بیٹا، یہ تم خود نہیں میرے ساتھ یہ اللہ نے تمہیں میرے ساتھ بھیجا ہے۔ اللہ تم پر بہت مہربان ہے ۔اللہ تمہیں ہر اس شخص کا سہارا بنائے جس کا کوئی سہارا نہ ہو۔
وہ دن میری زندگی کا رخ موڑنے والا دن تھا۔ میں نے پہلی بار محسوس کیا کہ انسانیت کی خدمت عبادت سے کم نہیں۔المصطفی ویلفیئر کا بیج شاید اسی دن میرے دل کی زمین میں بویا گیا۔ پھر میں نے دیکھا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہیں جو اپنے بچوں کے علاج کے لیے، اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے، یا صرف ایک صاف پانی کے گھونٹ کے لیے تڑپ رہے ہیں۔ میں نے محسوس کیا کہ انسانوں کو روٹی کی ضرورت ضرور ہے، مگر اس سے زیادہ انہیں امید کی ضرورت ہے۔انسانیت کی خدمت کا پہلا لمحہ میرے لیے کوئی واقعہ نہیں تھا، ایک بیداری تھی۔ ایک اندرونی صدا، جو آج بھی مجھے جگاتی رہتی ہے۔میں نے اس دن یہ عہد کیا تھا کہ جہاں بھی کوئی روتا ہوا بچہ دیکھوں گا، جہاں بھی کوئی ماں اپنی دعا میں آنسو چھپائے بیٹھی ہو گی، میں وہاں ضرور پہنچوں گا“۔
کامیابی کے سو زینے ہیں ابراہام لنکن کی طرح ان سے گزر جائیے ہمایوں کی دوبارہ ہندوستان واپس آئیے اور اولاد کو بادشاہت دلوائیے یا میاں چنوں کے عام آدمی کی طرح انسانیت کے نام پر کسی ایک انسان کے دل میں گھر کر جائیے۔نصرت آپا اور نواز کھرل جیسے بڑے آدمیوں سے بڑے کام لینے والے کی طرح۔
ہمایوں اکیلا تھا اور تھکا ہارا بھی تھا۔منگلا کے نزدیک ایک چھوٹے سے قلعہ نما گھر کے سامنے رکا اور سامنے نظر آئی لڑکی کو کہا راجہ کو باہر بلاؤ۔لڑکی اندر گئی اور راجہ کو کہا باہر ہمایوں بادشاہ آپ کو بلا رہا ہے۔راجہ نے پوچھا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ ہمایوں بادشاہ ہے۔نوکرانی بولی صرف راجہ کہہ کر آپ کو ہمایوں بادشاہ ہی بلا سکتا ہے۔سب راجہ صاحب راجہ صاحب ہی کہتے ہیں۔
اب ہماری افتاد طںبع پر منحصر ہے کہ ہم لنکن بنتے ہیں ہمایوں بنتے ہیں یا کسی انسان کے دل میں گھر کرنے والا بنتے ہیں۔ ہمارا فیصلہ ہمارے ہاتھوں میں ہے۔

Facebook Comments

اقتدار جاوید
روزنامہ 92 نیوز میں ہفتہ وار کالم نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply