خط بنام زندگی /طیبہ خالد

سنو پیاری زندگی !
مجھے تم سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں
اتنی زیادہ کہ گڈ مڈ ہو رہی ہیں کہاں سے شروع کروں, بہت سارے گلے شکوے بھی کرنے ہیں
مجھے اکثر تم سے بہت شکایتیں رہتی ہیں میں سوچتی ہوں کہ تم بہت مشکل ہو،
پھر خود ہی اس کا جواب دیتی ہوں کہ خدا کا شاہکار اتنا کم ہمت تو نہیں ہو سکتا کہ ان معمولی مشکلات کا سامنا نہ کر سکے۔
ہاں حیران مت ہو میں نے دانستہ معمولی لکھا ہے
بس ہم سوچ سوچ کر ان کو بہت بڑا بنا دیتے ہیں لیکن جب ہم ان مشکلات کا سامنا کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تو یہ بہت معمولی  لگنے لگتی ہیں۔
کبھی مجھے تم پر بہت پیار بھی آتا ہے تم بہت رنگین، دلچسپ اور پُر کشش بھی تو ہو،کہ دل چاہتا ہے تم سے کبھی جدا نہ ہوا جائے،میرا اور تمہارا ساتھ ہمیشہ رہے،لیکن ہمیشہ کے لیے تو کچھ بھی نہیں ہوتا نا۔۔کہ ہر چیز کے فنا ہونے کی خبر پہلے سے ہی دے دی گئی ہے
یہاں مجھے ایک شعر یاد آرہا ہے شاعر کا نام فی الحال ذہن میں نہیں ہے،
“ہائے تم کتنی خوبصورت ہو
ہائے تم نے بھی خاک ہونا ہے”
اچھا سنو۔۔!
میری باتوں سے بے زاری تو نہیں ہو رہی تمہیں ؟ اصل میں، میں نے بولنا بہت کم کر دیا ہے اب،کیونکہ سننے کے لیے کسی کے پاس وقت نہیں ہے نا آج کل،اگر کوئی سن بھی لے تو توجہ سے نہیں سنتا، یا پھر شاید مجھے لگتا ہے کہ جیسی توجہ میں توقع کرتی ہوں ویسی نہیں ملتی۔۔
تمہیں یاد ہے جب میں بہت زیادہ بولتی تھی؟ اپنی رو میں بولتی چلی جاتی تھی یار کیا دن تھے، دوستوں کا ساتھ تھا، بات بے بات ہنسی آ جاتی تھی، ہر طرف ہمارے قہقہوں کی آوازیں گونجتی تھیں، وہ شوخیاں، وہ شرارتیں، وہ حلقہ یاراں،
“وہ سب مکتب کے ساتھی تھے انھیں آخر بچھڑنا تھا”
پر اب سوچ سوچ کر بولنا پڑتا ہے
“یہ سچ ہے کہ عقل نے مجھے کچھ پختگی تو دی
پر وہ مزہ کہاں جو نادانیوں میں تھا ”
لگتا ہے خط بہت طویل ہو گیا ہے پر میری باتیں ختم نہیں ہو رہیں،
(وہی نان اسٹاپ بولتے چلے جانے کی عادت)
اوکے پھر اپنا خیال رکھنا اور میری توقعات سے بڑھ کر مجھے ملنا!

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply