انجنیئرنگ کے طلباء خصوصاً لفظ ”آئیڈیل“ یا مثالی سے بخوبی آگاہ ہیں۔ جس کو ہم آئیڈیل تصوّر کرتے ہیں‘ وہ عملی طور پر سو فیصد ویسا نہیں ہو سکتا یعنی ہم صرف تصوّر ہی کر سکتے ہیں کہ ایسا ہونا چاہیے لیکن ضروری نہیں کہ حقیقت میں بھی ویسا ہی ہو۔ سادہ و عام الفاظ میں اگر معاشرے کی بات کی جائے تو کہا یہ جاتا ہے کہ آئیڈیلی یا مثالی طور پر دروازوں کے آگے بنی سیڑھیاں گلی میں نہیں ہونی چاہیے‘ گلی کی چوڑائی ابتداء سے آخر تک ایک ہی ہونی چاہیے‘ ہر کسی کی گاڑی گھر کے اندر پارک ہونی چاہیے‘ ہر کسی کو اپنے حصے کی گلی و نالی کو صاف ستھرا رکھنا چاہیے‘ دکانداروں کو فٹ پاتھ پر سامان نہیں رکھنا چاہیے‘ کوڑا صرف کوڑا دان میں پھینکنا چاہیے وغیرہ وغیرہ لیکن خوابوں سے بہت دور حقیقی دنیا میں ایسا ہونا ناممکن ہے‘ خاص کر ہمارے جیسے معاشروں میں جہاں تربیّت و قانون کی حکمرانی کا فقدان ہے۔
پرانے پتّوں کا گرنا اور ان کی جگہ نئے پتّوں کا آ جانا‘ ندّی کے پانی کا گزرنا اور اس کی جگہ نئے پانی کا آنا‘ فطرت کی یہ مثالیں ہمیں سمجھاتی ہیں کہ یہاں ایک مدّت معیّن تک آپ نے رہنا ہے اور اس کے بعد دوسروں کے لیے وہی جگہ خالی کرنی ہے‘ اپنی بیٹنگ کے دوران آپ نے جو چوکے‘ چھکے مارنے ہیں‘ مار لیں لیکن بیٹنگ کے بعد آپ کو بیٹ کسی دوسرے کے حوالے کرنا ہے نہ کہ پچ پر قبضہ کر کے بیٹھ جائیں۔ اپنا دورانیہ مکمل کرنے کے بعد بھی کرسی کے ساتھ چمٹے رہنے کی خواہش پیچھے آنے والے کتنے ہی باصلاحیت لوگوں کی حق تلفی کا باعث بنتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو تا دمِ مرگ اقتدار کی خواہش ہی نے جمہوریت کو پھلنے پھولنے سے روکے رکھا اور ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ تادم مرگ پارٹی کی صدارت و چیئرمین شپ و گرفت نے پارٹیوں کو ادارہ کی بجائے جاگیر بنا دیا۔ جہاں آئین و قانون کی حکمرانی نہ ہو اور جب چاہے اسے اپنے حق میں موڑا جا سکتا ہونیز لوگ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اپنی خدمات لے کر دربار میں حاضر ہو جایا کریں‘ وہاں اقتدار کو طول دینے کی خواہشوں کا پنپنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ سب سے پہلے تو اقتدار حاصل کرنے کی ہوس پنپتی رہتی ہے لیکن جب اقتدار مل جائے تو اسے طول دینے کی فکر لاحق ہوجاتی ہے جس کے لیے مختلف صاحبِ اقتدار لوگ مختلف طریقے اپناتے ہیں۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ میٹرک میں مطالعہ پاکستان میں اقتدار اعلیٰ پرپورا ایک باب پڑھا تھا لیکن وہ ساری باتیں مثالی ہی لگتی ہیں۔ اقتدار کانٹوں کا بستر ہے‘ کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ صدارت اور شہادت‘ اقتدار اور دار‘ ہم قافیہ ہیں لیکن پھر بھی آج تک کسی نے اقتدار کو ٹھوکر نہیں ماری۔تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کے لیے بھائی نے بھائیوں کو‘ بیٹے نے باپ کو‘ باپ نے بیٹے کو‘ بھتیجے نے چچا کو اور چچا نے بھتیجے وغیرہ وغیرہ کو قتل کرنے سے اپنا ہاتھ نہیں کھینچا اور اگر خونی رشتے کی وجہ سے کسی کو ترس بھی آیا تو اتنا کیا کہ یا تو قید خانے میں ڈال دیا یا پھر آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروا دیں یا پھر مخالف سمت کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیے۔اقتدار کی صبح چاندنی‘ دوپہر سنہری اور شام اندھیری ہوتی ہے لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ چاندنی صبح کو سنہری دوپہر کا تو انتظار رہتا ہے جبکہ سنہری دوپہر کو اندھیری شام کا کبھی خیال نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار جو بڑی توقعات و تگ و دو کے بعد آتا ہے‘ غیر متوقع طور پر چلا جاتا ہے۔
جاری ہے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں