رانی ۔۔۔ معاذ بن محمود

متلی کی شدت سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ فضاء میں فجر کے وقت خدا کی یاد کی تشہیر جاری تھی۔ “الصلواۂ خیر من النوم”۔ سات ماہ کی حاملہ رانی اس پکار کے مطلب سے نابلد تھی لیکن اذان کی یہ آوازیں اس کے دل میں خوف ضرور پیدا کر دیتیں۔ بستر میں نشے کے مارے بےسدھ پڑے بشیرے کو اب تک ہوش آچکا ہوتا۔ بشیرے کا ڈیڑھ سو کلو وزن، اس کے منہ سے آنے والی شراب کی سڑاند اور اس کا ہرن ہوتا نشہ تینوں ہی اس وقت اسے سہنے ہوتے۔ رانی نے سنا تھا فجر کے وقت اچھے مسلمان خدا کو یاد کیا کرتے ہیں۔ جانے بشیرا کیسا مسلمان تھا، عین فجر کی اذانوں کے وقت اسے رانی کے جسم کی بھوک جانور بنا دیا کرتی۔ 

ابکائیاں لیتے رانی صحن میں لگی ٹونٹی کی جانب بھاگی۔ سکوت نہ ٹوٹنے کی دعا اور بھرپور کوشش کے باوجود بھی اس کا پیر ایک جانب پڑی تپائی سے لگا جس پر رکھا دھاتی جام نما گلاس ایک شور کے ساتھ نیچے گر گیا۔ 

“بہن چ۔۔۔ کیوں صبح صبح شور کرتی ہے”

اگلے کئی لمحے رانی قے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔ تھک کر واپس بستر پر پہنچی تو بشیرا رال بھرے منہ اور شراب کی بدبو کے ساتھ جسم کا زیریں حصہ برہنہ کیے اس کا منتظر تھا۔

رانی اس منظر سے شروع سے نفرت کرتی۔ پانچ بچوں کے بعد اسے اس عمل سے مزید گھن آنے لگی۔ بشیرا ساتھ پڑے ادھ جگے بچوں کی موجودگی کا بھی خیال نہ کرتا۔

“آجا مادر چ۔۔۔ جلدی کر”

اذان کی جاری آواز بشیرے کی گالیوں میں ایک احتجاج بھرا پس منظر سی بن کے رہ گئی۔ 

“بشیرے، میں بہت تھکی ہوئی ہوں، آج چھوڑ دے ناں، کل شام سے خون بھی۔۔” 

“تیری ماں کی۔۔ رنڈی۔۔ بہن چ۔۔۔ تو مجھے انکار کرے گی؟ بے غیرت۔۔۔”

بشیرے نے اس کی منت سماجت رد کرتے ہوئے ایک زور دار طمانچہ رسید کیا اور بالوں سے پکڑ کر سیاہ میلے گدے پر اوندھا کر دیا۔ 

رانی کی نظر کونے میں لیٹی بیٹی شہزادی پر پڑی جس کی آنکھیں باپ کے خوف سے بند ہونے کے باوجود  نم تھیں۔ 

اگلے کئی لمحات بشیرے کی جانب سے رانی کے بدن کو فتح کرنے کے سراب میں اپنی شکست سے آنکھیں پھیرنے میں صرف ہوئے۔ وہ لاکھ کوشش کے باوجود اب تک اس تمام عمل کی عادی نہ ہوپائی تھی۔ جس رات بشیرے کا نشہ زیادہ ہوتا یہ جنگ جیسے لامتناہی مدت پا جاتی۔ آج بھی یہی معاملہ تھا۔ 

جب تک بشیرا اپنے “فرض” سے فارغ ہوا، رانی پر جیسے کئی صدیاں بیت چکی تھیں۔ بشیرے نے اپنا مقصد حاصل کرنے کے بعد رانی پر حقارت بھری نگاہ ڈالی اور اس کے پھولے جسم پر لعنت بھیجتا دوسری جانب کروٹ کر کے “مزید خوابوں” کے مزے لوٹنے لگا۔

رانی کو زیریں جسم میں آگ دہکتی محسوس ہورہی تھی۔ اس نے سوچا شاید کچھ دیر میں سکون آجائے۔ وہ بشیرے کے پاس سے اٹھی اور شہزادی کے ساتھ جا کر لیٹ گئی۔ 

کتنے ہی گھنٹے وہ شہزادی سے لپٹ کر گھٹی گھٹی سسکیاں لیتی رہی۔ اسے یہ دنیا ایک جہنم سی محسوس ہونے لگی۔ ہر جانب تپش ہی تپش آگ کی آگ اسے جھلسانے لگی۔ بخار اپنے عروج پہ تھا۔ رانی نے پانی کی آس میں اٹھنے کی کوشش کی مگر کمزوری کے باعث پیٹ کے بل شہزادی پر گر پڑی۔ اس لمحے اس کی کوکھ کے ساکن مہمان نے آخری بار ہاتھ پیر ہلا کے اپنی بقاء کی ناکام کوشش کی۔ 

شہزادی ماں کے کپڑے لہو میں لتھڑے دیکھ کر خوف کے مارے چیخنے لگی۔ “اماں۔۔ اماں کیا ہوا تجھے؟ اماں اٹھ، اٹھ اماں”۔

بشیرے کی آنکھ کھل چکی تھی۔ اس نے رانی پر نگاہ ڈالی اور نفرت بھرے لہجے میں مغلظات کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع کیا جو رانی کے بے سدھ جسم کو رکشے میں ڈالنے تک جاری رہا۔ 

گاؤں کی کچی سڑک پر ہچکولے کھاتا رکشہ سوا گھنٹے میں ہسپتال پہنچا۔ رانی کو ایمرجنسی میں لے جایا گیا جہاں معلوم ہوا کہ ڈاکٹرز جمعہ کی نماز کا “فرض” ادا کرنے نکلے ہیں۔ 

رانی ایک پرانے سے سٹریچر پر پڑی تھی۔ اب تک اس کے جسم کو ڈھانپے کی غرض سے ڈالی گئی سفید چادر بھی سرخ رنگ اختیار کر چکی تھی۔ شہزادی کی آنکھیں اپنی ماں کو اس حال میں دیکھ کر آنسووں سے سوج چکی تھی۔ 

بشیرا باہر سے چرس کا بندوبست کر کے واپس آیا۔ اتنے میں ایک نرس نے رانی کی نبض ٹٹولتے ہوئے بشیرے کی جانب غور سے دیکھا اور خبر سنائی کہ رانی کا ٹھنڈا جسم اب فقط ایک بے جان لاش سے زیادہ کچھ نہیں رہا۔

شہزادی اپنی ماں رانی کے مردہ جسم پہ نظریں گاڑے کھوئی ہوئی تھی۔ 

اس کے سر کے عین اوپر سرکاری ہسپتال میں چلتا ٹی وی نیوز اپڈیٹ دیتے اعلان کر رہا تھا۔ 

“آج دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔”

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”رانی ۔۔۔ معاذ بن محمود

  1. بہت خوبصورت طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے لکھنے میں لیکن وقت کی ترتیب تھوڑی بے دھیانی میں شاید غلط ہو گئی ہے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *