کیمرے کی تاریخ ۔۔۔ قمر نقیب خان

فرانس کا جوزف نیپس وہ پہلا شخص تھا جس نے 1826ء میں کیمرہ ایجاد کیا اور دنیا کی پہلی تصویر کھینچی. تصویر ڈویلپ کرنے کے لیے اس نے Bitumen استعمال کیا اور اس تیاری میں اسے آٹھ گھنٹے لگے. تصویر کی کاپی آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں اصل تصویر ٹیکساس یونیورسٹی امریکہ کی لائبریری میں موجود ہے۔

جوزف نیپس کے بعد جارج ایسٹ مین وہ شخص تھا جس نے 1897 میں کوڈیک ایجاد کیا اور کیمرے کی تیاری کمرشل بنیادوں پر ممکن بنائی، یہ پہلا پورٹیبل اور فولڈنگ کیمرہ تھا جسے بآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا تھا۔

1934 تک اس ماڈل کے تین لاکھ کیمرے فروخت ہوئے، لیکن اس وقت تک تصویروں کی پرنٹنگ تک عام آدمی کی رسائی نہیں تھی، کیمرے کی فلم مکمل ہونے پر کیمرہ کوڈیک فیکٹری واپس بھیجا جاتا جہاں تصویریں دھوئی اور پرنٹ کی جاتی تھیں۔ پھر ان تصاویر کو کیمرے اور نئی فلم کے ساتھ صارف کو بھیجا جاتا۔ جارج ایسٹ مین نے سنہ 1900 میں سستا ترین براؤنی کیمرہ بنایا جس کی قیمت صرف ایک ڈالر تھی۔ اس سستے کیمرے کی بدولت عام عوام کی رسائی بھی کیمرے تک ممکن ہوئی. 1975 میں کوڈیک کے انجینئر سٹیون نے پہلا ڈیجیٹل کیمرا بنایا. اس وقت تک بہت سی دیگر کمپنیاں بھی کیمرا بنانے کی اس دوڑ میں شامل ہو چکی تھیں اور کیمرہ روز بروز بہتر سے بہترین کی طرف سفر کر رہا تھا۔

اس ایک ایجاد نے انسانی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا، لوگوں نے کیمرا اٹھایا اور دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گئے.۔جنگلی جانوروں کی تصاویر اور وڈیوز سامنے آئیں شہر کے باسی پہلی مرتبہ جانوروں کی زندگی دیکھ رہے تھے، شیر اور ہاتھی سے لے کر چیونٹی تک ہر جانور کی زندگی پر ڈاکومنٹری فلم بن گئی۔ واٹر پروف کیمرے ایجاد ہوئے تو سائنسدان کیمرے لے کر سمندروں کی گہرائیوں میں اتر گئے، انسان پہلی بار سمندری مخلوق سے متعارف ہو رہا تھا۔ جانوروں کی، مچھلیوں کی، حشرات کی اور پودوں کی ہزاروں لاکھوں نئی اقسام دریافت کی گئیں۔ فلم انڈسٹری وجود میں آئی اور آج ہالی وڈ فلمیں پاکستان کے بجٹ سے بھی زیادہ منافع کما رہی ہیں۔ کیمرا چاند پر پہنچا، مریخ پر پہنچا اور ہمیں نئی دنیاؤں کی سیر کرا دی، لاکھوں کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر واقع کہکشاؤں اور ستاروں سے متعارف کرایا. سی سی ٹی وی کیمرے نے ہر جگہ سیکیورٹی یقینی بنائی، مجرموں کو پکڑنے میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کیا. اب سی سی ٹی وی کیمرے بھی انٹرنیٹ سے جڑے ہوئے ہیں آپ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر اپنے گھر یا آفس کی لائیو ویڈیو دیکھ سکتے ہیں. سائنسدانوں نے کیمرے کو مزید چھوٹا کیا اور انسانی جسم میں داخل کر دیا، میڈیکل کی دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا۔

سنہ 2000 کا نومبر تھا جب سامسنگ جاپان نے پہلا کیمرے والا موبائل فون لانچ کیا، اس وقت بھی لوگوں نے سوچا کہ موبائل فون میں کیمرہ لگانے کا کیا فائدہ؟ پھر یوں ہوا کہ ہر موبائل فون میں کیمرہ آ گیا۔ اب یہ حال ہے کہ ہم چاروں طرف سے کیمروں میں گھرے ہوئے ہیں۔ کیمرے کی آنکھ آپ کو کب اور کہاں سے دیکھ رہی ہے، آپ خود بھی نہیں جانتے۔ پچھلے سو سال میں کیمرہ ایجاد ہوا اور گھر گھر پہنچ گیا۔ مسجد، مندر، چرچ، سینیگاگ ہر جگہ کیمرے لگے ہیں، لوگ خانہ کعبہ میں بھی تصاویر بنا رہے ہیں اور ویٹی کن سٹی میں بھی۔

ان سو سالوں میں دنیا کیمرے کے استعمال سے دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتی رہی اور ہم مسلمان سو سال اس بحث میں الجھے رہے کہ کیمرا حلال ہے یا حرام، ویڈیو حلال ہے اور تصویر حرام۔ مولانا صاحب ہر جمعے تصویر کی حرمت پر خطبے دیتے رہے، ٹی وی کے خلاف احتجاج ہوئے اور ٹی وی بیچ چوراہے میں رکھ کر توڑے گئے۔  سائنسی ایجادات اور دریافتوں سے فائدہ اٹھانا تو دور کی بات ہم الٹا انہی ایجادات کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ گئے۔ آج بھی آدھی سے زیادہ مسلم آبادی کیمرے اور تصویر کو حرام سمجھتی ہے، اس میں قصور سادہ لوح عوام کا نہیں بلکہ نام نہاد علماء کرام کا ہے۔

تو پھر کوئی ہے جو سوچے سمجھے؟؟

قمر نقیب خان
قمر نقیب خان
واجبی تعلیم کے بعد بقدر زیست رزق حلال کی تلاش میں نگری نگری پھرا مسافر..!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *