اقتصادی سروے: جو کہا ہے اس کی تو بحث ہی نہیں ہے۔۔رویش کمار

اقتصادی سروے کو صرف اسی نظر سے مت دیکھیں جیسا کہ اخباروں کی ہیڈلان دکھاتی ہیں. اس میں آپ شہریوں کے لئے پڑھنے اور سمجھنے کے لئے بہت کچھ ہے. دکھ ہوتا ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میں اعداد و شمار کی قابل رحم حالت ہے. یہ اس وجہ سے ہے تاکہ لیڈر کو جھوٹ بولنے میں سہولت رہے. کہیں آنكڑے سولہ سال کے اوسط سے پیش کئے گئے ہیں تو کہیں آگے پيچھ کا کچھ پتہ ہی نہیں ہے. آپ نہیں جان پاتے کہ کب سے کب تک ہے. اہم اقتصادی مشیر نے مانا کہ بھارت میں روزگار کو لے کر کوئی قابل اعتماد اعداد و شمار نہیں ہیں. پھر بھی جھوٹ بولنے والے لیڈر کبھی پانچ کروڑ، کبھی سات کروڑ روزگار دینے کا دعوی کر دیتے ہیں.
اروند سبرمنیم نے گزشتہ اقتصادی سروے میں کہا تھا کہ جی ڈی پی کی شرح 6.75 سے 7 فیصد رہے گی. ان کا کہنا ہے کہ موجودہ مالی سال کے اختتام تک جی ڈی پی کی شرح 6.75 ہو جائے گی، جبکہ اعدادوشمار کے افسر نے 6.5 فیصد رہنے کا دعوی کیا ہے. اب نیا دعوی ہے کہ جی ڈی پی کی شرح 7 سے 7.75 فیصد رہے گی. اس کی بنیاد یہ ہے کہ معیشت میں واپسی ہو رہی ہے. جب پٹری سے اترنے کے بعد ٹریک پر آتے ہیں تو اسی کو واپسی کہتے ہیں.
میں نے اس سروے کو پڑھتے ہوئے تلاش کرنا شروع کیا کہ میک ان انڈیا کی کارکردگی کیسی ہے. سڑک کی تعمیر کے علاقے، چھوٹے اور درمیانی صنعتی سیکٹر، ٹیکسٹائل سیکٹر، چمڑا اور جوتا، ٹیلی كام سیکٹر، کاشتکاری ان سب کا کیا حال ہے. کیوں کہ یہی وہ سیکٹر ہیں جو روزگار پیدا کرتے ہیں.
سڑکوں کی تعمیر کا حال
پہلے سڑک کی تعمیر کے علاقے کی بات کرتے ہیں. اس کے مرکزی وزیر نتن گڈکری ہیں. ان کی بہت تعریف ہوتی ہے کہ کافی پیشہ ورانہ وزیر ہیں. لگتے بھی ہیں. مگر افسوس کہ ان کی وزارت کی کارکردگی کا اچھا اعداد و شمار اس سروے میں نہیں ہے. شاید لیا نہیں گیا ہوگا یا دیا نہیں گیا ہے. میں کیوں ایسا کہہ رہا ہوں کیونکہ دو چیپٹر میں سڑک کی تعمیر کے علاقے کا ذکر آیا ہے. دونوں ہی جگہ ان کے دور میں بنی سڑکوں کے اعداد و شمار نہیں ملتے ہیں. اقتصادی سروے نہیں بتا سکا ہے کہ سڑک کی تعمیر کے علاقے میں فی کلومیٹر کتنے لوگوں کو روزگار ملتا ہے. میں نے یہ سوال اہم اقتصادی مشیر سے کیا اور کوئی جواب نہیں ملا.
2001 سے 2016 کے درمیان سڑکوں کی لمبائی بتانے کا کیا مطلب. کیا 2014 سے 2016 کے درمیان سڑکوں کی لمبائی کے اعداد و شمار بتانے کے قابل نہیں ہے؟ 2001 میں 34 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ لمبی سڑکیں بن گئیں تھیں. 2016 تک ان لمبائی 56 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ ہو گئی ہے. اقتصادی سروے بار بار نیشنل ہائی  وے، اسٹیٹ موٹروے کی لمبائی ہی بتا رہا ہے. مگر چار سال کی ترقی کا اعداد و شمار نہیں دے رہا ہے. جب یہی نہیں بتانا تھا تو اقتصادی سروے میں سڑک کا ذکر ہی کیوں کیا.
ایک پیمانہ مل ہی گیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ سڑک کی تعمیر میں اچھی کارکردگی نہیں ہے. اسٹیٹ موٹروے کو نیشنل ہائی وے میں تبدیل کرنے کے لئے ریاستوں نے مرکز کو قریب 64000 کلومیٹر کی تجاویز بھیجی ہیں. مرکزی حکومت نے000 10، کلومیٹر ہی تبدیل کرنے کی پیشکش قبول کی ہے. اس میں سے بھی 3180 کلومیٹر سڑک کو ہی سرکاری ہائی وے سے نیشنل ہائی وے میں تبدیل کیا جا چکا ہے.
مدھیہ پردیش میں صرف 9 کلومیٹر اسٹیٹ موٹروے کو نیشنل ہائی وے میں تبدیل کیا جا سکا ہے. آسام میں صرف 6 کلومیٹر اسٹیٹ موٹروے کو نیشنل ہائی وے میں تبدیل کر دیا گیا ہے. کرناٹک میں صرف 70 کلومیٹر، مغربی بنگال میں صرف 46 کلومیٹر اور بہار میں صرف 160 کلومیٹر. بہار میں ركسول موتیہاری موٹروے کا آج تک برا حال ہے. موجودہ حکومت کے چار سال گزر چکے ہیں. یہ ہے شاندار مانے جانے والے نتن گڈکری جی کا شاندار ریکارڈ.
اب یہ اعداد و شمار دیکھئے تو ہوش اڑ جائیں گے کہ اشتہارات، خیال سے الگ حقیقت کیسے ہوتی ہے. اقتصادی سروے لکھتا ہے کہ 2012-13 میں روڈ سیکٹر میں جتنا لون دیا گیا تھا اس کا صرف 1.9 فیصد ہی این پی اے ہوا یعنی برباد ہوا. 2017-18 میں روڈ سیکٹر میں این پی اے 20.3 فیصد ہو گیا ہے. یہ عام سے زیادہ ہے. دلیل دی جاتی ہے کہ پہلے سے چلا آ رہا تھا. اس بات میں کھیل زیادہ لگتا ہے، حقیقت کم.
ویسے بھی اگر آپ دیکھیں گے کہ روڈ سیکٹر میں کتنا نیا قرض آیا تو پتہ چل جائے گا کہ سڑکیں ہوا میں بن رہی ہیں. 2012-13 میں روڈ سیکٹر کو لون ملا 1 لاکھ430 27، کروڑ کا. 2017-18 تک صرف000 60، کروڑ اضافی لون ملا ہے. یعنی بینک اس سیکٹر کو لون نہیں دے رہے ہیں. لون نہیں مل رہا ہے تو ظاہر ہے کام ہوا میں ہو ہی رہا ہو گا. اس بات کے بعد بھی میں روز دیکھتا ہوں کہ دہلی سرحد پر واقع غازی پور سے سرائے كالے خاں تک موٹروے کی تعمیر شاندار طریقے سے ہو رہی ہے.
ایک اور آنکڑا ہے. سڑکوں کی لمبائی بڑھی تو گاڑیوں کی تعداد میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا. اس میں کار، موٹر سائیکل اور اسکوٹر ہی زیادہ ہیں. ٹرکوں کی تعداد میں کم اضافہ ہوا ہے. سروے کے ایک اور چیپٹر میں اسی سے منسلک لاجسٹك سیکٹر کا ذکر ہے جس میں امکان تو ہے مگر چار سال میں احساس ہی احساس حاصل کی جا سکا ہے.
صنعتی سیکٹر
اس سیکٹر کو بہت کم لون ملا ہے جبکہ اس کے لئے کرنسی کی منصوبہ بندی کی گئی ہے. اقتصادی سروے بتاتا ہے کہ 2017 تک 260.41 ارب روپے کا قرض بٹا ہے. اس کا 82.6 فیصد حصہ بڑی صنعتوں کو ملا ہے. صرف 17.4 حصہ چھوٹے اور درمیانی صنعت کاروں کو ملا ہے. تو کرنسی کی پول کھل جاتی ہے.
اقتصادی سروے بتاتا ہے کہ 2016-17 میں کرنسی کے تحت 10.1 کروڑ لوگوں کو 1 لاکھ 80 ہزار کا قرض دیا گیا. اس کا فی شخص اوسط ہوتا ہے822 17، روپے. اتنے کم کے لون سے روزگار ان لوگوں کی سمجھ میں پیدا ہوتا ہے جو کسی بھی لیڈر سے یہ بکواس سن لیتے ہیں کہ کرنسی سے 8 کروڑ روزگار پیدا ہوا ہے. آپ822 17، روپے سے کتنے لوگوں کو کام پر رکھ سکتے ہیں.
میک ان انڈیا
میک ان انڈیا کے کالم میں بتانے کے لائق کچھ بھی نہیں دکھا، لہذا اقتصادی سروے نے صرف ذکر كر کے چھوڑ دیا ہے. 25 ستمبر 2014 میں میک ان انڈیا لانچ ہوا تھا. اس کے لئے دس چیمپئن سیکٹر کا انتخاب ہوا تھا اور ہدف رکھا گیا تھا کہ ان میں گروتھ ریٹ ڈبل ڈجٹ میں رکھا جائے گا. کسی سیکٹر میں آج تک کچھ حاصل نہیں ہوا اور نہ ہی سیکٹروں کے مطابق اعداد و شمار دیئے گئے ہیں. میک ان انڈیا پر اقتصادی سروے کی خاموشی بہت کچھ کہہ دیتی ہے
. بہرحال آپ دس چیمپئن سیکٹروں کو جان لیں اور خود بھی گوگل کر لیں. ٹیکسٹائل اینڈ ٹیلی کام سیکٹر، الیکٹرانک سسٹم، کیمیکلز، بايوٹیكنالوجي، ڈفینس اینڈ ایرو اسپیس، فارما سیکٹر، لیدر اینڈر فٹ ویر.
ٹیکسٹائل اور ٹیلی لكام سیکٹر کا الگ سے ذکر ہے مگر مسائل کا ہی ہے. ٹیلی كام سیکٹر میں طوفان مچا ہے. نئی نوکریاں بن رہی ہیں اور پرانی جا رہی ہیں. ہزاروں لاکھوں نوکریاں گئیں ہیں. ٹیکسٹائل میں اقتصادی سروے میں بہتری کا دعوی کیا گیا ہے مگر ظاہری شکل کی کہانی سے تو ایسا نہیں لگتا. ٹیکسٹائل پر پہلے بھی اپنے فیس بک کے صفحے پر تفصیل سے لکھ چکا ہوں. آٹھ (8) کور سیکٹرز
اس میں سے پانچ میں ترقی کی شرح 10.7 فیصد ہے اور 3 میں نگیٹو. مجموعی طور آٹھوں سیکٹر کی ترقی کا ریٹ 3.9 ہے جو 2016-17 میں 4.6 فیصد تھا. آپ نے دیکھا کہ روزگار دینے کے جتنے بھی اہم سیکٹر ہیں ان سے بہت جلد کوئی امید نہیں ہے. اقتصادی سروے بتاتا ہے کہ عام ہندوستانیوں کی بچت میں کافی کمی آئی ہے. 2011-12 میں 23.6 فیصد تھا، 2015-16 کے درمیان 19.2 پرسینٹ ہو گیا. ہاؤس ہولڈسیونگ 2011-12 میں 68 فیصد تھی، 2015-16 میں 59 فیصد ہو گئی ہے. بچت میں کیوں کمی آئی ہے؟ روزگار اور مزدوری نہیں بڑھ رہی ہے؟
سروے میں کیوں کا جواب نہیں ہے. براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا کافی ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے. 2015-16 کے مقابلے میں 2017-18 میں محض 5 بلین ڈالر بڑھا ہے. اس وقت کل براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 60 ارب ڈالر کے قریب ہے. ماریشس، سنگاپور اور جاپان سے پیسہ آ رہا ہے. ماریشس کا نام سن کر ہی کان کھڑے ہو جاتے ہیں.
اقتصادی سروے نے بتایا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے سب سے زیادہ 19.97 فیصد پیسہ ٹیلی كام سیکٹر میں جا رہا ہے مگر وہاں تو روزگار پیدا نہیں ہو رہے ہیں. اس کا مطلب ہے کہ اس سیکٹر میں پھر سے کچھ کھیل ہو رہا ہے. 2 جی کی طرح اس بار بھی سب اس گیم میں بچ نکلیں گے. یہ میرا شک ہے.
کاشت کاری کا حال بتانے کی ضرورت نہیں ہے. بھارت کے کسانوں کی اوسط آمدنی ماہ کی دو ہزار روپے بھی نہیں ہے. 2022 تک اگر ان کی آمدنی دگنی ہو گئی تو بھارت کے کسان مر جائیں گے. انہیں 2022 میں 4000 فی مہینہ کمانے کے خواب دکھایا جا رہا ہے. کسانوں کا کیا ہوگا، خدا جانے. ویسے کسانوں کے لئے مندر کی تعمیر کا مسئلہ ٹھیک رہے گا. اس بحث میں کئی سال کی کاشت نکل جائے گی. پتہ بھی نہیں چلے گا
. ایک اور آنکڑا ہے. بھارت سے جو بھی برآمد ہوتا ہے اس کا 70 فیصد حصہ پانچ ریاستوں سے جاتا ہے. تمل ناڈو، کرناٹک، مہاراشٹر، گجرات اور تلنگانہ. اس کا مطلب ہے کہ برآمدات میں نمو ریٹ کے بڑھنے کا فائدہ یوپی، بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان، بنگال جیسی ریاستوں کو حاصل نہیں ہے. سولہ ریاستوں کا برآمد میں صرف 3 فیصد حصہ ہے. لیکن برآمد بڑھنے کی سب سے زیادہ خوشی بہار یوپی میں ہی منائی جا سکتی ہے. نہ جاننے کے کتنے خوشگوار نتائج ہوتے ہیں. آپ نے کئی اہم سیکٹرز کا حال دیکھا. کیا آپ کو پتہ چلا کہ ان میں اتنی تیزی آرہی ہے کہ روزگار بڑھیں گے؟
اقتصادی سروے کے اعداد و شمار کی خوشحالی مبارک. اگر بہتر ہوتا ہے، تیزی آتی ہے تو سب کو فائدہ ہو گا. ہم تیزی سے جا رہے تھے مگر بہتری کے نام پر ایک دھوکہ ہوا. نوٹ بندی. دنیا کا سب سے بڑا اقتصادی جرم. غنیمت ہے کہ مقبولیت اس اقتصادی جرم سے بچا لے گئی اور لوگ بھول گئے. ہمت بھی نہیں جٹا پائے. ریزرو بینک بھی چپ رہ گیا. امید ہے کہ آج کے وقت کا کوئی سرکاری ماہر اقتصادیات کبھی اس جرم پر کتاب لکھے گا لیکن اس وقت کوئی فائدہ نہیں ہوگا. اقتصادی سروے آپ خود بھی پڑھیں. اس کی ویب سائٹ بھی آسان ہے. كوچي کے رہنے والے جارج جیکب نے اقتصادی سروے کا کور ڈیزائن کیا ہے. جیکب معمار ہیں اور ڈزائننگ کا کام کرتے ہیں. دنیا میں ان کی ڈیزائن کئے ہوئے اسپیکر کی بڑی دھوم رہتی ہے. جیکب نے کور ڈیزائن کام بلا معاوضہ کیا ہے.
مترجم: محمد اسعد فلاحی
بشکریہ مضامین

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *