سندھ بلدیاتی ایکٹ بمقابل پنجاب بلدیاتی ایکٹ (1) اطہر شریف

سندھ کا بلدیاتی قانون (Sindh Local Government Act) کا جامع خلاصہ —
جو صوبے کے مقامی حکومت (Local Government System) کی بنیاد ہے۔

سندھ کا بلدیاتی قانون ایکٹ 2022
آئیے تفصیل سے سمجھتے ہیں کہ “سندھ لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) ایکٹ 2022” کیا ہے، اس کی اہم شقیں کیا ہیں، اور اس کے اثرات شہری و دیہی حکومتوں پر کیسے پڑے۔
پس منظر
سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 (SLGA 2013)

تاہم 2022 میں سندھ حکومت نے اس قانون میں بڑی ترامیم (Amendments) کیں —
جنہیں عام طور پر “Sindh Local Government (Amendment) Act 2022” کہا جاتا ہے۔
یہ ترامیم دسمبر 2021 میں سندھ اسمبلی سے منظور ہوئیں اور
جنوری 2022 میں نافذ العمل ہو گئیں۔ بلدیاتی اداروں (Local Councils, Town Committees, Union Committees) کو
مزید بااختیار بنانا (نظری طور پر)۔
اختیارات کی تقسیم (Devolution of Powers) کو واضح کرنا۔
شہری خدمات (Municipal Services) میں شفافیت اور مقامی نمائندگی بڑھانا۔
لیکن — کئی نکات پر اختیارات دوبارہ صوبائی حکومت کو منتقل کر دیے گئے،

سندھ لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) ایکٹ 2022 کی اہم دفعات
(الف) میئر اور چیئرمین کے اختیارات
پہلے میئر / چیئرمین کو بلدیاتی اداروں پر انتظامی کنٹرول حاصل تھا۔
2022 کی ترمیم کے بعد:
تعلیم، صحت، ماس ٹرانزٹ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، واٹر بورڈ جیسے اہم شعبے
صوبائی حکومت کے ماتحت کر دیے گئے۔
میئر کے پاس صرف شہری صفائی، اسٹریٹ لائٹس، پارکس، اور بلڈنگ کنٹرول تک کے اختیارات رہ گئے۔

یونین کمیٹی / کونسل کا ڈھانچہ
یونین کمیٹی (Urban) اور یونین کونسل (Rural) برقرار رکھی گئی۔
ہر یونین میں 13 ارکان:
چیئرمین، وائس چیئرمین، چھ جنرل کونسلرز، خواتین، مزدور، نوجوان اور اقلیتوں کے نمائندے۔
خواتین کے لیے 33٪ ریزرو نشستیں برقرار۔
نوجوانوں، مزدوروں اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کی تعداد میں اضافہ۔

صوبائی حکومت نے کراچی ڈویژن کے لیے الگ قواعد (Karachi Metropolitan Corporation Rules 2022) بنائے۔
کراچی میں 26 ٹاؤنز اور 246 یونین کمیٹیاں قائم کی گئیں۔
حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپور خاص وغیرہ کے لیے الگ میونسپل کارپوریشنز۔

بلدیاتی فنڈز اور مالی اختیارات
بلدیاتی اداروں کو صوبائی حکومت سے نیا مالی فارمولہ (PFC Award) ملنا ہے۔
مگر ٹیکس جمع کرنے کے زیادہ تر اختیارات صوبائی محکموں کے پاس رہ گئے۔
پراپرٹی ٹیکس، واٹر چارجز، سیوریج فیس — بیشتر Excise یا WASA کے ذریعے وصول کیے جاتے ہیں۔

کراچی میئر کے تحت آنے والے ادارے —
KMC، KW&SB، SSWMB، MDA، KDA — سب الگ وزارتوں کے ماتحت ہو گئے۔
میئر کا کردار صرف کوآرڈینیٹر جیسا رہ گیا۔
بعد میں 2023 میں جزوی ترمیم کے ذریعے کچھ اختیارات واپس میئر کو دینے کی تجویز آئی،

وزیر برائے پارلیمانی امور مکیش کمار چاؤلہ نے سندھ لوکل گورنمنٹ 21 جولائی 2023 (دوسری ترمیم) کو بل 2023 پیش کیا، جسے حکومتی بینچوں کی جانب سے ترامیم پر بغیر کسی وضاحت یا بیان کے منظور کر لیا گیا۔

بل کے مطابق سندھ بھر میں میئر یا چیئرمین شہر کی مختلف کارپوریشنز کی ڈیولپمنٹ اتھارٹیز اور دیگر سوک ایجنسیوں کے سربراہ ہوں گے، جو ان کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کے تمام ملازمین کو کونسل کے ملازمین کے طور پر تصور کیا جائے گا اور ان کے ساتھ کونسل سروس کے ضوابط کے مطابق سلوک کیا جائے گا، اس شرط کے ساتھ کہ کسی بھی ملازم کو ایسی ڈیولپمنٹ اتھارٹی سے کارپوریشن یا کونسل کے دائرہ اختیار میں آنے والی کسی دوسری اتھارٹی یا بورڈ میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔ مقامی حکومتوں کے قوانین میں ترامیم نے کارپوریشنز اور ڈسٹرکٹ کونسلز میں متعدد اضافی کاموں کا بھی تصور کیا گیا ہے۔

بل کے مطابق کراچی کے میئر کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ساتھ ساتھ دیگر ترقیاتی اداروں کے چیئرمین بھی ہوں گے۔
بل کے مطابق سٹی میئر کو یہ بھی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور سندھ سالڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو کے لیے تین، تین نام تجویز کرے گا۔
اسی طرح میئر یا دیگر کارپویشن میں چیئرمین اپنے متعلقہ دائرہ اختیار میں ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کی سربراہی بھی کرے گا اور اتھارٹیز کے چیف ایگزیکٹو کے لیے ناموں کو تجویز کرے گا۔ بل نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کو ایک یا زیادہ ٹیکسز کو یکجا کرنے، ریٹس، ٹول، فیس وغیرہ کو اپنے ذرائع سے یا کسی تیسرے فریق کے ذریعے معاہدہ کرکے وصول کرنے کا اختیار بھی دیا-ترمیمی بل میں صحت کی سہولیات اور اسکولوں کا انتظام دوبارہ کے ایم سی کو دیا گیا ہے، صوبائی حکومت نے 2021 میں ترمیم کے ذریعے یہ اختیار واپس لے لیا تھا۔
اسی طرح کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، عباسی شہید ہسپتال، سوبراج میٹرنٹی ہوم، سرفراز شہید ہسپتال، اسپینسر آئی ہسپتال اور لیپروسی ہسپتال کا انتظامی کنٹرول بھی واپس کراچی میٹروپولیٹن
کارپوریشن کو دے دیا گیا۔
Source: Sindh Local Government (Amendment) Act, 2022
(Published in Sindh Government Gazette, Extraordinary, Jan 14, 2022)
SLGA 2013 — اصل قانون
Sindh Local Councils (Conduct of Election) Rules, 2022
Sindh PFC Act 2017

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply