ارضِ پاک میں گزرے ایام(2)سراجی تھلوی

کراچی میں گزرے ایام کا ذکر چل رہا ہے۔یاد کے نہاں خانوں سے کئی اذیت ناک یادیں ابھر ابھر کر آنکھوں کے سامنے رقصاں ہیں۔اک اہم یاد جو وابستہ ہے اسکا نام ہے “محمد سردار فراز”صرف نام نہیں بلکہ اک طویل یادوں کا مجموعہ ، اک عہد اک یارِ غار،اک ہمراز۔
یادوں کے دریچوں سے جھانکتا ہوں تو اک طویل اور لامتناہی منظر سامنے آتے ہیں۔کوئی سِرا نہیں ملتا کہ جہاں سے شروع کروں۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب میں پہلی بار ایران آرہا تھا ۔تب محمود آباد کراچی میں ہم نے احباب و اقاریب سے خدا حافظی کی۔اُس وقت میں گلستان جوہر میں رہا کرتا تھا۔پھر محمود آباد سے میں اور صرف فراز گلستانِ جوہر آیا کیونکہ میں وہاں سے اپنے اک استاد غلام حسین مخلصی صاحب کے ہمراہی میں ایران آنا تھا۔اسباب و سامان گاڑی میں رکھا اور فراز سے آخری الوادعی ملاقات کی۔جب میں “الاصف “بس اڈے سے کوئٹہ جانے کےلیے بس میں بیٹھنے والا ہی تھا۔تب اچانک فراز دوبارہ وہاں نمودار ہوا۔میں نے پوچھا یہاں کیسے تو اُس نے اُداس لہجے،پُرنم آنکھوں سے کہا مجھے پتہ ہی نہیں چلا میں بس آپ لوگوں کے پیچھے یہاں پہنچ گیا ہوں۔یعنی وہ دن جدائی اور فراق کا سخت ترین دن تھا۔
بقول غالب
فراق و وصل جداگانے لذتے دارد
ہزار بار برو صد ہزار بار بیا

julia rana solicitors london

اِس دفعہ بھی جب ہم کراچی پہنچے تو ہماری سکونت محمود آباد میں تھی۔فراز صاحب گلشنِ اقبال میں۔غمِ روزگار کی مصروفیت ہوتے ہوئے بھی وہ گلشن سے محمود آباد چکر لگاتے رہے۔اور ہم دونوں کیفوں اور ہوٹلوں میں بیٹھ کر عہد رفتہ کے یادوں کو کھرچتے تھے۔
محمود آباد کے ہمارے اکثر شناسا اور سٹوڈنٹس کہا کرتے تھے۔آپکے جانے کے بعد فراز صاحب یہاں دیکھائی ہی نہیں دیتا ہے۔
کوئی ایسا یادگار دن اور موقع نہیں جہاں ہم دونوں کی شرکت اک ساتھ نہ ہو۔
ابھی آخری دنوں میں بھی جب ہم دونوں “ایران کنسلٹ ” میں میرا ویزہ وصول کرنا گیا۔تو اتفاقٙٙا اس دن چھٹی تھی۔سکیورٹی گارڈ کے ذریعے ہم نے کچھ معلومات لی۔اور واپس آتے ہوئے ہم دونوں نے بطور یادگاری “ایران کنسلٹ”کے سامنے چند تصویریں کھینچ کر نکلے ہی تھے۔اک صاحب ہمارے سامنے بائیک کھڑی کرکے پوچھنے لگے ادھر کیوں آئے ہو ہم نے روئیداد گوش گزار کی۔تو ہمیں “کنسلٹ سے متصل اک گوشے میں لے جا کر ہم سے پوچھ تاش کی۔ہمارے آئی ڈی کارڈ ،میرے پاسپورٹ کی تصویریں لی۔پھر وہاں سے ہم نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
اگر پاکستان میں حقیقتٙٙا سکیورٹی اور حفاظت کا اتنا اہتمام ہے تو داد دینا پڑے گا۔معمولی حرکات و سکنات پر نظر تھی۔تسلی بخش و تشفی بخش جواب ملے بغیر ہمیں وہاں سے جانے نہیں دیا۔اتنا بھی پاکستان گیا گزرا نہیں کہ ہم یاس کا شکار ہوجائیں۔
یادوں کو سمیٹنا ہماری مجبوری ہے۔ورنہ ہر ہر گوشے پر اک طویل سلسلہ ہوسکتا ہے۔
کچھ دوست ایسے ہوتے ہیں۔جو پُرخلوص محبتوں ،بے لوث الفتوں سے ہمیشہ کےلیے ہمارے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں۔اور ہم انکی یاد میں آہیں بھرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
جاری ہے

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply