دہلی کی اردو صحافت نے پچھلی دو دہائیوں میں جو صحافی پیدا کئے ہیں ان میں محمد علم اللہ کو میں منفرد مانتا ہوں۔کئی باتیں ان کو ممتاز بناتی ہیں، ان میں سب سے اہم بات ان کے قلم کی کثیر جہتی ہے۔ اردو صحافی عام طور پر یا تو اردو زبان کا ماتم کرنے میں وقت صرف کرتے ہیں یا مسلمانوں کے معاملات پر روشنائی خرچ کرتے نظر آتے ہیں۔ اس میں بھی غوروفکر کی باتیں کم ؛جذباتیت زیادہ ہوتی ہے۔ فنون اور سماجیات جیسے معاملات پر سودمند تحریریں عموما ًانگریزی اخباروں میں ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ انھوں نے اردو صحافیوں سے متعلق اس عمومی تاثر کو توڑا ہے اور ان کا قلم اردو ، اقلیتوںاور مسلمانوں کے مسائل پر جتنی روانی سے چلتا ہے اتنی ہی خوبصورتی سے وہ سنیما، تھیٹر، سوشل میڈیا، سماجی تبدیلیوں اور جدید تقاضوں پر بھی بات کرتے ہیں۔ان کی یہ کتاب ان کی تحریروں کی اسی رنگارنگی اور علمی کثیرجہتی کا عمدہ اظہار ہے۔ یہ صرف مضامین کا مجموعہ نہیں بلکہ گذشتہ دس برس کے واقعات کی اچھی دستاویز بھی ہے۔
محمد علم اللہ سے میری شناسائی اتنی ہی پرانی ہے جتنی اُن کی صحافتی عمر۔ ہم دونوں ساتھ ساتھ دہلی کی اردو صحافت میں داخل ہوئے اور تقریبا ًساتھ ہی ساتھ خاموش قدموں سے الیکٹرونک میڈیا کی طرف نکل گئے۔ مجھے اُن سے اپنی پہلی ملاقات بہت اچھی طرح یاد ہے۔ یہ 2007 کا ذکر ہے، اس وقت جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ذاکر حسین لائبریری پرانی عمارت میں ہوا کرتی تھی جہاں اب پریم چند آرکائیوز، این سی سی اور این ایس ایس کے دفاتر کے علاوہ اگنو کا ریجنل سینٹر واقع ہے ۔ میں پہلی بار یونیورسٹی میں داخل ہوا تھا اور وہاں کا ماحول میرے لئے کسی جادونگری سے کم نہیں تھا۔ کیمپس کی بڑی بڑی عمارتیں اور لائبریری میں کتابوں کا انبار دیکھ کر میری حیرت کو قرار نہ آتا تھا۔ میں صبح سویرے اٹھ جاتا اور تیار ہوکر کیمپس آ جایا کرتا تھا۔ کلاسیں دیر سے لگا کرتی تھیں لیکن لائبریری بہت سویرے کھل جاتی اس لئے میں صبح کے پہلے حصہ میں وہیں پایا جاتا تھا۔ کبھی کبھی تو دل مشتاق لائبریری کھلنے کے ٹائم سے پہلے ہی مجھے وہاں لے جاتا اور میں وہاں پتھر کی ایک منڈ پر بیٹھ کر تالا کھلنے کا منتظر رہا کرتا۔ ایسی ہی ایک صبح میں لائبریری کے اخبارات و رسائل کے سیکشن میں داخل ہوا اور بڑی سی میز کے چاروں طرف بکھری کرسیوں میں سے ایک سنبھال لی۔ اخبار پڑھتے پڑھتے مجھے محسوس ہوا کہ میرے بغل میں بیٹھا لڑکا بڑی تیزی سے اپنی ڈائری میں کچھ لکھتا چلا جا رہا ہے۔ اسے میری غیر اخلاقی عمل کہا جا سکتا ہے لیکن میں نے تیزی سے لکھی جا رہی اس تحریر پر نظر ڈال لی۔ آنکھیں تحریر کے عنوان پر ٹھہر گئیں، لکھا تھا ’جامعہ ملیہ اسلامیہ پر الحاد کا سایہ‘ ۔میری نظریں اس عنوان سے اٹھ کر سیدھے اس لڑکے کے چہرے پر جا کر ٹھہر گئیں۔دبلا پتلا مگر چمکدار سا چہرہ اور ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ ،جس میں شرارت بھی تھی اور اعتماد بھی۔ میں نے سلام کرکے اس کو مخاطب کیا۔ اس نے مصافحہ کرتے ہوئے اپنا نام بتایا محمد علم اللہ۔ یہاں سے میری اور علم اللہ کی دوستی شروع ہوئی۔ جس کی ایک لمبی داستان ہے۔
ان بارہ برس کے دوران میں نے علم اللہ کو صحافت کی دنیا میں قدم بڑھاتے دیکھا ہے۔ یہ بات نہ تو کوئی مبالغہ ہے اور نہ ہی ستائش کہ انھوں نے دہلی کی اردو صحافت میں اپنی موجودگی بہت تیزی سے درج کرائی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار پر لکھا۔ بٹلا ہاؤس انکاؤنٹر کے دوران اچھی رپورٹنگ کی اور کئی بار ایسے موضوعات پر لکھنے کی ہمت دکھائی جو اردو قارئین کے سامنے کہنے کی ہمت کم ہی صحافی کر پاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مدارس میں اصلاح کے حوالے سے اُن کی تحریروں نے طویل بحث کو جنم دیا۔ جہاں ایک طرف سوشل میڈیا پر مدارس میں اصلاح سے متعلق ان کی تحریریں پسند کی گئیں ،وہیں ارباب مدارس کی ایک جماعت نے زبردست مخالفت بھی کی۔دینی رسائل اور اخبارات میں قدامت پسندوں نے اُن کو خوب سخت و سست کہا لیکن وہ اپنے موقف پر قائم رہے۔ اس پوری زور آزمائی کا اچھا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے پہل مخالفت کرنے والوں نے اخیر میں اس پر اتفاق کیا کہ مدارس کے نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں بات ہونی چاہیے ۔ یوں سمجھیے کہ علم اللہ نے ٹھہرے پانی میں کنکر مار کر جو ارتعاش پیدا کیا وہ بعد میں مضبوط لہر بن گیا۔
علم اللہ نے دہلی شہر میں قدم رکھا تو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ تاریخ میں داخلہ لیا لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا کہ ان کی مٹی صحافت سے زیادہ میل کھاتی ہے اس لئے یونیورسٹی کے ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر میں داخل ہو گئے۔ میں خود اسی ادارے سے فارغ التحصیل ہوں اور وہاں کے تعلیمی ماحول سے خوب واقف ہوں۔ ماحول کے اعتبار سے یہ پورے کیمپس کا جدید ترین شعبہ ہے جس میں ملک کے مختلف حصوں کے انگریزی بیک گراؤنڈ کے اسکالروں کی بھرمار رہتی ہے۔ پچاس طلبہ کی جماعت میں ستر فیصد لڑکیاں ہوتی ہیں۔ ذرا اندازہ کیجئے کہ ایک دیہی علاقہ سے تعلق رکھنے والا طالب علم جن کی زندگی کا بڑا حصہ مدرسہ کے ماحول میں بسر ہوا وہ اس ادارے میں قدم رکھتے ہیں اور اس ماحول سے مرعوب ہوئے بغیر تعلیم مکمل کرتے ہیں۔ اس ادارے میں علم اللہ کا داخلہ ان کی قلمی زندگی کا ایک اہم موڑ تھا۔ یہاں سے اُن کے لکھنے اور دنیا کو دیکھنے کا رنگ ڈھنگ بہت بدل گیا۔ وہ ابلاغ کے جدید ذرائع، سنیما اور آرٹ، بین الاقوامی معاملات اور جیو پولیٹکل ایشوز پر لکھنے لگے۔ انہوں نے انگریزی زبان کی معیاری تحریروں کو اردو میں ترجمہ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ جامعہ پر الحاد کا سایہ موضوع پر لکھنے والا لڑکا اب وسیع نظری کی وکالت بڑے اعتماد سے کرنے لگا۔ انھوں نے دو کتابیں ایک ’مسلم مجلس مشاورت: ایک مختصر تاریخ‘ اور دوسریے ’ایران میں کچھ دن‘ کے عنوان سے ایک سفر نامہ بھی لکھا جسے اہل علم نے خوب سراہا۔
مصنف نے اپنے تعلیمی سفر اور پیشہ وارانہ زندگی میں بہت سے مراحل کو پار کیا لیکن مدارس کے طلبہ کے لئے ان کا دل ہمیشہ دھڑکتا رہا۔ انہوں نے ایسے بہت سے مضامین لکھے جن میں مدارس کے فارغین کی کیریئر پلاننگ اور جدید تعلیم میں مدارس والوں کے لئے موجود امکانات پر بات ہوتی تھی۔اس کتاب میں اس قبیل کی کچھ تحریریں موجود ہیں جن کو پڑھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ قلمکار کس کیفیت سے دوچار ہے۔ پچھلے پندرہ برس میں ہندستان میں ٹی وی نیوز چینلوں کا زور بہت بڑھ گیا اور ہر شام ہونے والی ڈبیٹ کے ناظرین کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی۔ ان مباحثوں میں کچھ مولوی حضرات مسلمانوں کے نمائندے بناکر بٹھا دیئے جاتے ہیں اور اکثر اپنی کم علمی اور تدبر سے عاری ہونے کی وجہہ سے مسلمانوں کی شرمندگی کا سبب بنتے ہیں۔انھوں نے اس پر ایک مضمون لکھا جس میں میڈیا میں ترجمانی کے اصولوں پر بات کی گئی۔ وہ مضمون بھی اس کتاب کا حصہ ہے۔ ہندستانی میڈیا کو فتوؤں سے بلا کا عشق رہا ہے۔ فتوے دینے والوں نے بھی میڈیا کو کبھی مایوس نہیں کیا اور ایسے ایسے فتوے صادر کئے جنہیں پڑھ کر انسان کا دل چاہتا ہے کہ سر کے بل دوڑنے لگے۔ انھوںنے ایک سخت مضمون لکھ کر ایسے فتوؤں کی گرفت کی اور دارالعلوم دیوبند کو نام لے کر تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ بڑے دل گردے کا کام تھا جس کے کرنے پران کی تعریف بھی خوب ہوئی اور بہت سے لوگوں نے برا بھلا بھی کہا۔وہ مضمون اس کتاب میں شامل ہے۔ اس کو پڑھئے اور اندازہ لگائیے کہ انھوںنے کتنے حساس موضوع پر قلم اٹھایا ۔
یہ کتاب میڈیا کے سلسلہ میں لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ابلاغ کے جدید ذرائع جیسے سوشل میڈیا کا بہتر استعمال کرنے کی تدابیر بھی سجھاتی ہے۔ صاحبِ کتاب نے کئی ایسے گوشے گفتگو کے لئے چنے ہیں جو بظاہر اردو محفلوں میں نظر نہیں آتے۔ سوشل میڈیا پر اردو والوں کے کمیونٹی پیجوں کا چکر لگائیے تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں میر و غالب پر جگالی سے آگے سوچا ہی نہیں جا رہا ہے۔ ایسے میں قلم کار فلم سازی جیسے ذرائع کو اپنی بات کہنے کا ذریعہ بنانے، اردو صحافت کے مباحث کو معیاری کرنے، مدارس کے فارغین کا مستقبل امامت اور مدارس کی تدریس کے علاوہ صحافت و ترجمے کی طرف لے جانے جیسے موضوعات چھیڑتے ہیں تو خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ اس کتاب میں درج مضامین ایک ایسے شخص کے دل کی آواز معلوم ہوتے ہیں جس نے اپنے تعلیمی سفر میں جن مشکلات کو جھیلا ہے وہ چاہتا ہے کہ آنے والوں کو ان سے آگاہ کر سکے۔
کتاب کے آخری حصے میں مصنف نے فیس بک پر شیئر کی گئی اپنی پوسٹ درج کی ہیں جو کہ اردو میں اپنی نوعیت کا منفرد تجربہ ہے۔ان چھوٹی چھوٹی پوسٹ کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ لکھنے والے کو بات کو مفصل ڈھنگ سے کہنے کے ساتھ ساتھ اختصار سے جامع انداز میں کہنے کا فن بھی خوب آتا ہے۔ کتاب میں شامل ہر ایک مضمون پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ صحافت کے میدان میں نئے آنے والے ان تحریروں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ اس کتاب کے مضامین پڑھتے ہوئے لگتا ہے کہ ہم پچھلے دس برس کے واقعات سے پھر سے گذر رہے ہیں۔ کتاب کے کچھ مضامین مجھے بہت پسند آئے جبکہ بعض مضامین کے نکات سے مجھے اتفاق نہیں ہے لیکن میں یہ بات پوری ذمہ داری سے کہہ سکتا ہوں کہ پڑھنے والوں کے لئے اس کتاب میں دلچسپی اور جانکاری کا کافیمواد موجود ہے۔
یہاں ایک بات اور توجہ طلب ہے اور وہ یہ کہ مصنف اس موضوع پر ایک باقاعدہ کتاب لکھتے تو کیا وہ متفرق مضامین کے مجموعہ کی بہ نسبت زیادہ سودمند ہوتی؟، میرے خیال میں ایسا نہیں ہے۔اس کتاب میں موجود مضامین اس اعتبار سے تو متفرق کہے جا سکتے ہیں کہ وہ دس برس کے دوران لکھے گئے لیکن اپنے مباحث کے اعتبار سے ان میں ایک تسلسل بہرحال موجود ہے۔ یہ بات بھی غور کرنے کی ہے کہ میڈیا پر اتنے مضامین کا لکھا جانا بتاتا ہے کہ قلمکار تواتر سے میڈیا کو اپنا موضوع بناتا رہا ہے۔
اس کتاب میں موجود مضامین کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان میں کثرت سے مثالیں دی گئی ہیں یعنی قلمکار لفاظی نہیں کر رہا ہے بلکہ میڈیا کے منظرنامے کو وہ باریکی سے دیکھ بھی رہا ہے اور اس میں موجود خرابیوں کی گرفت بھی کرتا جا رہا ہے۔
یہ کتاب میڈیا میں جن دو نقائص کو زیادہ شدت سے اٹھاتی ہیں وہ ہیں:
یکم: خود میڈیا کے اندر موجود مسائل جیسے زبان و بیان کی خرابیاں، غیر جانب داری کا فقدان، میڈیا اونرشپ سے پیدا ہونے والے مسائل اور ادارتی معیار میں روز ہو رہی تنزلی وغیرہ۔دوم: میڈیا میں مسلمانوں سے متعلق مسائل جیسے میڈیا کی مسلمانوں کی مخصوص شبیہ بنانے کی کوشش، مسلمانوں کا میڈیا کی اہمیت سے نابلد ہونا، مسلم شخصیات کا میڈیا میں موثر ترجمانی کے آداب سے ناواقف ہونا وغیرہ۔
اس کے علاوہ ان کے مضامین میں ہر دو جانب کے رویوں کا احتساب بھی شامل ہے۔ مثلا وہ اگر میڈیا سے شاکی ہیں کہ وہ مسلمانوں کے سلسلہ میں پہلے سے رائے بنائے بیٹھا رہتا ہے تو وہ مسلمانوں پر بھی تنقید کرتے ہیں کہ ان میں میڈیا کی افادیت کی سمجھ نہیں ہے۔ فلم سازی جیسے موثر ذریعہ کو دیس نکالا دینے کے مسلمانوں کے رویے سے بھی وہ نالاں ہیں اور اس پر بہت واضح اور صاف انداز میں لکھ کر فکروعمل کی دعوت دینے کی کوشش کی ہے۔
امید ہے کہ قارئین اس کتاب میں درج مضامین کو پڑھ کر محسوس کریں گے کہ انہیں سوچنے کے لئے نئے نکات ملے ہیں۔ مدرسہ بیک گراؤنڈ سے اردو صحافت میں قدم رکھنے والوں کے لئے یہ کتاب بہت کارآمد ہوگی۔ اپنے مباحث اور انداز کے اعتبار سے مجھے یہ کتاب اردو میں ایک اچھا اضافہ معلوم ہوئی۔
سینئر نیو زایڈیٹر ، دور درشن ، دہلی
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں