یہ پاسباں ہمارے ۔۔۔۔ قاسم سید

جمہوریت کی جڑ میں برطانوی کالونی نظام ہے اس میں صرف دکھاوے کے لیے جمہوریت کا لبادہ اوڑھا دیاگیا ہے۔ بعض لوگ جمہوریت کامطلب اکثریت کی فسطائیت سمجھتے ہیں۔ برصغیر میں موجودجمہوریت میں کالونیل اور موروثیت کاخمیرپایاجاتا ہے۔ ہمارا منتخب نظام گینگسٹر ڈیموکریسی ہے۔ کیا اس حقیقت سے انکار کیاجاسکتا ہے کہ ملک کی زیادہ تر سیاسی پارٹیاں خاندانی موروثی اوراندرونی آمریت کے تحت چل رہی ہیں۔ ان کے ذریعہ خاندان کی حکومتیں قائم کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ اب چونکہ بادشاہت کا نظام لپیٹ دیاگیا ہے ۔ عوام کی حکومت ، عوام کے لیے عوام کے ذریعہ کا پرفریب نعرہ افیم کی طرح کام کرتا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ ووٹوں کے ذریعہ خاندانی بادشاہت کا نظام نے جگہ لے لی ہے۔ سیاسی دھڑوں میں منقسم ووٹروں کو ہر الیکشن میں مخصوص خاندان کے حق میں ووٹ ڈالنے کا موقع ملتا ہے. یہی حکومتوں پر حتمی فیصلوں اورکلی اختیارات کے مالک ہوتے ہیں۔ پارٹی میں عہدوں کی نامزدگی سے انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم، حکومت کی تشکیل سے حکومت میں وزارتوں اور ذمہ داریوں کی تقسیم تک اختیار ایک یاچند افراد کے پاس ہوتا ہے اور یہ افراد اس خاندان کے لوگ یا ان کے رفقا ہی ہوتے ہیں ۔ انہیں ہائی کمان کہاجاتا ہے جبکہ دیگر لیڈروں کی موجودگی ان کی رائے کو تقویت دینے،انہیں سورج چاند سمجھنے اور سمجھانے، ان کو خدا کا انعام کہلوانے، ان کی قیادت وسیاست کو عوام پر مسلط کرانے اور ان کی قیادت ملک ملت پراحسان عظیم ثابت کرانے بھرہوتی ہے ۔ انہیں بھی بخشش کے طور پر عہدے مل جاتے ہیں مگر ان کی زبانیں اورخیالات ہائی کمان کے پاس گروی رکھ لیے جاتے ہیں۔
عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ مختلف ذاتوں اور فرقوں کے نام پر جو لیڈر شپ ابھاری جاتی ہے وہ کمیونٹی سے زیادہ ہائی کمان کی وفادارہوتی ہے۔ اسی کے گن گاتی ہے اور ایسے القاب وآداب ڈھونڈ کر لاتی ہے جو تملق خوشامدکی تمام حدیں پار کرلیتے ہیں اور اس کا سرا غلامی سے جاملتا ہے۔ ان کا سوناجاگنا،اٹھنا بیٹھنا، بچھونا صرف خاندانی بادشاہت کے لیے ہوتا ہے ۔ اگر وہ یہ کام کرنابند کردیں کبھی ضمیر جاگ جائے غیرت اندر سے لعنت ملامت کرنے لگے ،چاپلوسی کوبھی شرم آنے لگے اور غلطی سے کچھ سچی باتیں کرنے لگیں تو خاندانی بادشاہت کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں اور بغیر تاخیر کے باہر کاراستہ دکھادیاجاتا ہے۔ یہ اپنے لیے سجدہ تعظیم واجب قرار دیتے ہیں ۔ منکرین کو گمنامی کےعقوبت خانوں میں ڈال دیتےہیں ۔

جملہ معترضہ کے طور پر اس بات کا تذکرہ کرناضروری لگتا ہے کہ ہماری بیشتر مذہبی جماعتوں کا احوال بھی کچھ ایسا ہی ہے جہاں خاندانی و موروثی نظام جاری ہے ۔ کلیدی عہدوں تک کسی اورکے پہنچنے کا تصور بھی گناہ ہے اور کوئی بھی شخص واحد ہائی کمان کے منصب سے سرفراز ہوکر احکام و فرامین جاری کرتا ہے اور عقیدت مند اس کی تکمیل کو باعث سعادت ،اجروثواب سمجھتے ہیں ۔ انتخابات کا تماشہ وہاں بھی ہوتا ہے مگر مدمقابل کوئی اور ہو اس کا تصور بھی گناہ کا درجہ رکھتا ہے اور وہ اتفاق رائے سے منتخب ہوکر ملک وقوم کی خدمت کےفریضہ کا بار گراں اٹھالیتا ہے ۔ جمہوریت میں ملوکیت کے اتنے اچھے مظاہرے اور نمونے اور کہیں نہیں مل سکتے ، عوام کالانعام ہوتے ہیں ۔ بکریوں کی طرح جدھر چاہیں ہنکالے جائیں انہیں جان بوجھ کر جاہل رکھا جاتاہے بصورت دیگر آئین کے عطا کردہ حقوق کی ادائیگی کامطالبہ کرنے لگیں گے جہاں لوگ سراٹھاتے ہیں سرکار ی طاقت کے استعمال سے کچل دیاجاتاہے ۔ برصغیر میں خواندگی کی شرح تشویشناک حد تک کم ہے۔ بادشاہوں نےبھی یہی کیا اور جمہوری بادشاہ بھی اسی راستے پر صدق دلی سے چل رہے ہیں۔ ہرطرح کی سرکاری مراعات کے اولین مستحق ہیں۔

یہ وی آئی پی کلچر کے موجد ہیں یہ بیمارذہنیت کا نام ہے جسے اشرافیہ طبقہ نے اپنارکھا ہے جب یہ دورے پرنکلتے ہیں توسڑکیں تمام لوگوں کے لیے بند کردی جاتی ہیں۔ خواہ مریض ایمبولنس میں دم توڑ دے۔ حاملہ خاتون اسپتال کے راستہ میں بچہ کو جنم دے ، عوام کو متاثر کرنے لیے شاہانہ طریقے اختیار کرتے ہیں انہیں خوفزدہ و مرعوب کرنے لیے سیکورٹی کے حصار میں رہنا پسند کرتے ہیں جبکہ اس ملک کی 80فیصد آبادی زندگی میں کبھی جہاز پرنہیں بیٹھی۔ حمل سے لے کر انتقال تک بھیک ، امداد اور قرض پر جیتی ہے انہیں مفت صاف پانی مفت انصاف ،مفت صحت خدمات اور بے خطر آبرو باعزت زندگی نصیب نہیں ہوتی۔ پیداہوتے ہی جہدکی چکی میں ڈال دیے جاتے ہیں۔ یہ تاعمر شاور ،کموڈ ،پزا اور کافی جیسی چیزوں سے محروم رہتے ہیں ۔ ذاتی سواری کی لذت سے نا آشنا یہی مخلوق جمہوری شہزادوں کوپارلیمنٹ پہنچاتی ہے تاکہ ٹھنڈے ماحول میں بیٹھ کر ان کے گرم مسائل حل کرسکیں جنہیں کبھی بجلی کا پنکھانصیب نہیں ہوتا جو گنگا جل سے پیاس بجھاتے ہیں اور وضو کے پانی سے افطار کرتے ہیں۔ ان 68 برسوں میں کبھی ان کی طرف مڑکر نہیں دیکھتے کہ کس حال میں ہیںان کا مقصدصرف اپنے خاندانی مفادات کا تحفظ ہے اس کے لیے سب کچھ گزرتے ہیں۔

اس تناظر میں ملک کے سب سے بڑے سیاسی کنبہ یادو پریوار کا اندرونی جھگڑا سرخیوں میں ہے ،کاجائزہ لیں یہ تماشہ کیوں ہورہا ہے جھگڑے کی بنیاد کیا ہے۔ اس میں عوام کے مفادات کی بات ہے یا اقتدار کی رسہ کشی جس کے نتیجہ میں پورا صوبہ پرغمال محسوس کررہا ہے۔ کس کی چلے کس کا قد اونچار ہے یہ ذاتی وقار ودبدبہ کی لڑائی عوام کے ساتھ سنگین بھداا مذاق ہے۔ ایک ہی خاندان کے 16افرا کے قبضہ میں اقتدار کی کنجیاں ہیں کوئی ایم پی ہے تو کوئی ایم ایل اے یا ایم ایل سی ملائی دار کارپوریشنوں کے چیئرمین ہیں یا صوبہ میں وزیر بیٹاوزیراعلیٰ ہے باپ پارٹی کاسپریمو چچایوپی کی پارٹی اکائی کا صدر اور ایک چچا راجیہ سبھا میں پارٹی لیڈر ایک ہی خاندان کے پانچ افراد لوک سبھا میں ہیں۔ انہیں سلگتے مسائل سے غرض ہے نہ کندھوں پرڈھوکر اقتدار کی ڈولی میں بٹھانے والے کہاروں کی یہ اپنی ضرورت کے لیے نریندرمودی کو گھر میں خاص مہمان کی جگہ دے سکتے ہیں۔ پوری ریاست میںاشتعال انگیزی پھیلانے اور فرقہ پرستوں کو دندنانے کالائسنس، خاندانی وموروثی نظام کو تقویت دینے ،نئی نسل کو اقتدار کی منتقلی کوقبولیت عام دلانے اور جمہوری بادشاہت کے شہزادے کو وارث بنانے کے عمل کے سوا اورکیا نام دیاجائے ۔ اس میں عوام کہاں ہیں اکھلیش یادو نے اس ذہنیت کامظاہرہ کرتے ہوئے یہ رائے دی کہ باہری عناصر جھگڑے پیدا کرتے ہیں یعنی پریوار ہی پارٹی ہے مگر پارٹی پریوار نہیں۔ جب فیصلے خاندان کےچندافراد کے ہاتھوں میں ہوں تو فسطائیت و آمریت ابھر آتی ہے۔

اس طرح کے جمہوری کھیل میں مسلمان خود کو بادشاہ گرسمجھ کر خوش ہوتے رہے، انہیں باور بھی یہی کرایا گیا۔ مسلم تنظیمیں خم ٹھونک کر یہ اعلان کرتی ہیں اور سیاسی جماعتوں میں اپنا قد بڑھاتی ہیں۔ مگر موجودہ وقت میں ایسی تمام تنظیمیں حاشیہ پر چلی گئیں جوانتخابات میں من وسلویٰ سمیٹنے میں ماہر تھیں۔ مسلمان بادشاہ گر تھا پیادہ بنادیاگیا۔ ان کے مسائل پس پشت چلے گئے۔ نئے مسائل پیدا کئے گئے ان میں الجھا دیاگیا۔ کسی کے منہ میں زبان نہیں کہ وہ ان سے معلوم کرے کہ ووٹ تو ہم بھی دیتے ہیں پوری جان کھپادیتے ہیں تمہاری محبت میں کتنے رقیب پیدا کرلیتے ہیں مگر اپنی چادر پر بھی بیٹھنے نہیں دیتے۔

مولانا آزاد نے مسلمانوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی پارٹی نہ بنائیں اور کانگریس جیسی پارٹی سے اپنی تقدیر وابستہ کرلیں مسلمانوں نے ایمانداری کے ساتھ اس ہدایت پر عمل کیا۔ یہ بڑی عجیب وغریب بات ہے کہ ملک کی دوسری سب سے بڑی آبادی کی ایک بھی نمائندہ تنظیم نہیں جو پارٹیاں ہیں وہ عوام کااعتماد حاصل نہیں کرسکی ہیں۔ جمہوریت میں انتخابی سیاست ہی تقدیر بناتی بگاڑتی ہے ایسے دور میں جبکہ علاقائی ونسلی بنیاد پرتنظیمیں سرگرم ہیں ، مسلمان آج بھی ففتھ کالم بناہوا ہے۔

شاید ایسا وقت آگیا ہے کہ وہ زیادہ کھلے دماغ کےساتھ سوچے اورانتخابی سیاست کے تقاضوں کومدنظررکھ کر جمہوریت کے فیوض وبرکات سے استفادہ کرنے کااہل بنائے ۔ ذوق یقیں پیدا ہوتو غلامی کی زنجیر یں کٹ جاتی ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کی حاشیہ برداری نے اچھے قسم کے کچھ آزاد غلام ضرور پیدا کردیے ہیں مگر بحیثیت امت مسائل میں اضافہ ہوتا رہا ہے ۔ اس کا جواب صرف معاہداتی سیاست ہے ۔ جذبات سے نہیں لگاتا رجدوجہد اور پسینہ بہانے سے ہی یہ ہنر پیدا ہوگا، کیا ہم اس کے لیے تیارہیں۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *