• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پنجاب اور سندھ کے ترقی پسندوں کا امتحان اور محکوم قوموں کی نجات کا سوال/عامر حسینی

پنجاب اور سندھ کے ترقی پسندوں کا امتحان اور محکوم قوموں کی نجات کا سوال/عامر حسینی

پاکستانی ریاست کی موجودہ صورتِ حال کسی حادثۂ وقت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک تاریخی تضاد کی پیداوار ہے — وہ تضاد جس میں ایک غالب قوم (پنجابی) اپنے طبقاتی مفادات کے تحفظ کے لیے دیگر قوموں (سرائیکی ،بلوچ، پشتون، سندھی، کشمیری، گلگتی۔بلتی) پر سامراجی انداز میں حکمرانی کرتی ہے۔
یہ ریاست — جسے سرمایہ دار، جاگیردار، بیوروکریٹ اور فوجی جرنیل مل کر چلا رہے ہیں — اپنی بنیاد میں ایک کثیرالقومی سرمایہ دار ریاست ہے، جہاں اکثریتی قوم کا استحقاق اقلیتوں کے استحصال سے قائم ہے۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں جاری فوجی کارروائیاں محض “سیکیورٹی آپریشنز” نہیں بلکہ اندرونی نوآبادیاتی جنگیں ہیں۔
یہ وہی طرزِ عمل ہے جو روسی سامراج نے فن لینڈ، جارجیا اور پولینڈ کے خلاف اپنایا تھا۔
جو طبقہ اپنے محنت کشوں کو غلام بنائے رکھتا ہے، وہ لازماً دوسری قوموں کو بھی غلام رکھنا چاہتا ہے۔

پاکستان کی ریاست ایک ایسی سرمایہ دارانہ ریاست ہے جس میں سرمایہ کاری کا قریب قریب 50 فیصد حصہ آج بھی کسی نہ کسی شکل میں ریاستی حثیت رکھتا ہے اور یہ پہلو ریاستی اداروں کے کردار کو مرکزی حثیت میں لے آتا ہے۔ ریاستی اداروں میں پاکستان کے عسکری ادارے کے غلبے ، تسلط اور طاقت میں برتری ریاستی اور غیر ریاستی سرمایہ کاری کے عمل میں اولین کردار ادا کرتی ہے۔ اور اس ادارے کی نسلیاتی ۔ثقافتی اعتبار سے ترکیب میں پنجابی فوجی جرنیل سب سے زیادہ بھی ہیں اور طاقتور و بالادست ہیں ۔ اس کے بعد تیزی سے ترقی کرتا ہوا پشتون جرنیل گروہ ہے۔ بلوچ ، سرائیکی ، سندھی جرنیل نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ اسی طرح سرمایہ دار طبقے کی تشکیل میں بڑے سرمایہ دار ۔ بورژوازی اور درمیانے و چھوٹے سرمایہ داروں میں بھی سب سے بڑا نسلیاتی ثقافتی ۔ایتھنک گروہ پنجابی ہے ۔ بورژوازی میں دوسرا بڑا گروہ نسلیاتی ۔ثقافتی اعتبار سے غیر پنجابی ہندوستانی مہاجر اور پاکستان بننے سے پہلے ہندوستانی ریاست گجرات سے کراچی میں آباد ہونے والا گروہ ہے جو اپنے آپ کو اردو اسپیکنگ مہاجر ایتھنک شناخت میں ضم کرتا ہے۔ تیسرا بڑا بورژوازی و پیٹی بورژوازی گروہ پشتون نسلیاتی۔ثقافتی شناخت کا حامل ہے۔ چوتھا گروہ نسلیاتی ۔ثقافتی اعتبار سے سندھی شناخت کا حامل ہے۔ جبکہ سرائیکی قوم کی بورژوازی اور پیٹی بورژوازی اگرچہ ترقی پذیر تو ہے لیکن ابھی بہت ہی کمزور حثیت کی حامل ہے۔

پاکستانی سماج میں سرمایہ دار طبقے کی ہئیت کی یہ نسلیاتی۔ثقافتی شناخت پر مبنی تشکیلی ترکیب ، ریاست کی مقننہ ، انتظامیہ اور عدلیہ کی ہئیت کی نسلیاتی ۔ثقافتی تشکیلی ترکیب کے ساتھ مل کر یہ واضح کرتی ہے کہ پاکستان کی ریاست میں مہا طاقتور قوم پنجابی ہے اور ریاست کے منتخب و غیر منتخب ڈھانچے میں بھی اسی کو سب سے زیادہ بالادستی حاصل ہے۔ اور اسی قوم کا سرمایہ دار طبقہ کل پاکستانی سرمایہ دار طبقے میں سب سے زیادہ بالادست اور طاقتور طبقہ ہے۔

پاکستان کی ریاست کی آج کی صورت حال میں خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں جو فوجی آپریشنز اور کاروائیاں جاری ہیں وہ محض اندرونی سیکورٹی آپریشنز نہیں ہیں ۔ بلکہ ان کا تعلق ایک طرف تو گزشتہ 78 سالوں میں پاکستان کی ریاست کے اس سرمایہ دارانہ ترقی اور پھیلاؤ کی پالیسی سے ہے جس میں ریاست کا مرکز پنجابی حکمران طبقات کی بالادستی اور غلبے کے زیر اثر غیر پنجابی اقوام کے علاقوں کو ایک نوآبادیات ، محکوم ، مفتوح اور مغلوب خطوں کے طور پر لیتا رہا ہے اور ان اقوام پر ریاستی جبر و استبداد مسلط کیے ہوئے ہے۔ اس اعتبار سے پاکستان کی ریاست کا کردار جہاں عالمی سرمایہ داری نظام میں عالمی سرمایہ دار طاقتوں ، عالمی مالیاتی اداروں اور عالمی غالب کارپوریٹ ٹرانس نیشنل کمپنیوں کی گماشتہ ریاست کا ہے وہیں اس کا کردار نوآبادیاتی طاقت کا بھی ہے جو جہاں پاکستان کے محنت کش طبقے کے بلا تفریق نسلیاتی ۔ ثقافتی /ایتھنک استحصال کرتی ہے تو وہیں پنجابی سرمایہ دار ، جاگیردار ، پیٹی بورژوازی، جرنیل اور بیوروکریٹ کے بالادست اور غالب کردار کے سبب غیر پنجابی اقوام کو ریاستی سطح پر قومی ظلم، جبر ، استبداد کا نشانہ بھی بناتی ہے۔ ان پر جنگیں مسلط کرتی ہے۔ ان کے خلاف فوجی آپریشنز کرتی ہے۔ پاکستان کی ریاست کا نوآبادیاتی کردار غیر پنجابی اقوام کے لیے اس ریاست کو ایک بڑے قید خانے میں بدل چکا ہے۔ جس میں اس وقت سب سے زیادہ ریاست کے ننگے جبر ، ظلم اور تشدد کا نشانہ پشتون اور بلوچ اقوام بن رہی ہیں ۔

ریاست کی اس نوآبادیاتی طرز حکمرانی پر سب سے زیادہ موقعہ پرستانہ کردار پنجاب کی سرمایہ داری کی حامی لبرل پیٹی بورژوازی دانشوارانہ پرت کا ہے۔ جو پنجابی نسل پرستانہ خیالات کے زیر اثر ریاست کی نوآبادیاتی طرز حکمرانی کی کھلی اور ننگی حمایت کر رہا ہے۔

دوسری طرف ایسے پنجابی اور ہیں جو پاکستانی ریاست کے نوآبادیاتی طرز حکمرانی کی نفی کرتے ہوئے محض “طبقاتی تضاد” کی رٹ لگاتے ہیں اور قومی جبر کو یا تو تسلیم ہی نہیں کرتے یا پھر اسے ثانوی مسئلہ قرار دے کر اسے نظر انداز کرتے ہیں ۔

آج اگر روس کا عظیم انقلابی سوشلسٹ ولادیمیر لینن زندہ ہوتا اور وہ ایسے پنجابی سوشلسٹوں کی اس روش پر لکھتا تو وہ کچھ یوں تحریر کرتا

میں ان پنجابی سوشلسٹوں سے کہتا ہوں جو محض “طبقاتی تضاد” کی رٹ لگاتے ہیں اور قومی جبر کو “ثانوی مسئلہ” کہہ کر نظر انداز کرتے ہیں —
تم دراصل حکمران قوم کے بورژوا ایجنٹ ہو!

تمہارے نظریے کی بنیاد میں مارکس نہیں، بلکہ تمہاری قوم کی اجارہ داری بولتی ہے۔
تمہارا یہ کہنا کہ “سب مسائل طبقاتی ہیں” درست ہوتا اگر تمام قومیں ریاست میں برابری کی بنیاد پر شریک ہوتیں۔
لیکن جب ایک قوم دوسری پر حکمران ہو، تب طبقاتی جبر قومی جبر کے بغیر نہیں رہ سکتا۔

یہ خاموشی، یہ بزدلی، یہ محض مضمون نویسی —
یہ سب تمہاری تاریخی غداری ہے، جو تم نے بلوچ اور پشتون عوام کے ساتھ نہیں بلکہ خود مارکسزم کے ساتھ کی ہے۔

اس وقت بلوچ اور پشتون عوام کی جو جدوجہد ہے وہ قومی آزادی و خودمختاری مختاری کی جنگ ہے۔ ان کی یہ تحریک محض قوم پرستانہ تحریک نہیں ہے بلکہ قومی انقلابی تحریک ہے کیونکہ ان کا ہدف ایسی ریاست کے جبر کو توڑنا ہے جو عوام کے خون پر ایستادہ ہے۔

اگر ان قومی انقلابی تحریکوں کی بالادست اور رہنماء قیادت محنت کش طبقے کے انقلابی شعور سے آراستہ کیڈر کے پاس ہو ناکہ مقامی سرمایہ دار اور جاگیرداروں کے ہاتھ میں ہو تو یہ انقلابی تحریکیں نہ صرف ان اقوام کی سیاسی آزادی کا راستہ کھولیں گی بلکہ یہ ان کی طبقاتی نجات کا راستا بھی کھول دیں گی ۔

پاکستان کی ریاست جس میں فوجی اسٹبلشمنٹ کا غالب کردار ہے ، اسے پنجابی بورژوازی و پیٹی بورژوازی کی مکمل اشیر باد حاصل ہے وہ بلوچستان ، خیبر پختون خوا، سندھ ، سرائیکی بیلٹ ، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان بارے وہی نوآبادیاتی گماشتہ سرمایہ دارانہ ریاست کا کردار ادا کر رہی ہے جو کسی زمانے میں زار روس ریاست کا فن لینڈ اور پولینڈ کے ساتھ تھا۔

پنجابی ترقی پسندوں کو اگر واقعی مارکسزم سے کوئی تعلق ہے تو انہیں چاہیے کہ
بلوچ اور پشتون عوام کے حقِ خودارادیت کی غیرمشروط حمایت کریں۔

یہی وہ مرحلہ ہے جہاں مارکسزم اور منافقت میں فرق واضح ہوتا ہے۔
تم یا تو اپنی قوم کی فوجی، سرمایہ دار اور جاگیردار اشرافیہ کے خلاف کھڑے ہو کر
بلوچ و پشتون عوام کے ساتھ کھڑے ہو،
یا پھر تم اسی جبر کا حصہ ہو جو روز بلوچ ، پشتون، سرائیکی ، کشمیری ، گلگتی بلتی عوام پر روا رکھا جا رہا ہے۔

اس وقت یہ بھی لگ رہا ہے کہ پنجابی بورژوازی اور پیٹی بورژوازی، پنجابی جاگیردار کے ساتھ ساتھ سندھی بورژوازی ،اس کا پیٹی بورژوازی کی لبرل جمہوری سیکشن جس کی بہت بھاری تعداد پاکستان پیپلزپارٹی کی حامی ہے اور اس کا قوم پرست لبرل سیکشن ریاست کے اس نوآبادیاتی طرز حکمرانی کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ جبکہ سندھ میں چین نواز سوشلسٹ بھی پشتون اور بلوچ قومی انقلابی تحریکوں کے خلاف سرگرم ہے اور اسی وجہ سے سندھ میں قومی تحریک کا انقلابی رنگ نہایت ہی کمزور ہے۔ اور سندھ میں قومی تحریک پر موقعہ پرستی اور رجعت پرستی غالب ہے۔

میں کہتا ہوں

“جو سوشلسٹ اپنی قوم کے ظالم و جابر نوآبادیاتی حاکم حکمران طبقے کے خلاف نہیں اٹھتا، وہ انقلاب کے جھوٹے نعرے بازوں میں سے ہے۔”

Facebook Comments

عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply