تجزیہ یعنی جائزہ امور کا فایدہ یہ ہوتا ہے یہ امکانات کی دنیا ہے۔ باریک بین بھی ہو سکتا ہے اور عمومی بھی ہو سکتا ہے۔ تجزیہ ایک نکتے پہ بھی منجمد ہو سکتا ہے اور نکات جوڑنے کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے ایک استاد تھے ، ہمیں بین الاقوامی تعلقات پڑھاتے تھے, وہ اکثر کہتے تھے ‘موٹا موٹا بتائے دیتا ہوں:’ تو باریک بین لوگ موٹی موٹی بات بھی کافی سمجھتے ہیں! بہرحال اکثر و بیشتر چیزیں جمع ہوتی ہیں۔ سماجی علوم پہ ہلکی یا گہری گرفت رکھنے والے جانتے ہیں کب کونسی مانگ نکالی جا رہی ہے اور ایک تار کب کیسے کہاں کس تار سے تلکھٹ یعنی مجتمع ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم بدھ سے شروع کرتے ہیں اور سوموار، منگل پیچھے چھوڑ آتے ہیں۔ لہذا نتائج بھی بمطابق ملتے ہیں۔ ہم اپنی پوزیشن اور وابستگیوں کو بنیاد بنا کر نتیجہ نکالنے کے بھی ماہر ہیں۔ ‘بیانیوں’ سے من چاہی تشریحات پکڑ لیتے ہیں۔ یہ ایز سچ کچھ برا بھی نہیں ہے لیکن بیانیہ ایسا ہونا چاہیے جو قومی یک جہتی کے قریب تر ہو! جھیکا گلی میں شدید سردی تھی۔ چائے نوشی کے بعد خنک و اندھیری شام کو بنیاد بناتے ہوئے سفر شروع کیا اور دورانِ سفر مختلف علاقوں اور ثقافتوں اور سیاسی وابستگیاں رکھنے والے لوگوں کو یکے بعد دیگر شریکِ سفر کیا اور فرد کا ‘بیانیہ’ جاننے میں مدد ملتی گئی۔۔۔ جب آپ کے ساتھ کوئی ہوتا ہے تو وہ علیک سلیک کے بعد لازمی کسی موضوع پہ لب کشائی کرتا ہے اور بالعموم یہ موضوع وہی ہوتا ہے جو زبان زد عام ہوتا ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے موجودہ حالات میں وہ بات نہیں کی جارہی جو وہ واقعی سوچتے ہیں۔ بہرحال سفارتی یا جنگی سیاست بھی انسانی تاریخ کا ایک نمایاں باب ہے لیکن وہ زمانہ اب نہیں ہے کہ ملک میں جمہوریت لپیٹ لی جائے اور چار دن بعد اینٹینا پھیرنے سے واجبی سا کیا دھرا معلوم ہو جائے۔۔۔ آج کی دنیا مختلف ہے۔۔۔ اب براہ راست جنگیں نشر ہوتی ہیں اور نفسیات کو اپنے دامن میں لیے کستی ہیں رگڑا بھی لگاتی ہیں! دیگر الفاظ میں اب ہر فرد متاثر ہوتا ہے اور سادہ لفظوں میں کہہ سکتے ہیں: ‘مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔’ شریکِ سفر کا کہنا تھا جب میز ہی دراصل مسائل کا حل ہے تو بندوقوں سے کونسی جمہوریت کی خدمت ہورہی ہے! پھر کہا دنیا جنگوں کی لپیٹ میں ہے اور رائے بھی بمطابق بننی چاہیے! پھر کہا جب ثقافتی مماثلت ہے تو ثقافتوں کو منانے کی بجائے شعور کو کیوں کوڑے لگائے جا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ! پھر کہا: جمہوریت کہاں ہے؟ نظر آرہی ہے؟ پھر کہا: لولی لنگڑی جمہوریت بھی آمریت سے بہت بہتر ہے! پھر پینتالیس یا سینتالیس کی جعلی حکومت کا ذکر ہوا اور ساتھ ہی حالیہ صورتحال کے مطابق بیچ کے رستوں پہ بات ہوئی وغیرہ وغیرہ! اندرونی و بیرونی انتہا پسندانہ نظریات کی ترویج پہ رائے دی گئی! بہرحال جمہوریت ایک نظام ہے جو لچک دار نظام ہے۔۔۔ تمام طبقات کو سننے کی بات کرتا ہے۔۔۔ یہ پارلیمان میں تبھی کامیاب ہو سکتی ہے جب قومی یک جہتی کے عناصر کو خوش آمدید کہا جائے اور شفاف انتخابات ہوں اور مذاکرات کی نئی نئی راہوں کی تلاش جاری رہے اور سٹیٹ کی رٹ قائم ہو تاکہ ریاست کے اندر ریاستوں کا نزول رک پائے اور تمام طبقات بشمول ریاستیں جوش کی بجائے ہوش نامی شربت کا گھونٹ گھونٹ بھر لیں!
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں