آتشی قہقہہ۔۔۔عنبر عابر

گرلز کالج کے باہر ہنگامہ برپا ہوگیا تھا اور شہلا اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے چھپائے ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھی۔ درد اور جلن سے اس کا برا حال تھا اور اس کی چیخوں نے ہر دل پر لرزا طاری کردیا تھا۔اس کے قریب لڑکیوں کا ہجوم دم سادھے کھڑا تھا جبکہ مرد حضرات قریب گزرتی گاڑیوں کو ہاتھ سے روکنے کا اشارہ دے رہے تھے۔تھوڑی دیر بعد ایک گاڑی رکی اور شہلا کو بمشکل گاڑی میں ڈال کر پچھلی سیٹ پر لٹا دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
بعد میں آنے والے ایک شخص نے دوسرے سے پوچھا۔۔۔۔
“آخر ہوا کیا تھا؟“
دوسرا بولا۔۔۔۔۔۔”بیچاری پر کسی نے تیزاب پھینک دیا تھا“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ روز شوخ وچنچل شہلا کو کالج جاتے دیکھتا تھا۔۔۔۔ اس کے جلتے ہونٹوں پر ہمیشہ مسکراہٹ رینگتی رہتی اور اس کی ہر بات کا اختتام قہقہے پر ہوتا۔پھر ایک دن اس نے موقع پاکر شہلا سے محبت کا اظہار کردیا۔وہ گلی کے سرے پر کھڑا ہوکر اس کا راستہ روک کر بولا تھا۔۔۔۔
“میں تم سے محبت کرتا ہوں“
شہلا کا خوبصورت چہرہ غضب آلود ہوگیا تھا۔
“دفعہ ہوجاؤ“ شہلا نے اسے بری طرح جھڑکا تھا۔
“تم بات سمجھو۔۔میں بے اختیار ہوں۔۔تمہاری ہنسی میرا چین لوٹ گئی ہے“ وہ پھر بھی باز نہ آیا تھا
“دفعہ ہوجاؤ“ شہلا کا لہجہ دو ٹوک تھا
“پلیز میری بات پر غور کرو“ وہ پوری کوشش کر رہا تھا۔
“دفعہ ہوجاؤ ورنہ شور مچادوں گی“ شہلا کے الفاظ کسی خنجر کی طرح اس کے سینے میں کُھب گئے تھے
“میں تمہاری مسکراہٹ چھین لوں گا“ وہ زہر آلود لہجے میں بولا تھا
اگلے دن جب شہلا مسکرا مسکرا کر اپنی سہیلیوں سے بول رہی تھی اسے یہی محسوس ہوا تھا جیسے وہ اس پر قہقہے لگا رہی ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شہلا اپنا مسخ شدہ چہرہ نقاب میں چھپائے اپنی سہیلیوں کے ساتھ جا رہی تھی۔جب وہ کالج کے قریب اس جگہ پہنچی جہاں روز وہ اس کا انتظار کرتا تھا۔۔۔۔۔۔وہ جان بوجھ کر اونچی آواز میں بولنے اور قہقہے لگانے لگی۔۔۔
اس کی سہیلی نے مدھم لہجے میں پوچھا
“مجھے لگتا ہے تمہیں اپنے چہرے کا افسوس نہیں؟“
وہ اونچی آواز میں کھلکھلائی اور بولی۔”اب میں ردعمل کے طور پر جیونگی۔۔۔۔اب میں ضد میں آکر زندگی کو ہنسی سے لوٹ لوٹ کردونگی۔۔۔۔۔۔ہاں میں اپنے دشمن کے چہرے پر فاتحانہ چمک نہیں دیکھ سکتی“
اس کے ساتھ ہی اس نے ایک اونچا قہقہہ لگایا جو دور گھات لگائے جیت کے منتظر، دشمن کے کانوں کو سلگا کر اس کا چہرہ شکست کے احساس سے تاریک کرگیا!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”آتشی قہقہہ۔۔۔عنبر عابر

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *