مسلمانوں کے زوال کے اسباب۔۔ حسن کرتار

“اسلام کا فلسفہ دراصل کیا ہے، یہی چار پانچ پرانے مذاہب کا مرکب ہے وگرنہ کچھ اپنا ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔ بالخصوص یہودیوں، پارسیوں، عیسائیوں اور مانیت کا بہت ہی گہرا اثر ہے اسلام پر۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ مسلمان تاریخ، فلسفہ پڑھتے ہی نہیں اور اگر پڑھتے ہیں تو سوائے اپنی پسندیدہ ہستیوں اور ان کی لکھی یا لکھوائی  کتابوں کے سوا انہیں اور کچھ سمجھ آتا ہی نہیں۔ تبھی کئی صدیوں سے سخت خوار چلے آرہے ہیں۔ اب بھی ان کا زور بجائے حقیقت تسلیم کرنے کے صرف آپسی لڑائی جھگڑوں یا ترقی یافتہ اقوام میں کیڑے نکالنے پر ہے۔ تکنیکی طور پہ ان کے ذہنوں کو زنگ لگ چکا ہے یا موت واقع ہو چکی ہے۔اور اگر یہ وقت کے تقاضوں کو نہ سمجھے اور خود کو نہ بدلا تو ان کا حال بھی مانی کے ماننے والوں جیسا ہی ہونا ہے۔ یہ بھولے بیٹھے ہیں کہ ان معاملات میں فطرت کسی کو نہیں معاف کرتی۔”

اس رائے پر ایک بزرگ مسلمان قدوسی صاحب نے اپنی نپی تلی رائے دیتے ہوئے فرمایا:

“صحیح کہا, ہمارے نام نہاد دانشوروں کے نزدیک قرآن ایک دقیانوسی کتاب ہے. محمد(ص) صرف ایک بزرگ تھے جن کا احترام اس وقت کیا جاتا ہے جب شناخت کا اندیشہ ہو ورنہ جو منہ میں آئے کہہ دو. تاریخ اور فلسفہ کی کتب سنجیدہ لٹریچر شمار ہوں گی. وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان اپنے نبی سے قرآن سے بغاوت کر دیں جیسے عیسائیوں نے عیسٰی  سے بغاوت کی اور یہودیوں نے موسی سے. لیکن نہیں ۔۔
ہم مسلمان ہیں اور ہم اپنے نبی پر فخر کرتے ہیں. ہماری جان ان پر قربان. لیکن یہ بات ان لوگوں کی عقل سے ماورا ہے جو پیدا تو مسلمانوں کے گھر  ہوئے ہیں لیکن اپنی ناقص تربیت اور ذہنی مرعوبیت کے سبب ترقی کے تصور سے نا آشنا ہیں.
جن کو یہ ترقی یافتہ کہتے ہیں ان ترقی یافتہ بدمعاشوں کے دامن پہ لاکھوں  بے گناہوں کا خون ہے. جنہوں نے ریڈ انڈینز کو جانوروں سے بھی بدتر جانا اور ان کا شکار کیا. جنہوں نے جنگ عظیم اول دوم میں انسانیت کو تباہ کر دیا. جو برطانیہ سے اٹھے اور برصغیر کے ہندو اور مسلم باشندوں کے خون سے ہولی کھیلی. جنہوں نے عراق افغانستان کو تباه کر دیا. آج یہ لوگ ترقی یافتہ سمجھے جاتے ہیں. مہذب گردانے جاتے ہیں. حیرت اور افسوس ہے ایسی سوچ پر لیکن یہ آپ کا حق ہے آپ اپنے لیے جو مرضی سوچ پسند کریں
البتہ ہمارے زوال کے اسباب کچھ اور ہیں. یہودی اپنے مذہب پر ہم سے بہتر عامل ہیں. اسرائیل اس کی زندہ مثال ہے.”

بات ختم کرنے کیلئے میں نے آخری رائے دیتے ہوئے کہا:

“صاحب یہ قتل و غارت لوٹ مار کا تعلق مذہب سے زیادہ انسانی سرشت اور ہوس سے ہے۔ جس جس طاقتور تہذیب کا جہاں جہاں زور تھا سب نے اس کارِ عجیب میں حصہ لیا۔ یقینا ً مسلمان بھی اپنے عروج کے دور میں کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ تاریخ ِ اسلام تو یہی بتاتی ہے کہ مسلمانوں نے اپنے عظیم رہبر کے جنازے سے کچھ پہلے آپسی لڑائی جھگڑے شروع کیے  تھے وہ جنگِ جمل، کربلا اور جانے کتنی اور جنگوں سے ہوتے ہوئے اب تک جاری ہیں۔ اور جو آج کل کے دور میں بڑی طاقتیں مسلمانوں پر ظلم کر رہی ہیں اسکے بھی براہِ راست ذمہ دار مسلمان خود ہی ہیں۔ انہیں کس نے سائنس ٹیکنالوجی فلسفے اور دیگر جدید علوم میں ترقی کرنے سے روکا ہوا ہے؟ ظاہر ہے ا ن کے اپنے کرتوت ہی ایسے ہیں اب ایسے میں طاقتور قومیں فائدہ تو اٹھائیں گی۔”

مگر بات نہ ختم ہوئی  بزرگ نے کچھ یوں فرمایا کہ فلسفے سائنس سے وقت ملے تو کبھی قرآن اور دینی کتابیں بھی پڑھ لیا کروں۔ پھر میں نے کہا:

“صاحب آپ بزرگ ہیں اس لئے ز یادہ بحث مناسب نہیں لگتی۔ اور نہ ہی کسی جواں کیلئے ممکن ہوتا ہے کسی بزرگ کو کچھ سمجھاسکے ۔ البتہ یہ بات یاد رہے جو شخص مسلم معاشروں میں پیدا ہو اس کے لئے ممکن نہیں کہ اس نے مسلمانوں کی مذہبی کتابوں کو نہ پڑھا ہو۔ یہاں تک کہ یہاں پاکستان میں غیر مسلموں کو بھی اسلامیات پڑھائی  جاتی ہے۔ البتہ ایسے انسان کم کم ہی گزرے ہیں جو مسلم معاشروں میں پیدا ہونے کے باوجود فلسفہ سائنس اور دیگر جدید علوم میں نہ صرف دلچسپی لیتے ہیں بلکہ انہیں انسان کی ذہنی ترقی کے لئے ضروری بھی سمجھتے ہیں۔”

آئیے اب آخر میں مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر کچھ روشنی ڈالیں:
مسلمان اس زوال کی کیا وجوہات سمجھتے ہیں:
1۔قرآن و سنت سے دوری
2۔یہود و ہنود و قادیانیوں کی دشمنوں کی ریشہ دوانیاں
3۔ اور کئی  وجوہات ہو سکتی ہیں اگر کسی مسلمان مفکر کے ذہن میں ہوں تو ضرور آگاہ کرے۔

یہ خاکسار مسلمانوں کے زوال کی کیا وجوہات سمجھتا ہے۔

1۔مسلمانوں کا خود کو مسلمان سمجھنا۔ جبکہ بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہ دیو بندی، شیعہ، سنی، اسماعیلی وغیرہ وغیرہ ہیں۔

2۔ چالاک مہذب دنیا کی طرف سے دی گئی ترکیب “مسلم ورلڈ” پہ یقین رکھنا گو اپنے لئے وہ کبھی ” کرسچیئن ورلڈ” یا کسی اور مذہبی ورلڈ کا استعمال نہیں کرتے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہر کلچر میں مذہب مختلف رنگ سے ہوتا ہے ۔ ترکی میں رہنے والا مسلمان اور پشاور میں رہنے والا مسلمان ایک سے نہیں ہوسکتے۔ یہاں تک کہ تربت میں رہنے والا مسلمان بھی پنجاب کے مسلمانوں سے بہت مختلف ہے۔

3-کچھ وجوہات کا اوپر تحریر میں اظہار ہوچکا ہے یعنی مسلمانوں کی جدید علوم سے دوری یا انہیں اہم نہ سمجھنا۔ البتہ ایک وجہ جو سب سے اہم ہے وہ مسلمانوں کا خواہ مخواہ کا سپیریارٹی کمپلیکس ہے۔ یعنی اپنے سوا خدا کے سب انسانوں کو کمتر سمجھنا۔ اور ساتھ ساتھ یہ سمجھنا کہ ایک دن تعداد میں زیادہ ہوکر مسلمان دنیا پہ غلبہ پا لیں گے۔ جو کہ مسلمانوں کی صدیوں پرانی فرقہ بندیوں کی وجہ سے ناممکن سے بھی زیادہ ناممکن ہے۔

4۔ کچھ مسلمان کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا کچھ کہتے ہیں کردار کے زور پر ۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں تو یہی کہوں گا کہ: مسلمان جس طرح ہر سنجیدہ مسئلے کو غیر سنجیدگی سے لیتے ہیں اسی طرح انہوں نے “خاندانی منصوبہ بندی” جیسی اہم ترین چیز کو بھی انتہائی غیر سنجیدگی سے لیا اور لے رہے ہیں۔ اس لئے یہ دھیان رکھے بغیر کہ زمینی وسائل کتنی تیزی سے کم ہو رہے ہیں ، غربت بےروزگاری کتنی بڑھ رہی ہے، تعداد اہم ہوتی ہے یا معیار، فطرت کے کیا اصول ہیں، بدلتی حقیقتیں کیا ہیں ؛ ‘مسلمان’ اندھا دھند تیزی سے بس پھیلتے ہی جا رہے ہیں۔۔۔ مگر کب تک؟

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *