• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کابل-اسلام آباد ڈیڈلاک ‘ایک زمینی حقیقت/عارف خٹک

کابل-اسلام آباد ڈیڈلاک ‘ایک زمینی حقیقت/عارف خٹک

حالیہ کابل۔اسلام آباد ڈیڈلاک میں دونوں فریقین جس انداز میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ چکے ہیں، وہ فطرت کے اصولوں کے خلاف محسوس ہوتا ہے۔ افغان حکمرانوں کو بخوبی معلوم ہے کہ ان کے پاس اتنی طاقت نہیں کہ افغانستان میں موجود نورولی محسود گروپ کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کر سکیں، کیونکہ قندھار بیلٹ کی قیادت دراصل ٹی ٹی پی کی احسان مند اور پرانی اتحادی ہے۔

افغان قیادت کو عالمی منظرنامے کا ادراک مکمل طور پر نہیں ہو پا رہا، تاہم اپنے محدود وسائل اور زمینی حقائق کے مطابق وہ جو کچھ کر پا رہے ہیں، میرے خیال میں قابلِ قبول ہے۔ حالیہ افغان۔بھارت دورے کا ان حالات سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں، کیونکہ پاکستان بہرحال افغانستان میں موجودہ حکمرانوں سے زیادہ مضبوط اور مستحکم ملک ہے۔ لہٰذا یہ بحث کہ پاکستان کو کیا کرنا چاہیے اور افغانستان کو کیا قابلِ عمل اقدام اٹھانا چاہیے، محض لاحاصل گفتگو ہے۔

ہندوستان کی پراکسی بلوچستان بیلٹ میں زیادہ مضبوط ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں امریکی موجودگی کے دوران “را” نے افغانستان میں اپنے اثر و رسوخ کو خاصا بڑھایا۔ ان کی توجہ ننگرہار میں موجود پاکستانی قوم پرست عناصر پر رہی، جو پاکستان سے نوجوانوں کو مختلف این جی اوز کی آڑ میں افغانستان منتقل کرتے تھے۔ تاہم، جیسے ہی امریکی اور اتحادی قوتوں کی گرفت افغانستان پر کمزور ہوئی، “را” کے بیشتر افغانی اثاثے بیرونِ ملک منتقل ہو گئے، اور وہ پاکستانی قوم پرست نوجوان واپس وطن لوٹے جنہوں نے بعد ازاں پشتون لسانی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

سوات آپریشن سے قبل ٹی ٹی پی کو بظاہر امریکی مدد حاصل تھی تاکہ وہ افغانستان میں پاکستانی حلقوں کے اثر کو کم کر سکیں اور اتحادیوں کو دکھا سکیں کہ امریکہ خطے میں اب بھی ایک طاقت کے طور پر موجود ہے۔ چونکہ بھارت کی افغانستان میں موجودگی امریکی سرپرستی میں تھی، لہٰذا محسود قبیلے سے تعلق رکھنے والے ٹی ٹی پی کے طاقتور گروہ جو خوست اور انگور آڈہ سرحد کے اس پار تھے، رفتہ رفتہ “را” کے قریب آ گئے۔

گریٹر پشتونستان کے نعرے کے پیچھے دراصل جلال آباد میں بھارتی سفارتخانے کا کردار تھا، جس نے مذہبی نظریات کے ساتھ قوم پرستی کا پہلا انجکشن ٹی ٹی پی میں داخل کیا۔

میں ذاتی طور پر جلال آباد میں “را” کی موجودگی کی شدت کا مشاہدہ کر چکا ہوں۔ سال 2014 اور 2016 میں جب مجھے دو بار انٹروگیٹ کیا گیا تو امریکی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ بھارتی افسران بھی موجود تھے، جو مجھ سے کراچی ڈیفنس میں کچھ شخصیات کے بارے میں مضحکہ خیز سوالات کرتے تھے۔ یہی تجربہ معروف پاکستانی صحافی فیض اللہ خان کو بھی پیش آیا، جس کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب “ڈریونڈ لائن کا قیدی” میں کیا ہے۔

لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ٹی ٹی پی کی موجودہ قیادت کو افغان قندھار بیلٹ میں قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے اور وہاں کی قیادت اسے اپنا اتحادی مانتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کابل کی حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف کسی عملی اقدام پر آمادہ نہیں ہو پاتی۔

خواجہ آصف کے حالیہ دورۂ کابل میں اس معاملے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ بعض افغان حلقوں نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر پاکستان انہیں دس ارب روپے فراہم کر دے تو وہ پاک افغان سرحد کے قریب بسنے والے پاکستانی قبائل کو بدخشاں منتقل کر سکتے ہیں۔ تاہم قندھار بیلٹ کی قیادت کے لیے یہ تجویز کسی صورت قابلِ قبول نہیں تھی۔

ایران سے لے کر بلوچستان۔افغان بارڈر تک پھیلی صحرائی پٹی بلوچ علیحدگی پسندوں کے لیے ایک محفوظ راستہ بنی ہوئی ہے۔ ان کے سلیپنگ سیلز ایران میں موجود ہیں، جنہیں دبئی سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ دبئی کے انٹرنیشنل سٹی ایریا میں بیٹھے ہینڈلرز براہِ راست آپریشنز چلاتے ہیں، اور قندھار کے موجودہ حکمرانوں کے کچھ عناصر ان کے سہولت کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ایسے میں یہ ماننا مشکل نہیں کہ “را” افغانستان میں ٹی ٹی پی کی قیادت تک رسائی اور اثر و رسوخ قائم رکھنے میں کامیاب ہے۔ مگر حالیہ اسرائیل حملے کے بعد بھارت اور ایران کی بیچ اعتماد کو متزلزل کیا ہے اور جنگ کے بعد ایران کا نشانہ افغان مہاجرین اور بلوچ علیحدگی پسند بنے ہیں کیونکہ ایران کو معلوم ہے کہ دبئی میں اسرائیلی ایجنسیوں کے اہلکار دبئی علیحدگی پسندوں کے قریب ہیں۔ حالیہ قطر آبدوز اسکینڈلز میں بھارتی ایجنسی کا بے نقاب ہونا بھارت کیلئے خطے میں سبکی کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس لئے اب بھارت کو براہ راست رسائی آسان دیکھائی نہیں دے پارہی۔ اس لئے ہندوستان کا کابل میں سفارت خانہ کھولنا دراصل پاکستان کیلئے نئی مشکلات ضرور بڑھا سکتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پاکستان کا افغانستان میں اثر و رسوخ سب پر عیاں ہے اور امریکیوں کو بھی اس کا علم ہے، تو پھر ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی پاکستان کے لیے اتنا بڑا مسئلہ کیوں بن چکی ہے؟
کیا کابل پر حملے کے پسِ منظر میں کوئی بڑی جیو اسٹریٹیجک چال چھپی ہے؟

ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پشتون قوتوں کے ساتھ کھلے دل سے بات چیت کیوں نہیں کر پا رہی؟ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور ناراض پشتون نوجوانوں کے ساتھ مفاہمت کیوں ممکن نہیں بن رہی؟

یہ سوالات اس وقت مزید سنگین ہو جاتے ہیں جب ہم حالیہ امریکی حرکات دیکھتے ہیں
طالبان سے بگرام ایئر بیس مانگنا،
پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی کی پیشکش،
بھارت کو حالیہ لڑائیوں میں بار بار کمزور دکھانا،
اور اسرائیل و فلسطین کے دو ریاستی حل پر تیز رفتاری سے کام کرنا۔

julia rana solicitors

کیا یہ سب اس جانب اشارہ نہیں کرتا کہ سپر پاور اپنی تمام ناکامیوں کا ملبہ ایک بار پھر پاکستان پر ڈالنے کی تیاری کر رہی ہے؟
اگر ایسا ہوا تو ممکن ہے آنے والے کل کی تاریخ میں ہم خود کو پہچان نہ سکیں۔

Facebook Comments

عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply