سادھو (افسانہ)- زبیراسلم بلوچ

چندرپور کے پرانے کنارے پر ایک برگد کا درخت کھڑا تھا۔ اس کی جڑیں زمین کے سینے کو چیر کر ہوا میں سانس لیتی تھیں، اور اس کی چھاؤں میں ایک بوڑھا سادھو رہتا تھا۔ سادھو پرما نند۔ وہ کم بولتا تھا، زیادہ سنتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسی خاموشی تھی جو وقت سے پرانی لگتی تھی۔ لوگ کہتے تھے، وہ جوانی میں کسی عورت سے محبت کرتا تھا، مگر اس کے مرنے کے بعد اس نے بولنا چھوڑ دیا۔ کچھ کہتے وہ خدا کو تلاش کرتے کرتے انسانوں سے بیزار ہو گیا۔ مگر جو بھی کہانی تھی، اتنا سچ ضرور تھا کہ اس کے سکوت میں کچھ ایسا تھا جو بولنے والوں سے زیادہ بولتا تھا۔

چندرپور کے لوگ اس کی جھونپڑی کے پاس آتے، ماتھا ٹیکتے، دعا مانگتے۔ کچھ ایمان سے، کچھ ڈر سے۔ سادھو سب کو خاموشی میں دعا دیتا۔ اس کی تسبیح صدیوں سے ایک ہی دعا دہراتی: “روشنی اندھیروں کے لیے نہیں، دیکھنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔”

چندرپور پر راجہ دیویندرا سنگھ کی حکومت تھی۔ کمزور، خودپسند، اور شک میں جیتا ہوا آدمی۔ اس کی رانی میناکشی تھی، حسن کی دیوی، مگر دل کے اندر ایک خلا۔ وہ محل کے آئینوں میں خود کو دیکھتے دیکھتے خود سے اکتا چکی تھی۔ ایک دن محل سے نکل کر دریا کنارے چلی گئی، جہاں برگد کے نیچے سادھو بیٹھا تھا۔ وہ رکی، دیر تک اسے دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سکون تھا۔ وہ بولی، “بابا، آپ اتنے خاموش کیوں ہیں؟” سادھو نے آنکھیں کھول کر کہا، “جو خدا سے بات کرے، اسے دنیا سے کیا کہنا؟” رانی کے لبوں پر ہلکی مسکراہٹ آئی، مگر دل میں ایک درد سا اتر گیا۔ اس رات اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ راجہ کی نہیں، اپنی خالی روح کی قیدی ہے۔

محل میں پجاری گورک ناتھ تھا، جو دیوتاؤں کے نام پر سونا کماتا، اور راجہ کے سامنے جھکتا تھا۔ جب اس نے سنا کہ رانی روز برگد کے نیچے سادھو کے پاس جاتی ہے، تو اس کے اندر خوف جاگا۔ اسے لگا، اگر لوگوں نے سادھو کی بات مان لی تو مندر کی عزت، اس کے منتر، اور اس کے دان سب ختم ہو جائیں گے۔ اس نے راجہ کے کان میں زہر گھولا، “مہاراج، وہ سادھو جادوگر ہے۔ رانی کو بہکا رہا ہے۔ رعایا کو سکھا رہا ہے کہ خدا تخت پر نہیں، مٹی میں ہے۔ یہ بغاوت ہے۔”

راجہ چونک گیا۔ “کیا وہ میناکشی سے ملتا ہے؟” پجاری نے جھوٹ ملایا، “ہر شام۔ لوگ کہتے ہیں، وہ اس پر جادو کر چکا ہے۔” راجہ کے اندر کی آگ بھڑک اٹھی۔ اس رات اسے خواب آیا کہ ایک فقیر اس کے تخت پر بیٹھا ہے۔ صبح اس نے سپاہیوں کو بلایا۔

اسی دوران بستی میں حادثہ ہوا۔ سوداگر جمن داس نے کنویں میں زہر ڈال دیا تاکہ لوگ مندر کے پانی پر انحصار کریں۔ درجنوں لوگ مر گئے۔ پجاری نے شور مچا دیا، “یہ دیوتاؤں کا قہر ہے! سادھو نے منتر توڑ دیے۔” لوگ اندھے ایمان کے جوش میں برگد کی طرف دوڑے۔ پتھر برسنے لگے۔ فقیر بھیکو چیخا، “یہ سچ نہیں! میں نے جمن داس کو دیکھا تھا!” مگر شور میں اس کی آواز دب گئی۔ سادھو خاموش بیٹھا رہا۔ بس اتنا بولا، “جب اندھیرا مقدس لباس پہن لے، تو روشنی کو کافر کہا جاتا ہے۔”

رانی میناکشی آئی، اس کی آنکھوں میں آنسو۔ “بابا، یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟” سادھو نے کہا، “جب ایمان تجارت بن جائے، تو خدا غائب ہو جاتا ہے۔” رانی بولی، “آپ بھاگ کیوں نہیں جاتے؟” سادھو نے ہنس کر کہا، “میں بھاگ کر کہاں جاؤں؟ ہر سمت وہی دیوتا بیٹھے ہیں جو بندوں کے خالق بن بیٹھے ہیں۔”

سپاہی بھیما اس وقت آیا، زنجیر ہاتھ میں۔ “بابا، حکم ہے، آپ کو دربار جانا ہے۔” سادھو اٹھا، مسکرا کر بولا، “میں تو پہلے ہی قید میں ہوں، وقت کی قید میں۔ چلو۔”

دربار میں راجہ بیٹھا تھا، رانی خاموش، پجاری گورک ناتھ فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ۔ “سادھو!” راجہ گرجا، “تم نے رعایا کو گمراہ کیا، رانی کو بہکایا، اور دیوتاؤں کی توہین کی۔” سادھو نے پرسکون لہجے میں کہا، “میں نے صرف یہ کہا کہ خدا تخت پر نہیں، دل میں ہے۔ اگر یہ گستاخی ہے، تو تمہارا ایمان کمزور ہے۔” پجاری چلّایا، “یہ کفر ہے! اسے آگ میں جلاؤ!” راجہ نے اشارہ کیا، “ایسا ہی ہو۔”

برگد کے نیچے لکڑیاں لگائی گئیں۔ لوگ جمع ہو گئے۔ پریم ناتھ شاعر بھی آیا، لوہار ہری داس، فقیر بھیکو، حتیٰ کہ وہ بچہ گوپی بھی جو روز برگد کے نیچے کھیلتا تھا۔ رانی کے قدم کانپ رہے تھے۔ سپاہی بھیما نے آگ لگائی، مگر اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ سادھو نے آسمان کی طرف دیکھا، “اے مالک، میں نے تیری مخلوق سے محبت کی، سزا تیری ہے یا ان کی؟” پھر آنکھیں بند کر لیں۔ شعلے بلند ہوئے۔ دھواں ہوا میں پھیل گیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ آگ کے بیچ وہ مسکرا رہا ہے۔

بارش تین دن بعد برسی۔ کنویں کا زہر دھل گیا۔ برگد کے نیچے راکھ کی جگہ ایک سفید پتھر پڑا تھا۔ فقیر بھیکو نے کہا، “یہ سادھو کا دل ہے۔” اس رات ہوا میں خوشبو پھیلی، عجیب، پاک، مگر دردناک۔ پجاری گورک ناتھ پاگل ہو گیا، چیختا پھرتا، “میں نے اسے جلایا، مگر وہ مرا نہیں!” سوداگر جمن داس کو کوڑھ لگ گیا۔ سپاہی بھیما نے تلوار پھینک دی۔ لوہار ہری داس نے مندر کی گھنٹی پگھلا کر چراغ بنایا، اور فقیر نے اس میں تیل ڈالا۔ “یہ اس کے سکوت کی روشنی ہے۔”

سالوں بعد راجہ مر گیا۔ اس کے مقبرے پر صرف ایک لفظ کندہ تھا: “خاموشی”۔ رانی نے محل چھوڑا، برگد کے نیچے آ کر رہنے لگی۔ وہ چپ رہتی، بس کبھی کبھی کہتی، “میں نے خدا کو دیکھا، مگر وہ انسانوں کے بھیس میں آیا تھا۔” شاعر پریم ناتھ نے آخری نظم لکھی:
“میں نے سچ کو جلتے دیکھا،
مگر راکھ سے خوشبو اٹھی،
میں نے انسان کو مرتے دیکھا،
مگر انسانیت جاگ اٹھی۔”

بچہ گوپی جوان ہو گیا۔ ہر صبح برگد کے نیچے بیٹھ کر کہتا، “سادھو بابا مرا نہیں، وہ ہم سب کے اندر سانس لیتا ہے۔”

صدیاں گزریں۔ چندرپور شہر بن گیا۔ برگد کے نیچے اب ایک چھوٹا سا مزار ہے — نہ مندر، نہ مسجد۔ بس ایک جگہ، جہاں لوگ آ کر خاموش بیٹھ جاتے ہیں۔ ایک دن ایک نوجوان آیا، پوچھا، “یہ کس کا مزار ہے؟” ایک بوڑھی عورت بولی، “یہ سادھو پرما نند کا ہے۔” “کون تھا وہ؟” عورت مسکرائی، “وہ جو بولتا نہیں تھا، مگر سب کو سن لیتا تھا۔ وہ جو مر گیا، مگر سب کے اندر زندہ ہے۔”

ہوا چلی۔ برگد کے پتوں میں سرگوشی ہوئی۔ جیسے کوئی کہہ رہا ہو، “میں گیا نہیں ہوں۔ میں ہر اس دل میں ہوں جس نے ظلم کے سامنے خاموش رہنے سے انکار کیا۔”

julia rana solicitors

راکھ مٹی میں مل گئی، مگر اس کی خوشبو باقی رہی — وہ خوشبو جو سچائی کے جینے اور انسانیت کے مرنے کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔
سادھو چلا گیا، مگر اس کی خاموشی اب بھی بولتی ہے، ہر اس لمحے جب کوئی انسان اپنے دل میں خدا کو تلاش کرتا ہے

Facebook Comments

زبیر اسلم بلوچ
تعارف : زبیر اسلم بلوچ اپنی طرز کے منفرد دانشور اور ادیب ہیں۔زبیر اسلم کا رضوان ظفر گورمانی کا رشتہ ایسے ہی ہے جیسے انعام رانا اور سیدی مہدی بخاری کا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply