دجال، شیرمرد اور ییٹس کی نظم ’ظہورِ ثانی‘/ظفر سیّد

مشہور آئرستانی شاعر ولیم بٹلر ییٹس نے اپنی شہرۂ آفاق نظم ‘ظہورِ ثانی‘ ایک ایسے وقت میں لکھی تھی جب انیسویں صدی کے آخری اور بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں علمی، فکری اور سائنسی میدانوں میں برق رفتار ترقی کے باعث توقع پیدا ہو گئی تھی کہ شاید اب دُنیا امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے۔
لیکن صدی کے شروع ہوتے ہی پہلی جنگِ عظیم بپا ہو گئی جو اس وقت تاریخ کی سب سے ہلاکت خیز جنگ تھی۔ اسی اثنا میں روس میں انقلابِ اکتوبر کے نتیجے میں بےتحاشا انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور لاکھوں روسی بھاگ کر یورپ کے دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ ییٹس کے آبائی وطن آئرلینڈ میں بھی اس عرصے میں انگلستان کے تسلط کے خلاف خانہ جنگی جاری تھی۔ یہ سارے حالات اور واقعات بیسوی صدی سے وابستہ اُمیدوں کا گلا گھونٹنے کے لیے کافی تھے۔ لیکن آج 80 برس کے بعد بھی دُنیا کے حالات ویسے کے ویسے ہیں اور ہم اکیسویں صدی کے آغاز پر ییٹس کے سے مسائل سے دوچار ہیں۔ اسی لیے یہ نظم اتنی ہی معنی خیز لگتی ہے جتنی اپنی تخلیق کے وقت تھی۔
اس نظم کو عام طور پر بیسویں صدی کی سب سے مشہور اور سب سے زیادہ مقتبس نظم تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو اسے بیسویں صدی کی سب سے بڑی نظم قرار دیتے ہیں۔ اس کے تقریباً تمام پہلوؤں پر سیرحاصل بحث ہو چکی ہے۔ زیرِ نظر تجزیاتی مطالعہ کا موضوع، نظم کی ایک انتہائی اہم علامت، اس کا ایک کردار ’عفریت‘ ہے۔
ییٹس، شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ مفکر بھی تھا۔اس نے ایک تاریخی نظریہ بھی پیش کیا تھا جس کی شاید بطور علمی و فکری نظریہ تو اتنی اہمیت نہ ہو لیکن ییٹس کی شاعری کو سمجھنے کے لیے اس نظریے کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ اس لیے ذیل میں اس کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے
ییٹس کا خیال تھا کہ انسانی ذہن کا ارتقا ایک مخروطی چکر یا ’کون‘ کی شکل میں ہوتا ہے جس کا آغاز ایک بشارت سے ہوتا ہے۔ خیالات و نظریات ایک دائرے میں چکر کاٹتے ہوئے اس فرضی مخروطی چکر کے کھلے حصے کی طرف گردش کرتے ہیں حتیٰ کہ ’مرکز سہار نہیں سکتا‘ اور اس مخروطے کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ آخر ایک نئی بشارت ہوتی ہے اور ایک نئے مخروطے کا آغاز ہوتا ہے جس کا رُخ پہلے مخروطے کے برعکس ہوتا ہے۔
ییٹس کا خیال تھا کہ انسانی تاریخ کا سفر بھی اسی فارمولے کے تحت ہوتا ہے اور اس کا ہر چکر بیس صدیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کا آغاز ایک بشارت سے ہوتا ہے۔ ایک چکر وہ تھا جو آج سے دو ہزار سال قبل ایک بشارت کی شکل میں نمودار ہوا ، یعنی حضرت عیسیٰ کی پیدائش، جس نے وقت کی طاقت ور ترین رومن تہذیب کی بنیادوں میں دراڑیں ڈال دی تھیں۔ بیسویں صدی کے آغاز پر اس چکر کی 20 صدیاں پوری ہو گئیں اور اب یہ انتہائی حد تک زوال کا شکار ہو چکا ہے:
The best lack all conviction, while the worst.
Are full of passionate intensity.
اور اب ایک نئی بشارت کا وقت آ گیا ہے:
Surely some revelation is at hand.
اس موقعے پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بیشتر آسمانی مذاہب کے مشترکہ عقیدے کا ذکر کر دیا جائے جس کے تحت جب دُنیا میں تشدد، بے دینی اور ظلم اپنی آخری حدوں کو چھو لیں گے تو حضرت عیسیٰ ؑ دُنیا میں واپس تشریف لے آئیں گے اور دُنیا کو اس انتشار سے نجات دلا دیں گے۔ اسی عقیدے کو عہدنامہ جدید میں ’ظہورِ ثانی‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
لیکن ییٹس کا ’ظہورِ ثانی‘ ان مروجہ مذہبی نظریات کے برعکس ہے۔ اس کے ’ظہورِ ثانی‘ کے نتیجے میں جو کردار دُنیا میں وارد ہو گا وہ عیسیٰ کی طرح انسانیت کا نجات دہندہ نہیں ہو گا، اسے ضدِ عیسیٰ یا اینٹی کرائسٹ کہا جا سکتا ہے۔ اس کردار کے بارے میں ییٹس نے نظم میں کافی معلومات فراہم کی ہیں۔ نظم کے دوسرے پیرے میں اس مخلوق کا سراپا بیان کیا گیا ہے جو شیر کا دھڑ اور آدمی کا سر رکھتی ہے۔ ہم اسی بلا کے تصور کو ذرا تفصیل سے دیکھتے ہیں۔
شیر کے دھڑ اور آدمی کے سر والی ایک بلا کا تذکرہ یونانی دیومالا میں ملتا ہے جسے سفنکس کہا جاتا ہے۔ یہ تھیبز شہر میں داخل ہونے والے لوگوں کو گھیر کر ان سے ایک پہیلی پوچھتی تھی: ’وہ کیا چیز ہے جو صبح چار ٹانگوں پر، دوپہر کو دو ٹانگوں پر اور شام کو تین ٹانگوں پر چلتی ہے؟‘
اس پہیلی کا جواب کسی کو معلوم نہیں تھا اور سفنکس جواب نہ دے پانے والے کو فوراً ہلاک کر دیتی تھی۔ آخرکار دیومالا کے ہیرو ایڈیپس نے سفنکس کے سوال کا جواب دیا: ’انسان، جو صبح (بچپن میں) چار ٹانگوں پر چلتا ہے، دوپہر (جوانی میں) دو ٹانگوں پر، اور شام (بڑھاپے میں) تین ٹانگوں پر (دو ٹانگیں اور ایک لاٹھی)۔‘ اس پر سفنکس نے دِل برداشتہ ہو کر خودکشی کر لی۔ بلا سے چھٹکارا دلانے پر تھیبز کے شہریوں نے ایڈیپس کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔
ہندو دیومالا میں بھی سفنکس سے ملتا جلتا ایک کردار ملتا ہے جسے پرانوں میں ’نرسنگھ‘ کہا گیا ہے۔ سنسکرت میں ’نر‘ کا مطلب آدمی ہے جب کہ ’سنگھ‘ شیر کو کہا جاتا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ بھارت کے قدیم حکمران ہرنیا کشایپ نے عبادات اور قربانیوں کے ذریعے دیوتا برہما کو بےحد متاثر کیا اور ’مانگ، کیا مانگتا ہے‘ کے جواب میں یہ مانگا کہ مجھے کوئی انسان نہ حیوان، نہ دن میں نہ رات میں، نہ گھر میں نہ باہر، نہ آسمان میں نہ زمین میں، نہ کسی ہتھیار سے نہ آگ سے نہ پانی سے، ہلاک کر سکے۔‘
جب برہما نے ہرنیاکشایپ کو ان ساری باتوں کی ضمانت دے دی تو اس نے اپنے آپ کو ناقابلِ تسخیر سمجھتے ہوئے اپنی سلطنت میں ظلم و جبر کا بازار گرم کر دیا۔ آخرکار دیوتا اس کی حرکات سے سخت نالاں ہو گئے اور انہوں نے دیوتا وشنو کو مجبور کیا کہ وہ ہرنیا کشایپ سے اس کی رعایا کو نجات دلائے۔
کافی سوچ بچار کے بعد وشنو ایک شام (نہ دن نہ رات) نرسنگھ (نہ انسان نہ حیوان) کی شکل میں نمودار ہوااور ہرنیا کشایپ کو اس محل کی دہلیز (نہ گھر میں نہ باہر) پر لے گیا جہاں اس نے اسے گود میں اٹھا کر (نہ آسمان میں نہ زمین پر) اپنے پنجوں (نہ کسی ہتھیار نہ آگ نہ پانی) سے ہلاک کر ڈالا اور یوں عوام کو ہرنیا کشایپ کے جبر سے نجات دلا دی اور برہما کے دیے ہوئے وچن کو بھی پامال نہ ہونے دیا۔
ہرنیا کشایپ کے انجام سے ملتی جلتی کہانی شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے میکبیتھ میں بھی ملتی ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار میکبیتھ اپنی بیوی کے اُکسانے پر بادشاہ وقت کو قتل کر کے خود تخت پر براجمان ہو جاتا ہے۔ ایک موقعے پر چڑیلیں میکبیتھ کو دو بشارتیں دیتی ہیں کہ اسے کوئی ماں کا جنا مغلوب نہیں کر سکے گااور یہ کہ اسے اس وقت شکست ہو گی جب برنام جنگل خود چل کر دارالحکومت میں آ جائے گا۔ میکبیتھ دونوں شرطوں کو ناممکن العمل سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو ناقابلِ شکست تصور کرنے لگتا ہے۔
اس کی بدانتظامی اور تخت پر غاصبانہ قبضے کی وجہ سے اس کے خلاف میکڈف نامی ایک سردار کی قیادت میں بغاوت اُٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ میکڈف کی باغی افواج اپنے آپ کو کیموفلاج کرنے کے لیے برنام جنگل کے درختوں کی چوٹیاں اور شاخیں کاٹ کر اپنے ساتھ لیتے ہوئے شہر کی جانب پیش قدمی شروع کر دیتی ہیں۔ دُور سے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے جنگل چل کر شہر کی جانب آ رہا ہے۔
آخرکار باغی افواج شاہی محل میں داخل ہو جاتی ہیں۔ میکڈف سے لڑتے لڑتے میکبیتھ پر انکشاف ہوتا ہے کہ میکڈف کی پیدائش نارمل طریقے سے نہیں ہوئی تھی بلکہ اسے ماں کا پیٹ چاک کر کے نکالا گیا تھا۔ اب پر میکبیتھ کو احساس ہوتا ہے کہ چڑیلوں کی پیش گوئی میں جھول تھے۔
یہاں اس بات کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ ظہورِ ثانی میں میکبیتھ سے متعلق ایک اور تلازمہ بھی موجود ہے۔ نظم کی پانچویں سطر پر برتی جانے والی ترکیب blood-dimmed tide میکبیتھ ہی سے لی گئی ہے۔
اب سفنکس کے کردار کی طرف واپس آتے ہیں۔ جب عرب، پہلی بار اہرامِ مصر میں داخل ہوئے تو ان کا سامنا اہرامِ مصر کے سائے تلے ایک مجسمے سے ہوا۔ یہ مجسمہ جس کا دھڑ شیر کا اور سر انسانی تھا، 66 فٹ اونچا اور دو سو چالیس فٹ لمبا تھا۔ لق و دق صحرا میں، بڑے ہرم کے پہلو بہ پہلو، اس شبیہہ سے کچھ ایسی وحشت ٹپکتی تھی کہ عرب اس سے مرعوب ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور انہوں نے اسے ’’ابوالہول ‘‘ (خوف والا) کا نام دے ڈالا۔ بعد میں جب یورپی مصر پہنچے تو انہوں نے ابوالہول میں دیومالائی سفنکس کے نقوش ڈھونڈ لیے اور اسے سفنکس کہنے لگے۔ اگرچہ جدید محقق اس مجسمے کو یونانی دیومالا سے غیرمتعلق سمجھتے ہیں اور اسے عام طور پر فرعون خاف رے (عرصۂ حکومت 2558 تا2532 ق م) کا مجسمہ تصور کرتے ہیں، تاہم سفنکس کا نام آتے ہی ذہن میں جو پہلی شبیہہ اُبھرتی ہے، وہ ابوالہول ہی کی ہے۔
ییٹس نے جو شبیہہ تخلیق کی ہے، اسے ہم چاہے جو نام بھی دیں لیکن اس امر میں شک نہیں،کہ وہ نہایت بھیانک ہے: ایک ایسا عفریت جو انسان ہے نہ حیوان۔ گویا وہ دُنیا میں موجود حیات سے بالاتر کوئی چیز ہے۔ اس کی آنکھیں سورج کی کڑی دھوپ کے مانند، رحم سے عاری ہیں جو بیس صدیوں کی ’سنگین‘ نیند کے بعد جاگا ہے اور اب جنابِ عیسیٰ کی جائے پیدائش بیتُ لحم کی جانب اُفتاں و خیزاں رواں دواں ہے۔
اس مخلوق کے اوپر جھلائے ہوئے صحرائی پرندوں کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ ’سایہ‘ بذاتِ خود ایک منفی لفظ ہے جو منظر کی ہولناکی میں اضافہ کرتا ہے۔ پرندے شاید اس لیے جھلائے ہوئے ہیں کہ وہ اس مخلوق پر بیٹھے ہوئے تھے اور اس کی حرکت میں آنے سے ان کے آرام میں خلل پڑ گیا ہے۔ یہاں صحرائی پرندوں سے مراد گدھ ہو سکتے ہیں، اور ایک تعبیر یہ بھی ہو سکتی ہے کہ گدھ اپنی فطرت کے مطابق، جہاں سے اسے مردار ملنے کی اُمید ہوتی ہے وہاں منڈلاتا رہتا ہے۔
شاید انہیں سفنکس کی ہلاکت خیزی کا اندازہ ہے اور وہ خون خرابے کی آس میں سفنکس کا طواف کر رہے ہیں۔ ییٹس کے نظریۂ تاریخ کی رُو سے دیکھا جائے تو نظم میں پہلا دائرہ، شکاری سے نالاں ’باز‘ بناتا ہے جب کہ عفریت کے اُوپر گِدھوں کا طواف دوسرے چکر کو متشکل کرتا ہے۔
اس عظیم الجثہ عفریت کا حضرت عیسیٰ ؑ کی جائے پیدائش کی طرف مارچ کرنا بھی بے حد معنی خیز ہے۔ ظاہر ہے کہ عفریت ان کی جگہ لینا چاہتا ہے اور جیسے حضرت عیسیٰ نے آج سے بیس صدیاں قبل جنم لے کر انقلابِ عظیم برپا کر دیا تھا:Were vexed to nightmare by a rocking cradle بالکل ایسے ہی یہ عفریت دُنیا کو جھنجوڑ دینا چاہتا ہے لیکن چوں کہ یہ ’ضدِ عیسیٰ‘ ہے اس لیے اس کا جھنجوڑنا عیسیٰ کے برعکس دہشت ناک اور تباہ کن ہو گا۔
اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ایک اسلامی عقیدے کا ذکر کیا جائے۔ حدیث میں آتا ہے کہ قیامت سے کچھ عرصہ پہلے دُنیا کو فتنۂ دجّال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دجّال ایک ایسی شخصیت ہے جو فلسطین میں بیت اللحم سے نہایت قریب ایک شہر میں پیدا ہو گی اور جس کے پاس مافوق الفطرت قوتیں موجود ہوں گی۔ وہ دُنیا میں جہاں سے گزرے گا، آگ اور خون کی لکیر چھوڑتا چلا جائے گا۔ وہ اچھوں کو خودساختہ دوزخ اور بُروں کو خودساختہ جنت میں ڈالے گا۔ حتیٰ کہ ایک ایسا وقت آئے گا جب پوری دُنیا اس کانے دجّال کے سایۂ شر تلے آ جائے گی۔ ’ظہورِ ثانی‘ کے عفریت کی دجّال سے مشابہت بالکل واضح ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس علامت سے کیا مراد ہے؟ نظم کی اشاعت کے بعد مختلف ادوار میں اس کے ڈانڈے کئی جگہ ملائے گئے۔ اسے بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ہونے والا شدید مالی بحران کہا گیا، روسی انقلاب کے نتیجے میں قائم ہونے والے استحصالی نظام کا نام دیا گیا، چوتھی دہائی میں اُبھرنے والا فاشزم گردانا گیا، دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں سے تعبیر کیا گیا اور ایٹم بم کی سی انسانیت کش ایجاد بھی مانا گیا۔ نیز بےشمار لوگوں نے اسے ہٹلر کی آمد کی کامیاب پیش گوئی سمجھا۔
لیکن اس نظم کو جدید دور پر بھی منطبق کیا جا سکتا ہے۔ حال ہی میں امریکہ کے ایک زیرِ زمین فرقے نے کلوننگ کی مدد سے پیدا کی جانے والی دُنیا کی پہلی بچی کی خبر دی ہے۔ ابھی تک اس خبر کی تصدیق نہیں ہو سکی تاہم کلوننگ کی مدد سے انسان پیدا کرنا کسی بھی طور بعید از قیاس نہیں رہا کیوں کہ اس کام کے لیے درکار ٹیکنالوجی کئی سالوں سے دستیاب ہے۔ اگر اسی مثال پر عمل کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر انسانی کلوننگ شروع ہو گئی تو معاشرے پر اس کے سنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔
لیکن کلوننگ تو محض ایک آغاز ہو گا۔ کئی ماہرینِ مستقبلیات تو ان خطوط پر بھی سوچ رہے ہیں کہ سائنس میں جینیات کی بے پناہ ترقی کی بہ دولت ایسا دَور زیادہ دُور نہیں جب انسانی جینز میں ردوبدل کر کے ایک ’سپرمین‘ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سائنس فکشن نگار تو ایک زمانے سے اس عہد کی پیش گوئی کر رہے ہیں جب اس طرح کے Mutants انسان کے اختیار سے باہر ہو کر دُنیا کی باگ ڈور خود سنبھال لیں گے۔
اگرچہ فی الحال دُنیا میں انسانی کلوننگ اور انسانی جینز میں تحریف کو ایک قابلِ مذمت عمل سمجھا جاتا ہے ، تاہم نوعِ انساں کی عاقبت نااندیشی اور ماضی کے مایوس کن ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کیا جا سکتا ہے کہ چند عشروں ہی میں کہیں یہ معمول نہ بن جائے۔
تو کیا یہی وہ دجّال ہے جس کے ظہور کی ’بشارت‘ ییٹس نے 1921 میں دے دی تھی؟

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply