رات کا یہ وہ لمحہ ہے جب بیرونی دنیا کا شور اپنا وجود کھو بیٹھتا ہے اور صرف اندرونی صداؤں کا ہجوم باقی رہ جاتا ہے- ایک بار پھر رات کا ساحر خاموشی کی بانسری پہ تنہائی کا ساز چھیڑ چکا ہے۔ کمرے کی دیواروں پر کوئی سایہ ہلتا ہے، جیسے وقت کے کسی بھولے بسرے گوشے سے کوئی یاد دبے پاؤں لوٹ آئی ہو۔ دل ویران میں ایک الاؤ روشن ہو رہا ہے- ایسا الاؤ کہ جس میں یادوں کی خشک لکڑیاں چٹختی ہیں، اور خیال کی چنگاریاں لمحہ بھر کے لیے چمک کر تحلیل ہو جاتی ہیں۔
یہ الاؤ کسی پرانی کہانی کا آغاز نہیں ہے- بلکہ یہ ایک ایسے خواب کا تسلسل ہے جو کسی زمانے میں حقیقت بننے کے لیے آنکھوں میں بسا تھا، مگر وقت کے ریتلے طوفان میں دھندلا گیا۔
احمد میز پر جھکا ہوا پرانے کاغذات پلٹتا ہے۔ کچھ ادھورے خاکے، کچھ منصوبے، کچھ وہ خواب جنہیں کبھی جوان آنکھوں نے روشن صبحوں کی امید کے ساتھ لکھا تھا۔ وہ فائل جس پر کبھی “پراجیکٹ” لکھا تھا، اب دھول سے اٹی ہوئی ہے۔
“ہر خواب حقیقت نہیں بنتا…” وہ زیرِ لب بڑبڑاتا ہے۔
جدید دنیا میں خواہشیں کسی چشمے کی مانند نہیں بہتی بلکہ وہ ایپلیکیشنز، اسکرینوں اور مصنوعی روشنیوں کے دریچوں میں قید ہوتی ہیں۔ خواب اب آسمان پر نہیں دیکھے جاتے، ان کے خاکے لیپ ٹاپ کے نیلے پردوں پر بنتے ہیں۔ احمد کا خواب بھی ایسا ہی تھا۔ ایک ایسا پلیٹ فارم بنانے کا خواب جو عام لوگوں کی آواز کو سنے، ان کے دکھ بانٹے، اور ان کے لیے راستے تراشے۔
لیکن خواب… خواب رہ گیا-
سرمایہ دار دنیا نے اسے ممکنات کی فہرست سے خارج کر دیا۔ ہر دروازہ ایک نئے وعدے کے ساتھ کھلا مگر “بزنس ماڈل” کی دیوار کے پیچھے جا بند ہوا۔
اور آج، جب لوگ نیند کی وادیوں میں گم ہیں، احمد جاگ رہا ہے۔ یہ جاگنا نیند سے بیداری نہیں، خوابوں کے مر جانے کا ماتم ہے۔
“کیا تم جانتے ہو خواب کب سراب بنتے ہیں؟” احمد خود سے پوچھتا ہے۔
جب وہ خواہشیں جو کبھی دھڑکن کے ساتھ جڑی تھیں وقت کی تپش سے پگھل جائیں- جب پلکوں پر سجے خواب تعبیر کے بغیر پانی کی بوندوں میں بدل جائیں- جب امیدیں بار بار دروازہ کھٹکھٹائیں مگر اندر سے کوئی جواب نہ آئے۔
پھر خواب سراب بن جاتے ہیں۔ اور سراب… جاگتی آنکھوں کو جلا دیتے ہیں۔
باہر شہر اب جاگنے لگا تھا- گاڑیاں چلنے لگی تھیں مگر کمرشل بورڈ ابھی روشن تھے۔ لیکن احمد کے اندر اب بھی وہی الاؤ دہک رہا ہے۔
یہ شہر جدید ہے مگر یہاں خواب سستے اور تعبیر مہنگی ہے- یہاں خواہشیں دلوں سے زیادہ اسکرینوں میں پلتی ہیں، اور لوگ نیند میں جاگتے ہیں۔ احمد بھی ان میں سے ایک ہے۔
وہ کمپیوٹر اسکرین پر کرسر کو ٹمٹماتے دیکھتا ہے جیسے خواب کا کوئی آخری چراغ ابھی بجھنے سے بچا ہوا ہو-
رات کے ساحر نے ایک بار پھر خاموشی کی بانسری پر کوئی نغمہ چھیڑ دیا ہے۔ ماضی کے شعلے کچھ مدھم ہو رہے ہیں۔ احمد کے اندر ایک نئی سوچ جنم لینے لگی ہے- شاید خواب کا بکھر جانا ایک ایسا تجربہ ہے جو مستقبل میں تعبیر کے کئی نئے باب کھول دیتا ہے- خواب جب سراب بن جاتے ہیں تو انسان ان سے سیکھتا نہیں بلکہ انہی میں گم ہو جاتا ہے۔
کمرے میں سناٹا گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ احمد کا دل جیسے دو آوازوں میں بٹ گیا ہو۔ ایک نرمی سے سرگوشی کر رہی تھی، دوسری جیسے چیخ رہی تھی۔ یہ خواب اور سراب کا مکالمہ تھا-
خواب: “کیا تم بھول گئے میں نے ہی تمہیں پہلی بار جینے کا سبب دیا تھا؟ وہ چمکتی آنکھیں، وہ امید بھرے منصوبے… وہ سب میں ہی تو تھا۔”
سراب: “اور میں؟ میں وہ ہوں جو ہر خواب کے بعد حقیقت کی دیوار پر تمہارا سر ٹکراتے دیکھتا ہوں۔ تم نے کتنی بار میرے سامنے ہار مانی ہے احمد!”
خواب: “ہار مان لینا اور مر جانا ایک جیسا نہیں ہوتا۔ میں ابھی زندہ ہوں… بجھا نہیں ہوں۔”
سراب: “زندہ؟ ہاہ! تمہیں زندہ رکھنے کے لیے سرمائے کے جنگل کاٹنے پڑتے ہیں، سسٹم کو جھکانا پڑتا ہے۔ اور تم… تم اکیلے ہو۔”
خواب: “اکیلا ہونا کمزوری نہیں ہوتا۔ کبھی صرف ایک چنگاری نے جنگل جلا دیا تھا۔ میں وہی چنگاری ہوں۔”
سراب: “مگر میں حقیقت جیسا ہوں… لوگ خوابوں پر نہیں، مجھ پر یقین کرتے ہیں۔”
خواب: “اور اسی لیے وہ ادھورے رہ جاتے ہیں۔ کیونکہ جو خواب پر ایمان رکھتا ہے… وہ سراب کو شکست دے سکتا ہے۔”
احمد کی آنکھوں میں اچانک ایک پراسرار چمک پیدا ہوئی- شاید ماضی کے الاؤ میں ایک نئی چنگاری بھڑک اٹھی تھی۔ مگر اس بار یہ چنگاری صرف یادوں کا دھواں نہیں تھی، فیصلے کی پہلی کرن تھی۔ وہ آہستہ سے کرسی کے کنارے سیدھا بیٹھ گیا، جیسے برسوں کے بوجھ کے نیچے دبے شخص نے پہلی بار سانس بھرا ہو۔ کمپیوٹر اسکرین پر ٹمٹماتا کرسر اب اسے کسی ادھورے خواب کا چراغ نہیں بلکہ ایک نئے آغاز کا دروازہ محسوس ہو رہا تھا۔
اور پھر اس نے کی بورڈ پر پہلی سطر ٹائپ کی؛ خواب اب سراب نہیں رہا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں