آج پاکستان کے وزیراعظم جناب شہبازشریف صاحب نے ملائشیا میں ایک تقریر کے دوران اقبال کا فلسفۂ خودی بیان فرمایا۔ فرماتےہیں،
’’اقبال کا فلسفۂ خودی یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو بلند کریں۔لیکن غرورکے ذریعے نہیں، اِیگو(مَیں) کے ذریعے نہیں، بلکہ انتھک کوشش کے ذریعے،خودی کومٹاکرکی جانے والی کوششوں کے ذریعے جو خون اور پسینے کی قربانی مانگتی ہیں۔اوراس سطح تک بلند کریں خودی کو کہ خدا آپ سے کہہ اُٹھے، اے انسان اب بتاتو کیا چاہتاہے۔‘‘
پھر شعر پڑھا،
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتاتیری رضا کیا ہے
جہاں وزیراعظم صاحب کا فلسفۂ خودی میں دلچسپی لینا ایک قابلِ تحسین عمل ہے، وہیں اقبال کے تصورِ خودی کا حلیہ بگاڑ کر بلکہ اقبال نے جو کہا اس کے الٹ بات بتاکر یہ کہنایہ اقبال کا نظریہ خودی ہے، قابل افسوس بھی ہے۔یہاں گویا وزیراعظم صاحب نےاس فاسق کا بھی کردا ادا کیا ہے، جس کے بارے میں قرانِ کریم میں ارشاد ہے کہ وہ اگر تمہارے پاس کوئی خبرلائےتو پہلے تصدیق کرلیاکرو، اوراسی کی تصدیق کے لیے میں یہ الفاظ لکھ رہاہوں۔بہرحال یا توہمارےوزیراعظم صاحب کواقبال کے فلسفۂ خودی کی تنکابھرخبرنہیں ہے کہ یہ کس شے کو کہاجاتاہے اور یا پھر انہوں نے یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیاہے۔
اقبال نے اسرارِ خودی جن وجوہات کی بناپرلکھی تھی، ان میں سرفہرست ’’سیلف لیسنیس‘‘ کا قدیم نظریہ ہے، جوہزاروں سال سے قوموں کے عروج و زوال کی داستان لکھتاچلاآرہاہے۔ اقبال نے اسی خیال کوعجمی تصوف کی پیداوار کہاہے۔ یعنی یہ خیال کہ انسانی آلام و مصائب کا کُل سبب اس کی خودی اوراناہے۔ قدیم ہندوویدانتا میں اگرچہ کرشنانے، بقول اقبال ، خودی کا حقیقی نظریہ شناخت کرلیاتھا، لیکن دیگر مہاپرشوں نے ہمیشہ ناخودی (سیلف لیس نیس) کا تصورہی متعارف کروایا۔اس نظریے کو شنکر اچاریہ نے فلسفیانہ شکل دی تو اسے نظریۂ حلول بھی کہاجانے لگا۔اقبال نے اسی نظریے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاہے۔ اوراقبال کا استدلال جو ان کی تمام تحریرات میں بکھراپڑاہے، اگر پڑھیں تو آنکھیں کھل جاتی ہیں، جب وہ یہ واضح کرتےہیں کہ یہ نظریہ بنیادی طورپر فرد کو مرکز پر قربان کردینے یا کولیٹرل ڈیمیج بنادینے کا نظریہ ہے۔ یعنی جب کبھی بھی کسی بادشاہ کو، کسی مستبد ریاست کو، کسی قبیلے کے سرداری نظام کو، کسی مذہبی یا روحانی نظام کو، کسی ادارے کی مرکزیت کو، کسی سلطنت کی سطوت کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے خطرات لاحق ہونے لگتے کہ وہ شاید بکھرجائےگی، منتشر ہوجائےگی، یا اپنی اس شکل میں باقی نہ رہے گی جو تاریخ میں چلی آرہی ہے تو پھر نفیِ خودی کے نام پر اس طرح کے نظریۂ حلول کی تبلیغ عام کردی جاتی ہےتاکہ کوئی منفرد آواز نہ اٹھ سکے ۔ اور عموماً یہ تبلیغ روحانی اور اخلاقی نظاموں کے نمائندوں کی جانب سے متعارف کروائی جاتی ہے۔بالکل ویسے جیسےقران کے بقول فرعون نے، ہامان جیسے مذہبی اورروحانی نمائندے کے ذریعے یہ تبلیغ کروائی تھی۔
اقبال نے اسرارِ خودی میں حافظِ شیراز کو اسی لیے تنقید کا نشانہ بنایا تھا کہ وہ ناخودی یا نفیِ خودی کا پرچارک تھا۔اقبال کے اشعار بہت سخت تھے۔ نظم کا عنوان تھا،
’’در بیانِ ایں کہ افلاطونِ یونانی و حافظ شیرازی کہ تصوف و ادبیات اقوام اسلامیہ از تخیلات ایشاں اثرعظیم پذی رفتہ اندواز ایشاں احتراز واجب است۔‘‘
ترجمہ: اس بیان میں کہ یونان کا افلاطون اور شیراز کا حافظ جن کے تخیلات سے اسلامی اقوام کے تصوف اور ادب نے بہت زیادہ اثر قبول کیا ہے ان دونوں سے بچنا (ان سے احتراز کرنا) واجب ہے۔
اورچیدہ چیدہ اشعار یہ تھے،
ہوشیار از حافظ صہبا گسار
جامش از زہرِ اجل سرمایہ دار
ترجمہ:
حافظ، جو شرابِ عشق کا جام پلاتا ہے، اُس سے ہوشیار رہ!
اس کا پیالہ بظاہر سرور دیتا ہے مگر درحقیقت موت کا زہر رکھتا ہے۔
رہن ساقی خرقہ پرہیزِ او
مے علاجِ ہول رستا خیزِ او
ترجمہ:
اس کے پرہیز (زہد) کا خرقہ ساقی کے ہاتھ گروی ہے،
اور اس کے مرگ کے خوف کا علاج صرف شراب میں ہے۔
نیست غیر از بادہ در بازار او
از دو جام آشفتہ شد دستار او
ترجمہ:
اس کے بازار میں سوائے شراب کے کچھ نہیں،
اور دو پیالے پی کر اس کی پگڑی بھی بکھر جاتی
چوں خراب از بادۂ گلگوں شود
مایہ دارِ حشمتِ قاروں شود
ترجمہ:
جب وہ سرخ شراب سے مست ہوتا ہے،
تو قارون کی طرح فخر و شان کا دعویدار بن جاتا ہے۔
مسلم و ایمانِ او زنار دار
رخنہ اندر دینش از مژگانِ یار
ترجمہ:
وہ بظاہر مسلمان ہے، مگر اس نے زُنار باندھ رکھی ہے(ایک پٹی جو ہندوپنڈت باندھتے ہیں)
اس کے دین میں دراڑ محبوب کی پلکوں سے پڑ گئی ہے۔
آنچناں مستِ شرابِ بندگی است
خواجہ و محرومِ ذوقِ خواجگی است
ترجمہ:
وہ بندگی کی شراب میں ایسا مست ہے
کہ خود خواجگی (مالک بننے) کے ذوق سے محروم ہو چکا ہے۔
گو سفند است و نو آموخت است
عشوہ و ناز و ادا آموخت است
ترجمہ:
وہ ایک نیا سیکھا ہوا گوسفند(بھیڑ) ہے،
جس نے بس نخرے اور ادائیں سیکھ لی ہیں۔
ضعف را نام توانائی دہد
ساز او اقوام را اغوا کند
ترجمہ:
وہ کمزوری کو طاقت کا نام دیتا ہے،
اور اس کا نغمہ قوموں کو گمراہ کرتا ہے۔
ایں فسوں خوں زندگی از مار بود
جامِ او شانِ جمی از مار بود
ترجمہ:
یہ اس کا جادو (یعنی اس کی شاعری اور تعلیم) زندگی کے خون کو چوسنے والے سانپ کی طرح ہے،
اور اس کا جام (شرابِ عشق و عرفان) بظاہر جمشید کے جام کی شان رکھتا ہے، مگر دراصل زہریلے سانپ کا پیالہ ہے۔
محفلِ او درخورِ ابرار نیست
ساغرِ او قابلِ احرار نیست
ترجمہ:
اس کی محفل نیکوکاروں کے لائق نہیں،
اور اس کا جام آزاد انسانوں کے شایان نہیں۔
بے نیاز از محفلِ حافظ گذر
الحذر از گو سفنداں الحذر
ترجمہ:
حافظ کی محفل سے بے نیاز گزر جا،
اور گوسفند صوفیوں (خودی کے دشمنوں) سے خبردار رہ!
ان اشعار کی وجہ سے اقبال کے خلاف اتنا احتجاج ہوا کہ اگلے ایڈیشن سے اقبال کو یہ اشعار نکالنا پڑے۔ خواجہ حسن نظامی اور ان کے حواریوں نے اس بات پر دھیان ہی نہ دیا کہ اسرارخودی کا اِصرارکیاہے؟انہیں تو حافظ کی توہین ، توہین مذہب لگی اورطوفان کھڑاکردیا۔اگرچہ بہت بعد میں جب اقبال دنیا میں نہ رہے، خواجہ صاحب نے یہ تسلیم کیا کہ انہوں نے پہلے توجہ نہیں دی تھی کہ اقبال نے اسرار میں کیا کہنا چاہاہے۔
اسرارخودی کے تمام تر موضوعات ایسے ہی ہیں۔ایک نظم میں تو ایک بھیڑ(میش) صبح بیدار ہوتی ہے تو یہ دعویٰ کردیتی ہے کہ اسے پیغمبری مل گئی ہے، اور یہ کہ خدا کی طرف سے جو وحی ملی ہے اس کا پیغام کچھ یوں ہے،
لیکن اشعار دیکھنے سے پہلے اس نظم کا بھی عنوان ملاحظہ کیجیے۔ یہیں سے آپ کو اندازہ ہوجائےگا کہ وزیراعظم صاحب کیا کررہے تھے جب فرمارہے تھے، ’’خودی کومٹاکرکی جانے والی کوششوں کے ذریعے خودی کو بلند کرو‘‘۔
حکایت دریں معنی کہ مسئلہ نفی خود از مخترعات اقوام مغلوبہ بنی نو ع انسان است
ترجمہ: اس موضوع سے متعلق کہ خودی کی نفی کا مسئلہ بنی نوع انسان کے مغلوب قوموں کی اختراعات (ایجادات) میں سے ہے۔
یہی نفیِ خودی یعنی سیلف لیس نیس ہے جس کے خلاف اقبال کی اسرارخودی لکھی گئی۔ بہرحال اب میش کے طویل الہام میں سے دوتین اشعار دیکھیے،
.
ہر کہ باشد تند و زور آور شقی است
زندگی مستحکم از نفیِ خودی است
ترجمہ:
جو کوئی غصیلا اور طاقت کے نشے میں چور ہو وہ بدبخت ہے،
زندگی تو اپنی ذات کی نفی سے ہی مستحکم ہوتی ہے۔
جنت از بہر ضعیفان است و بس
قوت از اسبابِ خسران است و بس
ترجمہ:
جنت تو صرف کمزوروں کے لیے ہے،
اور قوت و طاقت تو نقصان کا سامان ہے۔
غافل از خود شو اگر فرزانہ ئی
گر ز خود غافل نہ ئی دیوانہ ئی
ترجمہ:
اگر تو عقل مند ہے تو اپنی ذات سے غافل ہو جا،
اور اگر تو اپنی ذات سے غافل نہیں، تو تو پاگل ہے۔
آمدش این پند خواب آور پسند
خورد از خامی فسونِ گوسفند
ترجمہ:
شیروں کے گروہ کو یہ خواب لانے والی نصیحت پسند آ گئی،
اور نادانی سے انہوں نے بھیڑ کا جادو کھا لیا۔
شیر بیدار از فسونِ میش خفت
انحطاطِ خویش را تہذیب گفت
ترجمہ:
بیدار و دلیر شیر، بھیڑ کے جادو سے سو گیا،
اور اپنے زوال کو تہذیب کا نام دے دیا۔
اقتدار و عزم و استقلال رفت
اعتبار و عزت و اقبال رفت
ترجمہ:
اقتدار، عزم، اور استقلال جاتا رہا،
اور ساتھ ہی وقار، عزت، اور اقبال بھی رخصت ہو گئے۔
ان شواہد سے بالکل صاف ہوجاتاہے کہ وزیراعظم صاحب نے ملائشیا میں اقبال کی خودی کا جوفلسفہ بیان کیا وہ اقبال کا ہرگز نہیں ہے بلکہ اقبال کا مخالف فلسفہ ہے۔اقبال نے ’’بتاتیری رضا کیاہے‘‘ کی سطح کی بلند خودی تو اسی کو کہاہے جو اپنے ہونے کا اصرار کرتی ہے۔کوئی مستبدحکمران، کوئی مرکزی مذہبی پیشوائیت، کوئی روحانی مرشد، مرکزیت کے نام پر اگر فرد کے ذاتی انفراد کی قربانی مانگتاہے تو اقبال کے نزدیک وہ مجرم ہے۔اقبال اپنے خطبات میں منصورحلاج کا ذکر بھی اسی ذیل میں کرتے ہیں۔منصورکوسزائے موت دی گئی تو انالحق کہنے پر،اورپھر انالحق کو خالصتاً ماوراالفہم قسم کے تصوف کے ساتھ نتھی کرکے بھانت بھانت کے عجمی مفہوم پہنا دیے گئے ۔ حالانکہ اقبال کے بقول منصورحلاج کی کتاب طواسین کے مطالعے سے حقیقت کھل جاتی ہے۔ انالحق کا معنی میں خدا ہوں نہیں تھا، بلکہ مَیں بطور مَیں(I) ایک حقیقت ہوں۔ آئی ایم دہ ٹرتھ۔ میں آپ کے اس مرکز کی ایک اکائی ہوں جسے بچانے کے لیے آپ مجھ کو ہی نظر انداز کررہے ہیں۔ میرے بغیر کسی مرکز ، کسی ریاست، کسی مذہبی ، روحانی نظام کا کوئی تصور نہیں ہے۔ پہلے میں ہوں، بعد میں مرکز ہے۔
یہ سبق اقبال ہرکسی کو پڑھارہےتھے۔ وہ الگ الگ مضامین لکھ رہے تھے۔ انہوں نے شاعروں کے لیے الگ سے مضمون اسی حوالے سے لکھا کہ آئندہ وہ ناخودی یا نفی خودی کا نظریہ پھیلاتے وقت احتیاط سے کام لیں اورجان لیں کہ رسول اطہر صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایسی شاعری کو ناپسند فرمایااورجہنمی شاعری قراردیاہے، جبکہ وہ شاعری جس میں فرد کی ذات کو اہمیت دی گئی ہو، اس کے شاعر کو دیکھنے کی تمنا کا اظہارخودرسالتمآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایاہے۔
ویسے بھی مرکزیت کو مفادِ عامہ کہہ کرمنوائیں یا روحانی مراکز کی ہامانیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منوائیں، ہر صورت میں ایسی مشکوک مرکزیت خودساختہ اخلاقیات اور من گھڑت بیانیوں کے ذریعے فرد کی اکائی کو نام نہاد سماجی مراکز پر قربان کردیتی ہے۔
اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ سماجی مراکز کی اپنی اہمیت ہے۔ اور اسی اہمیت کے بیان میں ہی تو اقبال نے اسرارخودی کے بعد رموزبے خودی لکھی۔ لیکن یہ اقبال نے حتمی طورپر طے کردیاتھا کہ فرد پہلے ہے اورسماجی مرکزبعد میں۔یہ انڈا پہلے ہے یا مرغی پہلے ہے کی طرح کامعمہ نہیں تھا کہ اقبال نے ایک طرف کا رخ کرلیا اوردوسری کو نظرانداز کردیا۔ یہ بہت واضح اورنظرآنے والے اثرات کی حامل سچائی کی بناپرکیاگیادعویٰ تھا۔
فی زمانہ جدید شعوری سائنسز میں بھی اب یہ مباحث داخل ہوچکے ہیں اوردیکھا جارہاہے کہ فرد کی خودی کوئی سائنسی معنی رکھتی ہے یا نہیں۔ جدید شعوری سائنسز کا مطالعہ حدرجہ دلچسپ ہے اورگزشتہ آٹھ دس سال میرے روزمرہ کا معمول ہے۔میں اپنے شب و روز کے مطالعہ کی بناپر یہ عرض کرسکتاہوں کہ فرد کی خودی کے وجود کے شواہد واضح تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ دونوں طرف سے آرگومنٹس کی بھرمار ہے لیکن یہ خیال کہ لوکیلٹی وجود رکھتی ہے یا نہیں، اب پہلے سے زیادہ شدت اخیتار کرچکاہے۔سٹیٹسٹکل اِنڈی پنڈینس(Statistical independence) کو جو دھچکاجان بیل کے تجربے سے لگا تھا، اسے مارکووِیَن بلینک(Markov blanket) کے تصورنے پھر ایک ایسی لوکیلٹی کی دریافت پر آن پہنچایا ہے جہاں انفرادی خودی کا وجود ہے۔یہ باتیں مشکل ہیں اور انشااللہ میں لاہور کی متوقع ورکشاپ میں بہت تفصیل میں جاکر عرض کرونگا۔انشااللہ
بہرحال آج چپ نہیں رہاجاسکاکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پرائم منسٹرصاحب بلنڈرفرمارہےتھے جوقوم کے لیے زہرملاسبق تھا۔اورویسے بھی اقبال نے اسرارخودی میں خودی کوتباہ ہونے سے بچانے کے جو تین طریقے بتائے ہیں، ان میں سرفہرست ہے ’’سوال نہ کرنا(یعنی ہاتھ نہ پھیلانا)‘‘۔جبکہ ہمارے پرائم منسٹرصاحب جو خودی کو بلند کرنے کے طریقےہمیں سکھارہے ہیں، وہ تو سوال کرنے کو بے حد لازمی مقام ومرتبہ دیتےہیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں