چلتے ہو تو چین کو چلیے(2)-عاطف ملک

ایر لائن کو حلال کھانا پہلے سے لکھوایا تھا سو کھانے باقی مسافروں سے قبل ملتے رہے۔ کھانے میں چاول بمعہ گوشت تھا جبکہ ناشتہ آملیٹ اور ایک بھورا لمبوترا بن تھا۔ اگلی نشت پر دو   لمبے تڑنگے افریقی تھے۔ آنکھیں بند کرکے بھی بتا سکتے تھے کہ وہ امریکی ہیں۔ ان کی بات چیت کا انداز ایفروامریکن تھا۔ گمان ہے کہ دونوں باسکٹ بال کے کھلاڑی تھے کہ ایک اپنا باسکٹ بال اٹھائے لایا تھا۔ جب بیجنگ ایرپورٹ پر اترے تو وہ اپنی شہادت کی انگلی پر باسکٹ بال گھماتا تھا، ہمیں بھی شہادت ہوگئی کہ باسکٹ بال کا کھلاڑی ہے۔

صبح چار بجے بیجنگ ایر پورٹ پر جہاز اترا۔ امیگریشن پر لمبی قطار تھی۔ ہم پر خصوصی شفقت ہوئی، پوچھا گیا کیوں آئے ہو؟ کتنے دن کا قیام ہے؟واپسی کی ٹکٹ دکھائیے۔ پاسپورٹ کو ہر جانب سے دیکھا، تصویر کو جانچا۔ پاسپورٹ کی جامد تصویر کا ہم سانس لیتی اکائی سے موازنہ کیا۔ گمان ہے کہ تنگ آکر پاسپورٹ پر مہر لگائی اور مسافر کو ملکِ چین داخل ہونے کی اجازت دے دی۔

ہماری اگلی پرواز دو گھنٹے بعد لان زو کی تھی جو کہ ڈومیسٹک ٹرمینل سے جانا تھی سو ٹرین لے کر دوسرے ٹرمینل پر پہنچے۔ یہاں خوب ہا ہاکار مچا تھا۔ دروازے پر ایک ہرکارہ کسی بس اڈے کی مانند مسلسل اونچی آواز میں صدائیں لگا رہا تھا۔ دوبارہ سکیورٹی کے مرحلے سے گذرے۔ داخلی دروازے کے باہر میز پر مسافروں سے لی گئی پانی کی بوتلیں اور کھانے پینے کی اشیاء دھری تھیں۔ بیجنگ کا ڈومیسٹک ایرپورٹ زبردست ہے، کئی ٹرمینل ہیں۔ اندر مختلف دکانیں، کافی شاپس اور چاکلیٹ شاپس ہیں ۔ ٹوائلٹ صاف ستھرے اور ماڈرن ہیں جن میں مشرقی انداز کے پیروں پر بیٹھنے والے بھی ہیں۔ ایرپورٹ پر وائی فائی استعمال کرنے کے  لیے سکین مشین لگی ہے، جہاں اپنا پاسپورٹ سکین کریں تو پاس ورڈ ملتا ہے جس کے ذریعے سے ایرپورٹ کے وائی فائی کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لان زو کی پرواز پر کچھ سکول کے بچے کسی مقابلے پر جارہے تھے ، ایک سے لباس پہنے ، ان کا جوش نظر آتا تھا۔

دوپہر ساڑھے بارہ بجے کے قریب لان زو کے ایرپورٹ پر جہاز اترا۔ ایرپورٹ بڑا زبردست اور عالیشان ہے۔ سامان کی ٹرالیاں بھی ڈیجیٹل دور کی ہیں۔ ٹرالی پر ایل سی ڈی سکرین لگی ہے، جس پر ویڈیو پیغامات اور اشتہارات چلتے ہیں۔سامان دکھیلتے چلیے اور دنیا اُس سکرین پر آپ کے ساتھ چلتی ہے۔

ایرپورٹ پر ایک لڑکا اور لڑکی طالب علم غیر ملکی جان کر آگئے۔ ایک فارم پُر کرنا شروع کردیا، اپنے کسی یونیورسٹی کے کام کے لیے ڈیٹا اور معلومات اکٹھی کررہے تھے۔ ان سے علم ہوا کہ ایرپورٹ تو شہر سے بہت باہر ہے۔ ان کا مشورہ تھا کہ ایرپورٹ سے شہر کے لیے ٹرین لیں اور پھر وہاں سے ٹیکسی لے کر ہوٹل جائیں۔ ان سے بات چیت میں کچھ وقت لگ گیا۔ جہاز پر چیک ان کیا سامان اس وقت تک پہنچ چکا تھا۔ ہم جب تک سامان کی گھومتی بیلٹ تک پہنچے تو لوگ اپنا سامان لے کر جاچکے تھے۔ دیکھا تو ہمار ا سامان نہ تھا۔ اتنے میں دیکھا کہ سرخ یونیفارم پہنے ایرپورٹ کی ایک خاتون ہمارا سامان لیے جاتی ہے کہ سامان کو اُس نے لاوارث جانا تھا۔ بھاگ کر اُسے سامان کی پرچی دکھا کر سامان لیا۔

julia rana solicitors

اب ہم اُس سے پوچھتے تھے کہ ٹرین کہاں سے لیں؟ اُس کو ہوٹل کا پتہ بھی دکھایا۔ اب وہ انگریزی سے نابلد تھی اور ہم چینی زبان سے غیر آشنا تھے۔ ایسے میں بات اشاروں کنایوں میں تھی۔ اس نے اپنا موبائل نکالا کہ جس میں ترجمے کی ایپلیکیشن انسٹال تھی، سو اب تم سے تو ہونے لگی۔چینی خاتون موبائل پر چینی میں لکھتی تھی جو انگریزی میں ترجمہ ہوکر مسافر کو دکھایا جاتا تھا۔ مسافر پھر اسی موبائل پر انگریزی میں جواب آں غزل کے طور پر لکھتا تھا جو چینی میں تبدیل ہو کر پیغام رساں ہوتا تھا۔ مگر یہ ترجمہ بھی کئی جگہ پر اپنی خود مختاری دکھاتا تھا۔ ہم جو سمجھتے تھے ، کہا کچھ اور ہوتا تھا، غرض ایک جنریشن گیپ کا سا معاملہ تھا، مثلاً کہا گیا کہ ٹرین رہنے دیں نیکسٹ فلور یعنی اگلی منزل سے بس لے لیں۔ بعد میں کچھ خواری کے بعد علم ہوا کہ بس تو نچلی منزل سے ملنی تھی۔ غالب نے کہا تھا کہ پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پرناحق، اِدھر ہم اس خاتون کے لکھے کے گرفتار تھے کہ ٹرین چھوڑ کر بس پر بیٹھنے کو تیار ہوئے۔ خاتون سے پوچھا کہ بس کا کیا نمبر ہے؟تو اس کے چینی لکھے کا ترجمہ یوں ہوا کہ ٹکٹ خریدو گے تو بس کا نمبر پتہ لگے گا۔ بات ہمار ی سمجھ میں نہ آئی۔ خیر، جب ٹکٹ خرید لی تو اس نے ٹکٹ پر ایک جگہ دائرہ لگایا کہ یہ بس کا نمبر ہے۔ تب مسافر کو علم ہوا کہ بس کی نمبر پلیٹ کے نمبر پر دائرہ لگا ہے۔ خاتون سے درخواست کی کہ ایک کاغذ پر چینی زبان میں ہمارے سٹاپ کا نام لکھ دے کہ یہ گفتگو بذریعہ ترجمہ تو ہمیں کہیں کا نہ چھوڑے گی، اور خیال ہے کہ جانا کہیں ہوگا اور ہم پہنچ کہیں اور جائیں گے۔ چین میں لوگ مسافر نے بہت ملنسار اور مددگار پائے سو محترمہ نے کاغذ پر بس سٹاپ کا نام چینی میں لکھ دیا، جسے ہم نے محبت نامے کی مانند سینے سے لگا کر رکھا کہ ہوٹل تک رسائی اسی پر منحصر تھی۔ پچھلے چوبیس گھنٹے کے مسلسل سفر کے بعد ہوٹل کا رتبہ مسافر کے لیے کسی آستانے سے کم نہ تھا۔
سو نچلی منزل پر اتر کر باہر نکلے تو تین چار بسیں کھڑی پائیں جن کے ڈرائیور باہر کھڑے تھے۔ وہ رقعہ جس پر منزل کا بس سٹاپ لکھا تھا، انہیں دکھایا تو ایک نے ساتھ آنے کا اشارہ کیا اور بس کے ایک جانب کا کور کھول دیا کہ سامان اس ڈگی میں رکھا جائے۔ مسافر نے سامان اُس خانے میں رکھا اور ڈرائیور کو غور سے دیکھا۔ اُس چینی ڈرائیور کے ہاتھ میں دو تسبیحیاں تھیں، اب علم نہیں کہ وہ دونوں کو کیسے پڑھتا ہوگا۔ ایرپورٹ پر چینی مسلمان نظر آرہے تھے، کچھ حجاب اوڑھے چینی خواتین بھی تھیں۔
مسافر بس میں بیٹھ گیا۔ شہر ایرپورٹ سے دور تھا سو سفر لمبا تھا۔ سڑکیں بہتر اور ٹریفک اچھی تھی۔ سڑک کے ساتھ پہاڑیاں تھیں۔ چالیس منٹ کے سفر کے بعد شہر شروع ہوا اور بس مختلف سٹاپ پر رکنا شروع ہوئی۔ اب مسلہ یہ تھا کہ سٹاپ کے نام کا اعلان چینی زبان میں ہوتا اور لکھا بھی چینی میں ہوتا۔ مسافر بس کی اگلی سیٹ پر آگیا، ڈرائیور کو پہلے ہی پرچی دکھائی تھی کہ اس سٹاپ پر سواری اتارنی ہے مگر ڈر تھا کہ وہ بھول نہ جائے۔ ایک چینی لڑکی پاس بیٹھی تھی۔ اس سے انگریزی میں بات کی تو اس نے بھی جھٹ موبائل نکال لیا، بات بذریعہ ترجمہ ایپ ہوئی ۔ وہ لان زو کی زرعی یونیورسٹی کی طالبہ تھی۔ اُس نے اطمینان دلایا کہ وہ سٹاپ کا بتا دے گی کیوں کہ اُس کی منزل ہمارے سٹاپ کے بعد تھی۔
اب شہر میں دریائے زرد کے ساتھ کی سڑک پر ہم جارہے تھے۔ ایک سٹاپ پر ہمیں اشارہ ملا کہ اتریے، سو اترے اور بس کے خانے سے اپنا سامان نکالا۔ اب ہم ایک چوک پر تھے، لوگ کچھ گذر رہے تھے، مگر زبان نہ جاننے کی بنیاد پر کچھ بتا نہ پاتے تھے۔ ہمارے ہوٹل کا پتہ لکھا تھا، مگر سمجھ نہ آتی تھی کہ کدھر کا رخ کریں۔ چین میں گوگل میپ بند ہے سو ہم رہ گذر پر کھڑے تھے، جانتے نہ تھے کہ کدھر کو جائیں اوردل درد سے تو نہیں مگر پریشانی کا شکار ضرور تھا۔ ٹیکسی لینے کا خیال تھا مگر ٹیکسی بھی اب موبائل سے منگائی جاتی ہے، اور ہمارے پاس ٹیکسی منگوانے کی چینی ایپ بھی نہ تھی اور زبان بھی آڑے تھی۔
ایک نوجوان گذرا تو اس سے رہنمائی چاہی۔ پھر وہ موبائل مترجم تھا اور ہم تھے، اس نے کہا کہ ٹیکسی تو مشکل سے ملے گی، مگر ہوٹل قریب ہی ہے سو پیدل ہی چلے جاو۔ اس نے اپنے موبائل پر راہ دکھائی۔ مسافر نے اس نقشے کی تصویر کھینچ لی اور اب سامان کھینچتے ہوٹل کی راہ کو ہو لیا۔ راہ پوچھتے تقریباً پندرہ منٹ بعد یونیورسٹی کے دروازے کے سامنے تھے۔ ہمارا ہوٹل یونیورسٹی کے اندر تھا سو کچھ ڈھارس بندھی کہ منزل مل ہی جائے گی۔
یونیورسٹی کا نام نارتھ ویسٹ نارمل یونیورسٹی ہے۔ اب سمجھ نہ آیا کہ نارمل یونیورسٹی کیا ہوتی ہے، شاید زرعی یونیورسٹی، میڈیکل یونیورسٹی سے فرق بتانے کے لیے نارمل کا نام یونیورسٹی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ یونیورسٹی میں داخل ہوگئے، بڑی عمارتیں اور باغ تھے۔ کچھ طالب علم بھی آجا رہے تھے۔ ہم پوچھتے پوچھتے اپنی منزل تک جاپہنچے۔ یہ ہوٹل یونیورسٹی کا انٹرنیشنل ایکسینچ سنٹر ہے۔ اس کی ایک سولہ منزلہ اور دوسری پانچ منزلہ دو عمارتیں ہیں۔ ہوٹل کے فرنٹ ڈیسک کے سامنے دو میزوں پر کانفرنس کے رضاکار طالب علم بیٹھے تھے۔ انہوں نے خوش آمدید کیا۔ اب ہم جو بھی کہتے ، وہ اپنا موبائل سامنے لے آتے۔ ا یک طالب علم نے ایسی ترجمے کی ایپ انسٹال کی تھی جو آواز میں بیان کرتی تھی۔ وہ ہمیں ہمارے کمرے تک لے گیا۔
مسافر نےکمرہ آن لائن پلیٹ فارم ٹرپ ڈوٹ کام کے ذریعے سے بُک کیا تھا، اور آن لائن اشیاءوالے بھی بیوٹی پارلر والوں کی طرح ہیں کہ دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا، سو کمرہ دیکھا تو حقیت کو خیال سے بہت فرق پایا، اور یہ فرق بھی صرف خرابی کی ہی جانب تھا۔ میں ریسپشن پر گیا اور کانفرنس انتظامیہ سے کہا کہ میں کمرہ بدلنا چاہتا ہوں اور سولہ منزلہ عمارت ( جو کہ نئی عمارت تھی) میں کمرہ چاہتا ہوں۔ اب ایک ہوہکار مچ گیا۔ کانفرنس کی انتظامیہ میں سے ایک چینی خاتون میرے ایما پر ہوٹل والوں سے بات کرنے لگی۔ ہمیں خبر نہ تھی کہ چینی اتنے جوش سے بولتے ہیں، تیزگام بلکہ بلٹ ٹرین کی رفتار پر وہ بات کرتی تھی، راہ میں آتے سٹیشن بھی چھوڑ جاتی تھی۔ مسافر پریشان تھا کہ کہیں لڑائی جھگڑے کا منظر نہ بن جائے۔ ہوٹل والے کہتے کہ کیوں کہ بکنگ ویب سائیٹ سے کروائی گئی ہے ، سو ان سے بات کرنا ہوگی۔ وہ خاتون اب ہانگ گانگ میں ویب سائیٹ کے دفتر بات کر رہی تھی، آواز مسلسل اونچی اور تیز رفتار تھی۔ پہلا موقع تھا مگر اس کے بعد بھی چینی خواتین کو بڑا پُراعتماد اور حوصلہ مند پایا، وہ کام کروانا جانتی ہیں۔شور وغل تھا، فون پر ہانگ گانگ بات ہورہی ہے، ایک طالب علم ہوٹل ریسپشنسٹ سے بحث میں ہے، دوسرا ہمیں بذریعہ موبائل مترجم حوصلہ دے رہا ہے ، فکر نہ کریں کمرہ بدلوا کر دم لیں گے، اور تھکا مسافر چوبیس گھنٹے کے مسلسل سفر اورآدھے گھنٹے کی سامان دھکیلنے کی تھکان کے بعد زبان غیر کے معرکے دیکھ رہا تھا۔ بالآخر پتہ لگا کہ ویب سائیٹ والے مسافر کے کمرے کی بکنگ کینسل کرنے کو تیار ہو گئے ہیں، مگر اب ہوٹل والے کہتے ہیں کہ دونوں کمروں کے کرایوںمیں فرق ہے اور کیوں کہ مسافر نے چیک ان کرلیا ہے اور اب دوسرا کمرہ چاہتا ہے سو پرانے کمرے کا کرایہ تو اُس پر پڑگیا ہےاور اب دوسرے کمرے کا کرایہ بھی تمام دنوں کے لیے علیحدہ ادا کرے ۔ ا س معرکہِ تو تو میں میں میں گھنٹہ گذر گیا تھا اور مسافر کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ مسافر وہ دیہاتی تھا جو کمرہ عدالت میں انگریزی میں اپنے مقدمے کی روداد سنتا ہو، اور کچھ نہ سمجھتا ہو کہ مائی لارڈ کیا فرمان نکالیں گے۔ اب فرمان جو سامنےآیا تو جرمانے کے ساتھ تھا کہ آن لائن خیالی کو حقیقی جاننے کا تاوان بھرے۔ تھکن اتنی تھی کہ کہا سب قبول ہے۔
کئی جگہ پر مستعمل طریقہِ انصاف کی سمجھ آگئی کہ سوالی کو اتنا تھکا دو کہ منصف کا ہر فیصلہ قبول ہو، انصاف لرزتے ہاتھ اور بالوں کی چاندی کے بوجھ میں اپنے معنی کھو دے، اور اس بے معنویت میں طاقتور اپنے معنی تراش لے، وہ معنی جو فیصلے میں لکھے گئے بلندو بالا الفاظ کے کھوکھلے پن میں پیسے اور طاقت کے آئینہ دار ہوں۔

جاری ہے

Facebook Comments

عاطف ملک
عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینرنگ میں ماسڑز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے شعبہ کمپیوٹر سائنس میں پڑھاتے ہیں۔ پڑھانے، ادب، کھیل، موسیقی اور فلاحی کاموں میں دلچسپی ہے، اور آس پاس بکھری کہانیوں کو تحیر کی آنکھ سے دیکھتے اور پھر لکھتےہیں۔ اس بنا پر کہانیوں کی ایک کتاب "اوراقِ منتشر" کے نام سے شائع کی ہے۔ کچھ تحاریر درج ذیل لنک پر پڑھی جاسکتی ہیں۔ www.aatifmalikk.blogspot.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply