آج کل جنریشن زی کی اصطلاح بڑی پاپولر ہے۔ یہ 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والے بچے ہیں جن کی عمریں 14 سے 27 برس کے درمیان ہیں۔ جبکہ اس کے بعد 2012 سے 2025 تک پیدا ہونے والے بچے جنریشن الفا کہلاتے ہیں۔ یعنی 13 برس تک کی عمر والے بچے جو جوانی کی حدود میں قدم رکھ رہے ہیں۔ ان کی خصوصیات کو محض ٹیکنالوجی کے تناظر میں دیکھا اور ماپا جاتا ہے۔ میرا بڑا بیٹا مصطفیٰ الفا (13 برس) اور دو بھتیجے عبداللہ 18 اور ابراہیم 14 برس، زی کہلاتے ہیں۔ مصطفیٰ اکثر ایک بات کہتا ہے کہ بابا ہماری جنریشن ذرا مختلف ہے۔ ایک دن میں نے پوچھ لیا ذرا بتاؤ کیسے مختلف ہے؟ بولاجنریشن زی جب بڑی ہو رہی تھی تو ڈیجیٹل انقلاب برپا ہو رہا تھے۔ یہ لوگ سمارٹ فون، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا وغیرہ کے ساتھ بڑے ہوئے ہیں۔ ان کے سوچنے اور سمجھنے کا انداز الگ ہے۔ ان میں سے ہرایک اپنی الگ پہچان بنانا چاہتا ہے۔ 9سے 5 کی نوکری کی بجائے اپنا سٹارٹ اپ، فری لانس ورک یا ریموٹ جابز کو ترجیح دیتا ہے جس سے اس کی آزادی محفوظ رہے۔ سمارٹ فون کی بدولت یہ جنریشن گلوبل بن چکی ہے۔ دنیا کے بارے میں بہت کچھ جان چکے ہیں اس لیے ان میں حیرانی کا عنصر بہت کم ہے۔ آئیڈئلسٹ بننے کی بجائے پریکٹیکل ہیں۔ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ اپنی سماجی ذمہ داریاں جیسا کہ ار دگرد کے ماحول کو درست رکھنا، موسمیاتی تبدیلیوں پر غور کرنا وغیرہ۔ جبکہ الفا جنریشن بھی زی کی ایک زیادہ ریفائنڈ شکل ہے۔ مجھے اس کی معلومات جان کر خوشی ہوئی۔ میں نے ایک اورسوال کیا کہ ان معلومات سے تو لگتا ہے کہ صرف ٹیکنالوجی کے استعمال کا فرق ہے۔ کیا انسانی نوع کے بنیادی خواص میں بھی کوئی فرق ہے؟ بولنا، سننا، دیکھنا، بھوک کا احساس، پیاس لگنا، ہنسنا، رونا، بیمار ہو جانا، اس سے بڑھ کر عقل کا استعمال کرتے ہوئے خود آگاہی، تخلیقی سوچ، اخلاقی شعور اور اپنے عہد کے مسائل کا ادراک کرنا، یہ سب تو انسانی جبلت میں شامل ہیں۔ کیا آج ماں باپ سے محبت ختم ہو گئی ہے؟ کسی بوڑھے شخص کو سڑک پار کرا کر خوشی نہیں ہوتی؟ کیا بے چین اور مضطرب دلوں کو عبادت کے ذریعے روحانی سکون نہیں ملتا؟ کیا کوئی شخص چاہتا ہے کہ اس سے جھوٹ بولا جائے، اس کا حق مارا جائے، اس پر ظلم کیا جائے یا غلام بنایا جائے؟ مصطفیٰ بڑے غور سے میری باتیں سن کر اتفاق کرنے کے لیے بس اثبات اور نفی میں سر ہلا رہا تھا۔ اچانک بولا کہ باقی باتیں تو ٹھیک ہیں لیکن آج تو ہم پر کوئی ظلم نہیں ہو رہا نہ ہی ہم غلام ہیں۔ میں نے ایک اور سوال کر دیا کہ آپ ظلم اور غلامی کیا مراد لیتے ہیں؟ اس نے سوچنا شروع کر دیا مجھے معلوم تھا شاید فوری واضح کرنا اس کے بس کی بات نہیں تو میں نے اسے سوچنے کی دعوت دی اور گفتگو اگلی نشست تک مؤخر کر دی۔ لیکن میری سوچیں نہ رک سکیں کہ رب نے انسانوں کی تخلیق تو ایک ہی طریق پر کی ہے۔ تمام انسان فطرت پر پیدا ہوتے ہیں۔ استعدادات کے فرق کے ساتھ اپنی اصل میں ایک ہیں۔ البتہ پچھلے ڈیرھ سو برس میں سائنسی ترقی میں بتدریج بہت تیزی سے ترقی ہوئی ہے۔ اب تو یہ عالم ہے کہ صبح اٹھیں تو ایک نئی ٹیکنالوجی کا سامنا ہوتا ہے۔ سائنسی ترقی کے ساتھ ساتھ دنیا میں ذرائع دولت اور پیداوار میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا۔ پوری دنیا کی دولت سمٹ کر چند سو ارب پتیوں کے کنٹرول میں جا چکی ہے اور مزید سمٹتی جا رہی ہے۔ لیکن اس کے برعکس دنیا میں بھوک، غربت، بے روزگاری، جنگوں میں بھی اسی رفتار سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ملکوں اور انسانوں کو غلام بنانے کے طریقے بھی بدل گئے ہیں۔ سرمایہ پرست فرعونی، قارونی اور ہامانی طاقتیں آج سے کئی ہزار سال پہلے بھی انسانیت کا استحصال کر رہی تھیں اور آج بھی کر رہی ہیں۔ بلکہ آج اس کی شدت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ سوچئے! نئی نوجوان نسل کو جنریشن کے چکر میں بانٹ کر اسے ایک الگ تھلگ چیز بنا کر کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟ انٹرنیٹ، ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے اس کے ذہن کو کنٹرول میں لا کر اس کی بے پناہ صلاحیتوں اور انسانی خواص کو ذاتی خواہشات اور ذاتی ترقی کی سوچ تک کیوں محدود کیا جا رہا ہے؟ آخر یہ سب بلا مقصد تو نہیں ہو سکتا۔ یہ دراصل آج ظلم اور غلامی کا جدید جال ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام چلانے والی طاقتیں چاہتی ہیں کہ آج کا نوجوان اپنے سے پچھلوں کو نااہل اور نکما سمجھے۔ آج کی ٹیکنالوجی کو سب کچھ مان کر انسانیت پر فوقیت دے۔ انسانی عقل، روح اور قلب کوذات ربی سے متصل کرنے کی بجائے صرف سرمایہ دار نظام کا آلہ کار بن کر رہ جائے۔ یہ وقتی دھوکا تو ہو سکتا ہے لیکن انسانی فطرت اور جبلت کے خلاف ہے۔ اصل میں ہر دور کا انسان سلیم الفطرت ہے۔ وہ ظلم اور نا انصافی برداشت نہیں کرتا۔ آج کا جنریشن زی اور الفا بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ یہ انسانیت کا مستقبل ہیں۔ پاکستان میں لگ بھگ دس کروڑ نوجوان 10 سے 27 برس کی عمر کے حامل ہیں۔ دنیا میں 180 ممالک ایسے ہیں جن کی آبادی 10 کروڑ سے کم ہے۔ پاکستان کے یہ نوجوان اپنی صلاحیت، استعداد اور حب الوطنی میں کسی طرح سے کم نہیں ہیں۔ لیکن ان کی 90 فیصد سے زائد نظام سے عدم اطمینان کا شکار ہے۔ ان کے پاس ترقی کی علامت سمارٹ فون تو ہے لیکن ترقی یافتہ ممالک والا تعلیمی نظام اور معاشی وسائل تک رسائی نہیں ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی اور جمہوری آزادیوں محروم ہے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا کے نوجوان پاکستان سے بے پناہ محبت
کرتے ہیں۔ لیکن آج اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ پنجاب اور سندھ کا نوجوان بھی بے چین اور اپنی پریشانیوں کا حل ڈھونڈتا پھر رہا ہے۔ کشمیر اور گلگت بلتستان کی نئی جنریشن بھی دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر اپنے وطن کو حقیقی طور پر جنت نظیر بنانا چاہتی ہے۔ لیکن ہمارا مجموعی نظام پچھلے 78 برس میں مخصوص طبقات کے گروہی مفادات سے اوپر اٹھ کر سوچنے کی صلاحیت سے عاری ہے۔ ہر بار حیلوں، بہانوں، ڈھکوسلوں یا بزور طاقت حقوق کی آوازیں دبا دی جاتی ہیں۔ لیکن موجودہ حالات میں پوری ریاست ان نوجوانوں کو مطمئن نہیں کر پا رہی۔ ان کا یہ بڑھتا اضطراب اور ذہنی انتشار فطری ہے۔ اگر یہ پریشان نوجوان ملک سے دور بیٹھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کنٹرول کرنے والی طاقتوں کے ہتھے چڑھ گیا تو پھر یہ عارضی بندوبست کام نہیں آئیں گے۔ اسلئے اپنی ملک کی نئی جنریشن کے اصل مسائل کو سمجھیں۔ عوام خصوصاً نوجوانوں کے متعلق سوچنے کا انداز بدلیں۔ اس ریاست میں بسنے والے انسانوں کی حب الوطنی پر شک نہ کریں۔ یاد رکھیں ریاستیں ضدی نہیں ہوتیں۔ ملک کو بچانے کیلئے اسلحہ سے زیادہ عوام کے حقوق کا تحفظ، ان کی بدنی او ر روحانی ترقی کرانے والے نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان کا موجودہ سیاسی و سماجی نظام اس میں مکمل طور پر ناکام نظر آتا ہے۔ اسلئے نظام بدلیں۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں