’’خواب اور آنسو ،وراثت میں منتقل نہیں ہوتے’’ اور ’’رنگوں کا بھی باطن ہوتا ہے’’
میں محسوس کرتاہوں کہ سدا کے ہر شخص کی آواز دوسرے سے جدا ہے۔باپ کی آواز بیٹے سے نہیں ملتی۔
جس طرح میری آواز، میرے والد کی آواز سے مختلف ہے۔ کبھی کبھی باپ بیٹے کی آوازوں کے مماثل ہونے کا گمان ہوتا ہے، مگر یہ گمان ان کو ہوتا ہے ،جو ہر شے کو بس سرسری دیکھا، سنا کرتے ہیں۔
سچ یہ ہے کہ ہر آواز کی ایک نہیں، دو نہیں، تین تین ،چارچار تہیں ہوا کرتی ہیں۔ اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو ایک ہی شخص کو خوشی، غصے، رنج ، حسد کی حالتوں میں بولتے ہوئے سن لیجیے۔
سرگوشی میں تو آدمی کی آواز کی چار نہیں، دس تہیں ظاہر ہوتی ہیں۔
خیر، کسی شخص کی آواز کوئی ایک تہ،کسی دوسرے کی آوا ز سے مماثل ہو سکتی ہے، سب نہیں ۔
میں وراثت کو بہت مانتا ہوں۔ وراثت میں آنکھوں کے رنگ، چہرے کے نقوش، ہاتھ پاؤں ،اور ان کی انگلیوں کی ساخت، زبان ، روایت،مذہب،ا قد۱ر، احساسِ جمال، پرانے گیت، کہانیاں، بہت کچھ منتقل ہوتا ہے۔
لیکن لہجہ ، منشا، آنسو اور خواب منتقل نہیں ہوتے۔ یہ ہر شخص کے اپنے ہیں۔یہ ہر شخص کے ،ایک جدا شخص ہونے کی شرط ِ اوّلین ہیں۔
میں نے سدا میں بہت لوگ دیکھے ہیں، جنھوں نے یہ چاروں گنوادیے۔ ان کے پاس وراثت ہے،اس پر آٹھوں پہر کا تفاخر ہے، اپنا زمانہ اور وہ خود نہیں ہیں۔
اس سے زیادہ بد نصیب کوئی ہوسکتا ہے، جس کے پاس ،اور سب کچھ ہو،اس کے اپنے آنسو ہوں نہ اپنے خواب، اپنا لہجہ ہو ، نہ اپنی کوئی منشا۔
میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں ،جنھیں اپنی منشا اور پرکھوں کی روایت میں کوئی تضاد دکھائی دیتا ہو۔
وہ روایت ہی کیا، جو آدمی کو اپنے زمانے کی دھوپ اور اپنے وجود کے دشت سے جدا کردے۔
خیر، میں سدا کی رنگ رنگ کی آوازوں کا ذکر کررہا تھا۔ سدا کے لوگ ایک ہی زبان بولتے ہیں، مگر ایک طرح سے نہیں بولتے۔
میں یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ آوار، ہر شخص کی زبان پر آتے ہی کچھ اس طور بدل جاتی ہے کہ آپ پہچان لیتے ہیں کہ اسے ابوطالب بول رہا ہے، حمزہ توف نہیں؛اسے رسول بول رہا ہے، کوئی دوسرا نہیں ۔
آوار زبان ایک سمندر ہے، ہم اس میں سے ایک ندی نکالتے ہیں ، پھر اس ندی کو واپس آوار کے سمندر میں بھیجتے ہیں اور اس سمندر میں مزید وسعت پیدا ہوجاتی ہے۔
دنیا کی ہر زبان ، ہر شخص ،لیکن خاص طور پر شاعروں کے قلم کی نوک پر آتے ہی بدل جاتی ہے۔
جیسے ایک ہی کھانے کا ذائقہ سب کو ایک جیسا محسوس نہیں ہوتا۔
جیسے ، ایک ہی گیت،اور اس کے ایک ہی طرح کے بول ،سب سننے والوں کے دلوں میں اور طرح سے گھر کرتے ہیں۔
اور جیسے،ایک ہی رنگ ،سب پر جدا طریقے سے سجتا ہے۔
مجھے یاد ہے،سدا میں ایک مشاعرہ ہوا ،جس میں آوار اور تات کے کچھ شاعر شریک تھے۔سدا کے دو بھائی شاعر ہیں۔دونوں گہرے لال رنگ کا چوغا ، گہرے لال رنگ ہی کی پاپاخ پہن کر آئے تھے۔
چھوٹے بھائی پر سرخ رنگ جچ رہا تھا، مگر بڑابھائی، جس کا قدچھوٹا ہے، اور اس نے کچھ عرصہ پہلے داڑھی صاف کروادی تھی، وہ جوکر لگ رہا تھا۔
اس دن مجھے یقین ہوگیا کہ رنگ ، لوگوں ، چیزوں پر الگ الگ انداز میں ظاہر ہوتے ہیں ۔

رنگوں کا بھی ایک باطن ہوتا ہے، جو رنگ اوڑھنے والی کی شخصیت کے مطابق ، ظاہر ہوتاہے ، مخفی رہتا ہے یا مسخ ہوجایا کرتاہے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں