• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • خطہ لداخ میں شورش اور مسئلہ کشمیر پر انڈو پاک کی مفادات پر مبنی پالیسی/شیر علی انجم۔

خطہ لداخ میں شورش اور مسئلہ کشمیر پر انڈو پاک کی مفادات پر مبنی پالیسی/شیر علی انجم۔

خطہ لداخ گلگت بلتستان کا اٹوٹ انگ ہونے کے ساتھ ساتھ ریاست جموں کشمیر کا پرامن خطہ ہونے  کے ساتھ مسلہ کشمیر کا جزو  ہے۔ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں جہاد جب عروج پر تھا، اس وقت بھی خطہ لداخ پرامن رہا۔ یہاں لوگ مذہب میں بدھ مت اور مسلمان، نسل میں تبتی اور گریٹ تبت کا حصہ بھی رہے ہیں۔ 5 اگست 2019 کو ہندوستان نے جب اپنے آئین میں ریاست جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے حوالے سے درج شق آرٹیکل 370 اور 35-A کا خاتمہ کیا اور اس خطے میں مسلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی شروع کی، جس کے تحت خطہ لداخ کو براہ راست وفاق ہندوستان کے ماتحت کردیا گیا۔ شروع میں لداخ کے لوگوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا جو گلگت بلتستان کے ساتھ ہوا، شاید صوبہ بن گیا ہے، براہ راست وفاق کے زیر انتظام آنے سے کشمیریوں کا تعصب ختم ہوگیا ہے، اس خطے میں ترقی ہوگی ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جب آنکھیں کھلیں تو لداخ والوں تو  انہوں نے ریاستی نظام نافذ کرنے کا مطالبہ شروع کردیا، شاید ان کو گلگت بلتستان کی صورتحال دیکھ کر اندازہ ہوگیا ہوگا۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ سکس شیڈول کیا ہے؟ ہندوستان میں یہ نظام ایسے مخصوص علاقوں کو دیا جاتا ہے جہاں عوام کی اکثریت شیڈول قبائل (Scheduled Tribes) پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ علاقے خاص آئینی تحفظات اور خصوصی قوانین کے تحت آتے ہیں تاکہ قبائلی آبادی کی ثقافت، جائیداد، حقوق اور ترقی کا خیال رکھا جائے۔ سکس شیڈول کے تحت مخصوص قانون اور انتظامی خودمختاری دی جاتی ہے تاکہ مقامی قبائلیوں کو ان کے روایتی حقوق اور وسائل پر تحفظ ملے۔ لداخ کے لوگ سکس شیڈول کا مطالبہ اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ وہ اپنی شناخت، زمین، روزگار، ثقافت اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے آئینی ضمانت چاہتے ہیں۔ لداخ میں آبادی کا 98 فیصد قبائلی ہے اور انہیں مناسب قانونی تحفظ، ڈومیسائل قوانین اور لوکل انتظامیہ میں حصہ دینے کے لیے سکس شیڈول کا درجہ دینے کی درخواست ہے۔ ان کا موقف ہے کہ مرکزی علاقے کا درجہ ملنے کے باوجود انہیں مزدوری اور نوکریوں میں مقامی تحفظ نہیں ملا اور بیرونی افراد کو زیادہ مواقع دیے جا رہے ہیں۔ اس لیے وہ سکس شیڈول کے تحت خاص حقوق اور تحفظات کے حامی ہیں تاکہ ان کی ثقافت اور حقوق برقرار رہ سکیں اور مقامی ترقی ممکن ہو سکے۔ خاص طور پر لداخ کی ہل کونسل کو بااختیار بنانے اور مقامی نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں ترجیح دینے کا مطالبہ بھی ان کے مطالبات میں شامل ہے۔ لیکن بتایا یہ جاتا ہے کہ مرکز نے ان کو چھے ماہ کا وقت دیا تھا لیکن مسلسل ٹرخاتے رہے، جس کی وجہ سے لوگوں نے احتجاج شروع کیا، جس کے نتیجے میں ممتاز سماجی کارکن سونم وانگچک سمیت درجنوں گرفتار ہوئے اور کئی لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ سونم وانگچک کے حوالے سے پولیس نے بتایا کہ وہ پاکستانی انٹیلیجنس اہلکار سے رابطے میں تھے، اس سے اندازہ لگائیں کہ اپنی متنازعہ حیثیت کو بھول کر ہندوستان کا دنیا میں نام پیدا کرنے والے کے ساتھ ایسا ہوسکتا ہے تو عام آدمی کے ساتھ ہندوستان میں کیا ہوتا ہوگا۔ بدقسمتی سے مسلہ کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے لیے ایک صنعت بن گیا ہے جس کا نقصان براہ راست یہاں کے عوام، وسائل، ماحولیات، تہذیب، ثقافت، زبان اور جغرافیائی حدود کو  پہنچ ہو رہا ہے۔ ہندوستان کہتا ہے کہ پوری ریاست جموں کشمیر جس میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر بھی شامل ہیں، ان کا قانونی حصہ ہے جبکہ مہاراجہ کشمیر کا بیٹا ڈاکٹر کرن سنگھ جو لوک سبھا کا رکن رہے ہیں، وہاں کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ میرے والد نے ہندوستان کے ساتھ مکمل الحاق نہیں بلکہ تین سبجیکٹس، دفاع، مواصلات اور خارجہ پالیسی پر دستخط کیے تھے اور 27 اکتوبر 1947 کو جب یہ معاہدہ ہو رہا تھا تو میں وہاں موجود تھا۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ یہی حال پاکستان کا بھی ہے، آئین کے آرٹیکل 257 میں استصواب رائے کی حمایت کا ذکر کردیا لیکن دوسری طرف 28 اپریل 1949 کو معاہدہ کراچی کے تحت گلگت بلتستان کا نظام انصرام حاصل کرکے آج تک اس خطے میں عملی جمہوریت پروان نہیں چڑھائی جاسکی، وفاقی پارٹیوں کا یہاں اقتدار کے لیے فیرا لگتا ہے لیکن عوام کی قسمت نہیں بدلتی نہ ترقی ہوتی ہے۔ پرامن احتجاج یہاں پر جرم ہے اور فورتھ شیڈول کے تحت قید کیا جاتا ہے، وسائل پر نہ اختیار ہے نہ وسائل کی حساب کتاب کے لیے کوئی ادارہ قائم ہے، لیکن ٹیکس پاکستان کے چاروں آئینی صوبوں کے طرز پر نافذ ہوتا ہے، وسائل کی تقسیم کے لیے وفاق کے پاس نیشنل فنانس کمیشن ہے جس کے تحت صوبوں کو وسائل کے حساب سے رائلٹی دی جاتی ہے لیکن گلگت بلتستان اس میں بھی شامل نہیں، سوست گلگت بلتستان میں کسٹم کا پورا نظام فنکشنل ہے لیکن گلگت بلتستان کو کچھ نہیں ملتا، احتجاج کرنے پر پاکستانی میڈیا پر ایک ساتھ خبر چل جاتی ہے کہ شرپسندوں نے پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، دیامر بھاشا ڈیم گلگت بلتستان میں بن رہا ہے لیکن بجلی گھروں کی تعمیر خیبرپختونخوا میں ہو رہی ہے یعنی گلگت بلتستان کو ڈبو کر فائدہ خیبرپختونخوا لے جائے گا، اسی طرح ریفارم بل جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق پاس کرنے کا گلگت بلتستان اسمبلی مجاز ہی نہیں لیکن پاس کرکے زمینوں کا مالک اسلام آباد بن جاتا ہے، وسائل اسلام آباد کے ہیں، سیاحت کے نام پر پورے خطے کو بغیر کسی جامع منصوبہ بندی کے تحت کنکریٹ سٹی بنایا جا رہا ہے،   معدنیات نکالنے کیلئے امریکہ کا کھلی آذادی مل گیا ہے جو کہ امریکہ کا دیرنیہ خواہش تھی کہ وہ گلگت بلتستان میں بیٹھ کر چین اور روس کی نگرانی کریں، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی عروج پر ہے اور گلیشیرز پگھلنے کی وجہ سے مسلسل سیلاب اس خطے کے عوام کا مقدر بن گیا ہے، تمام سرکاری ریسٹ ہاؤسز کا مالک بھی اسلام آباد بن گیا ہے لیکن عوام متنازعہ ہے، مسلہ کشمیر کی وجہ سے آئین میں شامل نہیں کرسکتے۔ اور مسلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداد 13 اگست 1948 کی بنیاد پر لوکل اتھارٹی گورنمنٹ نافذ کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ اس وقت پوری ریاست جموں کشمیر میں شورش ہے جس کی بنیادی وجہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، بنیادی سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق کا نہ دینا اور سب سے بڑھ کر شناخت  اور جغرافیائی پہچان کے خاتمے کا سوال ہے۔ گلگت بلتستان ہو یا لداخ، آزاد کشمیر ہو یا سری نگر اور جموں، یہ تمام اکائیاں قانونی طور پر کسی ملک کا حصہ نہیں اور جب تک ان تمام ریجنوں میں اقوام متحدہ کی موجودگی میں رائے شماری نہیں ہوتی، کسی ملک کا حصہ نہیں کہ وہاں کی لوکل اسمبلی کے پاس یہ اتھارٹی ہے کہ وہ شمولیت کے لیے کوئی قرارداد منظور کرے۔ یہی مدعا سپریم کورٹ آف پاکستان کا بھی ہے اور ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل 370 کا بھی۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تمام ریجنوں کے وسائل کی لوٹ مار کے ساتھ ساتھ عام آدمی کے مسائل اور سب سے بڑھ کر مسلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری پاکستان اور ہندوستان پر لازم ہے کیونکہ دونوں ممالک نے اقوام عالم کے سامنے باقاعدہ دستخط کیے ہیں۔

Facebook Comments

شیر علی انجم
مصنف بینکاری کے شعبے سے وابستہ ہیں اور معیشت و بین الاقوامی امور اور مسلہ کشمیر، گلگت بلتستان کے مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply