تیئس مارچ، قیام پاکستان کا اہم سنگ میل۔۔۔۔ایم ۔اے۔صبور ملک

برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی جد وجہد کا عملی طور پر باقاعدہ آغاز تو 1857کی جنگ آزادی سے ہو چکا تھا،اور 14اگست 1947تک آزادی کی یہ شمع کسی نہ کسی روپ اور رنگ میں جاری رہی،ان 90سالوں میں سرسید احمد خان سے لے کر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح تک آزادی کی اس جدوجہد میں کئی موڑ آئے،اور اس دوران ہندؤوں کی سیاسی جماعت کانگریس کی مقابلے میں دسمبر 1906کومسلمانوں کی ایک بڑی سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کاڈھاکہ میں قیام عمل میں لایا گیا،جس نے آہستہ آہستہ برصغیر میں قدم جمانے شروع کئے اور جناح کی شمولیت کے بعد اس جماعت کو مسلمانوں کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا رتبہ مل گیا۔قائداعظم کی آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد مسلمانوں کی اس نمائندہ جماعت نے برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ مملکت کے قیام کی جانب اپنا سفر سبک رفتاری سے طے کرنا شروع کردیا،دسمبر 1930میں الہ آباد میں ہونے والے اپنے سالانہ اجلاس میں علامہ محمد اقبال کی جانب سے مسلمانوں کی ایک علیحدہ مملکت کا تصور پیش کیا گیا،1933میں ایک ہندونستانی مسلمان طالب علم چوہدری رحمت علی نے مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کے نام کے لئے لفظ پاکستان پیش کیا،اور پھر کیا تھا ہر لب اور ہر زبان بس پاکستان کا نام جھپنے لگی،قیام پاکستان کی اس جد وجہد میں ایک تاریخی اور فیصلہ کن موڑ مارچ 1940کو آیا جب آل انڈیا مسلم لیگ کے لاہور کے منٹو پارک موجودہ اقبال پارک میں ہونے والے سالانہ اجلاس میں بنگال کے رہنے والے اے کے فضل الحق نے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ مملکت کے قیام کی قرارداد پیش کی ،جسے قرارداد لاہور کا نام دیا گیا،لیکن ہندؤ پریس نے مسلم دشمنی میں اس کو قرارداد پاکستان کا نام دے دیا،اس قرارداد میں مسلمانوں کے لئے ایک آزاد خودمختار علیحدہ مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا گیا،اس قرارداد کے منظور ہونے سے برصغیر کے مسلمانو ں کے حوصلے پھر سے بلند کر دئیے ،کیونکہ 1936/37کے انتخابات میں مسلم لیگ کو کسی بھی صوبے میں حکومت بنانے کا موقع نہ مل سکا جس سے یہ تاثر زور پکڑ گیا کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت نہیں ہے،یہ انتخابات تاج برطانیہ کی جانب سے بر صغیر کے عوام کو اقتدار سونپنے کے عمل کا پہلا مرحلہ تھا ،لیکن اس میں مسلم لیگ کی شکست سے مسلمانوں میں مایوسی چھا گی،اور انکے بلند حوصلوں کو ٹھیس پہنچی،برصغیر کے 11صوبوں میں کسی ایک میں بھی مسلم لیگ حکومت نہ بنا سکی،دوسری طرف کانگریس جسے پہلی بار اقتدار کا مزہ چھکنے کو ملا تھا ،آپے سے باہر ہو گی اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والے اقدامات مثلاً گاؤ کشی پر پابندی،کانگریس کے ترنگے کو قومی پرچم کی حیثیت دینااور تعلیمی اداروں میں بند ے ما ترم پڑھناوغیرہ جیسے مسلم دشمنی جیسے کاموں سے ان لوگوں کی آنکھوں پر بندی پٹی بھی اتر گئی جو مسلمان ہوتے ہوئے بھی کانگریس کی حمایتی تھے۔اس صورت میں مسلم لیگ کی اقتدار سے محرومی کے ساتھ اس کی قیادت میں یہ احساس بیدار ہو شروع ہو اکہ مسلم لیگ اقتدار سے اس بنا پر محروم کر دی گئی ہے کہ وہ اپنا آپ کو مسلمانوں کی نمائندہ جماعت کہلاتی ہے،یہ وہ نقطہ آغاز تھا کہ مسلم لیگ کی قیاد ت میں برصغیرمیں دو جدا قوموں کے حوالے سے بیداری نے جنم لیا،ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو مسلم لیگ کی شکست اور کانگریس کے مسلم دشمنی جیسے اقدامات مسلمانوں کی جدوجہد آزادی کے لئے تریاق ثابت ہوئے ،کیونکہ اس سے مسلم لیگ اور مسلمانوں کو اس امر کا شدت سے احساس ہو گیا کہ اب مسلمان اور ہندؤ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے ،لہذا مسلمانوں کے لئے علیحدہ مملکت کا قیام ازبس ضروری ہے،پہلی جنگ عظیم چھڑ جانے کی وجہ سے کانگریس اور انگریزوں میں اختلاف پیدا ہوئے اور کانگریس اقتدار سے علیحدہ ہوگئی،اور قائداعظم کی ہدایت پر برصغیر کے مسلمانوں نے کانگریسی وازارتوں کے خاتمے پر یو م نجات منایا،اسی پس منظر میں مارچ 1940کو لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا تین روزہ سالانہ اجلاس منعقد ہو ا،جس میں پہلے روز اے کے فضل الحق نے قرارداد پیش کی جسے دوسرے روز23مارچ کو منظور کرلیا گیا،اس اجلاس سے 4روز قبل لاہور میں علامہ مشرقی کی خاکسار جماعت کے کارکنوں پر پولیس کی جانب سے گولیاں چلائی گئیں ،جس میں خاکساروں کی اموات کی وجہ سے پنجاب خصوصاً لاہو ر میں فضا کافی کشیدہ تھی اور خطرہ تھا کہ کہیں خاکسار وں کی جانب سے مسلم لیگ کے اجلاس کے موقع پر ہنگامہ آرائی نہ ہو جائے ،لیکن لاہور اجلاس میں آمد پر قائد اعظم کی جانب سے پہلے ہسپتال جاکر زخمی خاکساروں کی عیادت سے صورتحال پر امن رہی اور مسلم لیگ کا اجلاس منعقد بھی ہوا اور قرارداد پاکستان بھی منظور ہو گئی جس نے بعد ازاں مسلم لیگ کے آئین کی حیثیت اختیار کر لی ،اس قرارداد کے منظور ہونے کے بعد کانگریسی دور اقتدار اور مسلم لیگ کی شکست کی وجہ سے چھائی پژمردی یکسر جوش وجذبے میں ڈھل گئی اور تحریک پاکستان کی جدوجہد میں تیزی آگئی ۔اور پھر محض سات سال کی قلیل عرصہ میں مسلمانان برصغیر نے اپنی منزل پا لی،بنیادی طور پر قرارداد پاکستان قیام پاکستان کی جانب ایک اہم ترین سنگ میل کی سی حیثیت رکھتی ہے ،کیونکہ اس قرارداد کے منظور ہونے سے پہلے کے دو تین سالوں میں برصغیر کے سیاسی ماحول اور حالات وواقعات سے یہ بات ایک بار پھر سے روز روشن کی طر ح سب پہ عیاں کردی تھی کہ مسلمان اور ہندؤ دو الگ قومیں ہیں جو کبھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں جلد یا بدیر ان کو الگ ہو نا ہی ہے،اور کانگریسی اقتدار نے اس بات پر گویا مہر ثبت کرد ی ،اور کانگریسی لیڈروں اور ہندؤ کی یہ بات جھوٹی ثابت ہوئی کہ برصغیر میں صرف ایک قوم بستی ہے ،شاید اگر 1936/37کے انتخابات میں مسلم لیگ کو برصغیر کے چند صوبوں میں اقتدار مل جاتا تو صورت حال مختلف ہوتی ،لیکن قدرت کو یہ منظور نہ تھا اور بقول القرآن کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے ،مسلم لیگ کی شکست اور کانگریسی اقتدار کے دوران مسلمانو ں پر ہونے والے مظالم کا مشکل دور ختم ہو ا اور آسانی کی جانب سفر شروع ہوا،آج اگر ہم آزاد فضا میں جی رہے ہیں تو یہ صدقہ ہے ہمارے ان آباؤاجداد کی قربانیوں اور محنت کا ،لیکن ہم اس آزادی کی قدر وقیمت سے ناواقف ہیں ،ابھی تک ہم قراردار پاکستان اور قرارداد مقاصد کے نکات کے مطابق پوری طرح سے عمل نہیں کرسکے ،صرف دن منا لینا ہی فرض نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ قرارداد پاکستان اور قرار داد مقاصد کی روح پر پوری طرح سے عمل کیا جائے تاکہ ہمارے بزرگوں کا خواب حقیقی معنوں میں شرمندہ تعبیر ہو سکے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *