مولانا مودودی :فکر و تہذیب کے نئے افق/محمد امین اسد

نوٹ: علمی ، تعبیری ،سیاسی اور اصولی و فروعی اختلاف آپ کا حق ہے لیکن بلا دلیل الزام یا پچھ الفاظ یا فتوی بازی کم علم لوگوں کی نشانی ہے۔

انسانی زندگی کے کچھ ایسے سوالات ہیں جو ازل سے انسان کے ذہن کو جھنجھوڑتے آئے ہیں: یہ کائنات کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں جا رہی ہے؟ موت کے بعد زندگی ہے یا نہیں؟ انسان آزاد ہے یا کسی اعلیٰ عدالت کے سامنے جواب دہ؟ اخلاق کا سرچشمہ کیا ہے اور تہذیب کی بنیاد کہاں سے اٹھتی ہے؟ یہ سوالات ہر تہذیب اور ہر فکر کی جڑ ہیں۔ انہی کے مختلف جوابات پر انسان نے فلسفے تراشے، مذاہب قائم کیے اور نظامِ حیات وضع کیے۔ یہ سوالات انسانی فطرت کے سوالات ہیں، ان سے فرار ممکن نہیں۔ ہر معاشرت، ہر سیاست اور ہر تمدن انہی کے کسی نہ کسی جواب پر کھڑا ہے۔

یہاں اصل نکتہ یہ ہے کہ کسی بھی شخصیت یا فکر پر تنقید کرنے سے پہلے یہ دیکھنا لازمی ہے کہ وہ ان بنیادی سوالات کے بارے میں کس زاویۂ نظر پر کھڑی ہے۔ اگر آپ اور آپ کا مخاطب انہی بنیادوں پر مختلف کھڑے ہیں تو پھر جزیات کو بہانہ بنا کر توپ چلانا علمی بددیانتی کے سوا کچھ نہیں۔ اور اگر اعتراض ہی کرنا ہے تو لازم ہے کہ پہلے آپ یہ بتائیں کہ آپ کے اپنے جوابات کیا ہیں، وہ کیوں درست ہیں اور کس دلیل پر آپ ان پر قائم ہیں۔ ورنہ ساری تنقید ہوا میں تیر اندازی کے مترادف ہوگی۔

کسی بھی عبقری مفکر کو سمجھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے کام کو اس کے تاریخی پس منظر اور فکری بنیادوں میں رکھ کر دیکھا جائے۔ یہ انصاف نہیں کہ ہم اس کے چند جملے کھینچ کر آج کے پیمانے پر تولیں اور فیصلہ صادر کر دیں۔ ہر بڑا مفکر اپنے زمانے کے دباؤ، سوالات اور ماحول کے اندر رہ کر سوچتا اور جواب دیتا ہے۔ اسی لیے اصل انصاف یہ ہے کہ پہلے دیکھا جائے کہ اس نے علم کہاں سے اخذ کیا، پھر یہ سمجھا جائے کہ اس نے استدلال کیسے قائم کیا، اور آخر میں یہ جانچا جائے کہ اس کے نتائج اس کے اپنے سیاق میں کس قدر وزن رکھتے ہیں۔

مولانا مودودیؒ کو اگر اس معیار سے پرکھا جائے تو وہ صرف ایک مصنف یا سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک فکری معمار دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے اسلام کو اس محدود دائرے سے نکالا جس میں اسے صرف چند عبادات یا رسوم تک مقید کر دیا گیا تھا۔ ان کا اعلان تھا کہ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے، جو فرد پر بھی حاکم ہے اور ریاست پر بھی، معیشت پر بھی محیط ہے اور تہذیب پر بھی۔ ان کا یہ پیغام صرف کاغذ تک محدود نہ رہا بلکہ ایک تحریک اور ایک نظامِ فکر کی شکل میں زندہ ہوا۔

تفہیم القرآن کو اگر ان کی علمی خدمات کا شاہکار کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ یہ صرف ایک تفسیر نہیں تھی، بلکہ قرآن کو ایک زندہ اور مربوط انداز میں پیش کرنے کی کوشش تھی۔ مغرب کی فکری یلغار کے زیرِ اثر تعلیم یافتہ طبقہ قرآن کو پرانی کتاب سمجھنے لگا تھا، مگر مولانا نے یہ احساس پیدا کیا کہ یہ کتاب آج بھی زندہ ہے اور آج کے سوالوں کا جواب رکھتی ہے۔ انہوں نے قرآن کو لغوی موشگافیوں میں نہیں الجھایا بلکہ اس کے پیغام کو زندگی سے جوڑ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ عام قاری بھی متاثر ہوا اور تعلیم یافتہ طبقہ بھی قائل ہوا۔

مولانا کا کمال یہ تھا کہ وہ اپنے دور کے بڑے بیانیوں کے ساتھ براہِ راست مکالمہ کرتے تھے۔ قومیت کا نعرہ ہو، سرمایہ داری کا جواز ہو یا سوشلسٹ مساوات کی لہر—انہوں نے ہر ایک کا علمی اور اخلاقی محاکمہ کیا۔ ان کے نزدیک قومیت اگر اخلاق سے آزاد ہو تو صرف تفرقہ ہے، سرمایہ داری اگر عدل کے بغیر ہو تو محض استحصال ہے، اور سوشلسٹ مساوات اگر آزادی سلب کر لے تو جبر کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے مقابل اسلام ایک ایسا نظام پیش کرتا ہے جس میں عدل بھی ہے، آزادی بھی اور اخلاق بھی—اور یہ تینوں توحید کے زیرِ سایہ جڑ کر رہتے ہیں۔

یہ بھی ان کی انفرادیت تھی کہ وہ صرف قلم کے مفکر نہیں تھے بلکہ عمل کے میدان میں بھی اترے۔ انہوں نے جماعت بنائی، کارکن تیار کیے اور فکر کو منظم قوت میں ڈھالنے کی جدوجہد کی۔ سیاست پر اعتراض ہوا، فقہی آرا پر تنقید ہوئی، مگر ایک بات پر سب متفق ہوئے کہ انہوں نے مسلم معاشروں میں ایک نئی فکری میز بچھائی۔ آج بھی اسلام اور سیاست، دین اور تہذیب کے تعلق پر ہونے والی ہر سنجیدہ گفتگو اسی میز پر جاری ہے۔ یہ کوئی چھوٹی خدمت نہیں۔

اگر ان کی مجموعی خدمات کو دیکھا جائے تو وہ ایک ہمہ گیر شخصیت کے طور پر ابھرتے ہیں: ایک مفسر جنہوں نے قرآن کو زندہ کتاب کے طور پر پیش کیا؛ ایک رہنما جنہوں نے فکر کو عمل کا لباس دیا؛ ایک مفکر جنہوں نے مغربی بیانیوں کے مقابل ایک متبادل فکر تراشی؛ ایک ادیب جنہوں نے اسلامی لغت کو سیاست اور معیشت کی زبان بنایا؛ اور ایک مربی جنہوں نے جدید ذہن کے ابہام کو دور کرنے کی جدوجہد کی۔

مولانا مودودیؒ کی اصل عظمت یہی ہے کہ وہ محض پرانے ڈھانچوں کے ناقد نہ تھے بلکہ نئے ڈھانچے کے معمار تھے۔ وہ صرف رد کرنے والے نہیں تھے بلکہ تعمیر کرنے والے تھے۔ ان کی فکر میں سیاست، معیشت، تہذیب اور تعلیم سب توحید کے مرکز میں آ کر جڑ جاتے ہیں۔ وہ صرف مصنف یا مفسر نہیں بلکہ ایک مکمل فکری معمار تھے۔

آج جب ہم ان پر بات کرتے ہیں، چاہے تائید میں ہو یا تنقید میں، حقیقت یہ ہے کہ ہم اسی میز پر بیٹھے ہیں جو انہوں نے بچھائی تھی۔ یہی ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے، یہی ان کی علمی و عملی میراث ہے۔ وہ اپنے عہد کے سوالوں کا جواب دینے والے بھی تھے اور آنے والے زمانوں کے لیے فکری رہنمائی چھوڑ جانے والے بھی۔ یہی ان کا اصل مقام ہے۔

بشکریہ فیسبک وال

نوٹ؛یہ تحریر آزادی اظہار رائے کے تحت شائع کی جارہی ہے۔مصنف کے خیالات سے ادارے کا اتفاق ضروری نہیں۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply