دلہن/تحریر:مسلم انصاری

بڑا سا گھر ہے
سفید چونے سے دیوار و در کو رنگا گیا ہے
کھلے صحن کے ہر ایک کونے میں پیڑ پودے لگے ہوئے ہیں
بڑے سے گھر کے بڑے سے کمروں میں خواب سارے نئے پڑے ہیں
مرا باورچی، مرے ملازم، نیا ڈرائیور، پرانا مالی
مری اک آواز کے لئے کھڑے ہیں
سب ہی نئے ہیں
گھڑی نئی ہے
بالکونی کے ایک کونے میں ایک دلہن کھڑی، نئی ہے
نئے پیراہن، نفیس جوتے، کمال گہنے
پرانے شہروں میں آن بستے نئے مکینوں کے کیا ہی کہنے!

بڑی گلی ہے، نئی گلی ہے
نئی گلی میں گزرتے موسم کو دیکھنا بھی نیا نیا ہے
ہر ایک لمحے کچن میں جاکر میں دیکھتی ہوں کہ کیا بنا ہے
میں سوچتی ہوں کسی سے پوچھوں :
“یہاں کسی کو، بھلا کسی کو
سبز آنکھوں کا کچھ پتا ہے؟”
“مسافری نے مسافروں کو سوائے ہجرت کے کچھ دیا ہے؟”
“یہاں کا باسی تھا اک باشندہ، ابھی یہیں تھا، کہیں گیا ہے؟”
“جہاں پہ چھوڑا تھا اس کو میں نے، چلا گیا ہے؟ وہیں کھڑا ہے؟”

بڑا صحن ہے، بہت بڑا ہے
بڑا سا گھر ہے! بنا، سجا ہے!
مگر یہاں کے ہر ایک حصے میں ایک سایہ کھڑا ہوا ہے
ایسے جیسے کسی کے خوابوں کو میرے خوابوں نے بیچ رستے کچل دیا ہے
یہ سایہ مجھ سے نہ بولتا ہے نہ دیکھتا ہے مگر بتاؤ :
“نئی منازل کی کھوج کرتے، پرانے رستوں کو چھوڑ دینے میں، کچھ برا ہے؟”
میں اپنے رتبے کے سارے خوابوں کی ساری قیمت چکا چکی ہوں
جو میں نے چاہا تھا، جیسا سوچا تھا عین ویسی ہی منزلوں کو میں پا چکی ہوں
اس ایک سائے کا کیا ہی مطلب اگر میں اس کو بھلا چکی ہوں؟

julia rana solicitors

مگر پتہ ہے؟
“نئی جگہ کی نئی تھکن سے میں رات ہوتے ہی تھک کے بستر پہ جا گروں گی”
“میں خوبصورت گھروں میں بستے امیر لوگوں کی دسترس ہوں، انہیں ملوں گی!”

Facebook Comments

مسلم انصاری
مسلم انصاری کا تعلق کراچی سے ہے انہوں نے درسِ نظامی(ایم اے اسلامیات) کےبعد فیڈرل اردو یونیورسٹی سے ایم اے کی تعلیم حاصل کی۔ ان کی پہلی کتاب بعنوان خاموش دریچے مکتبہ علم و عرفان لاہور نے مجموعہ نظم و نثر کے طور پر شائع کی۔جبکہ ان کی دوسری اور فکشن کی پہلی کتاب بنام "کابوس"بھی منظر عام پر آچکی ہے۔ مسلم انصاری ان دنوں کراچی میں ایکسپریس نیوز میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply