نشانِ پاکستان/اقتدارجاوید

قاسمی صاحب ایک خوش قسمت ادیب ہیں۔
ادیب کی خوش قسمتی کی کئی اقسام ہوں گی مگر ہمارے نزدیک ادیب خوش قسمت اس وقت ہوتا ہے جب اس کا لکھا ہوا قبول ہوتا ہے۔ عطاالحق قاسمی صاحب نے بچپن ہی سے لکھنا شروع کر دیا تھا یوں ان کی ادب کی ریاضت کو ساٹھ سال سے بھی زیادہ کا عرصہ ہو چکا۔یہ میر انیس کی سیاحی بھی ہے اور ریاضت بھی۔ادب بہت کم لوگوں پر مہربان ہوتا ہے۔ادب وقت کی طرح ظالم اور کسی کو خاطر میں نہ لانے والا ہوتا ہے۔وقت بھی بڑوں بڑوں کی ڈھیریاں بنا کر محفوظ کر دیتا ہے تا کہ آنے والے اس سے عبرت حاصل کریں۔ادب کا بھی یہی وظیفہ ہے۔ ہمارے جیسے ہزاروں بلکہ لاکھوں اس کی تلوار کا نشانہ بنے اور کھیت ہوئے۔میر اور غالب کے زمانے کی دس بارہ شعرا اور ادبا کے علاوہ کسی کا کسی کو نام تک یاد نہیں۔مغل دربار کے مشاعروں میں شریک شعرا کے نام شاید ہی کسی ذہن میں کہیں محفوظ ہوں۔خود ہمارا جاری عہد اس بات کا گواہ ہے کہ پچھلے عشرے کے لوگ حافظے سے مٹ مٹ جاتے ہیں۔ادب وہ خداوند ہے جو اپنے دونوں جانب جہنم کے گڑھے کھودتا اور بھرتا رہتا ہے اور حالی کے کہے کی تصدیق کرتا ہے کہ
گنہگار واں چھوٹ جائیں گے سارے
جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے
صرف اگلے جہان ہی جہنم نہیں ہوتا اس جہان میں بھی وافر ادبی جہنم ہیں جنہیں ہما شما بھرتے ہیں۔
ادب کم لوگوں پر ہی مہربان ہوتا ہے اور جن پر ہوتا ہے چھپر پھاڑ کر ہوتا ہے۔قاسمی صاحب اس کی عمدہ مثال ہیں۔کون نہیں جانتا کہ ان کی سیاسی وابستگی سے پہلے بھی ان کا کالم نگاروں کی فہرست میں کہیں اوپر اوپر ہی ہوتا تھا۔سیاسی وابستگی کے بعد بھی ان کا کالم سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے۔وہ کالم کیا لکھتے ہیں عمرو عیار کی زنبیل سے جو کچھ نکالنا چاہیں نکال لاتے ہیں۔ان کا کالم الہ دین کا چراغ ہے وہ چراغ کو چہار اطرف سے رگڑنے پر قادر ہیں۔ہلکے پھلکے انداز میں وہ ہر قسم کی چھترول روا رکھتے ہیں۔بین السطور بھی اور واضح بھی دونوں طرح کی نشتر زنی کرتے ہیں۔وہ نہ پیچیدہ فلسفہ بھگارتے ہیں اور نہ ہی فرہنگ آصفیہ سے مشکل الفاظ سے کالم کا پیٹ بھرتے ہیں۔تازہ پانی کی طرح خوشبودار کالم لکھنا کوئی ان سے سیکھے۔مابدولت جو کسی کو بھی گھاس ڈالنے کے روادار نہیں کالم نویسی میں انہیں اپنا استاد مانتے ہیں۔ ان کے کالم کی نوعیت معاشرتی ہوتی ہے جس میں بظاہر کسی ایک کردار کا ذکر ہوتا ہے مگر وہ ہمارے مجموعی مزاج کا حامل کردار ہوتا ہے اور بسا اقات اسے مشق ستم بنا کر معاشرتی عیوب پر طنز کیا جاتا ہے جس کی انہی کالموں سے درجنوں نہیں ہزاروں مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔
جہاں تک ایوارڈ بلکہ ایوارڈز کی بات ہے انہیں خود یاد نہیں کہ انہیں کب پہلا انعام ملا تھا۔پاکستان کا سںب سے ایوراڈ ملنے پر مبارک بادی کا سلسلہ جاری تھا تو ان سے پوچھا تو کہنے لگے مجھے اپنی تاریخ پیدائش کے علاوہ کوئی تاریخ یاد نہیں ہے۔ ان کو پہلا ادبی ایوراڈ آج سے چھپن سال پہلے ملا تھا۔یہ آدم جی ادبی ایوارڈ تھا۔
پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی نہ ایوارڈ رہا نہ ایوارڈ دینے والے۔ ایسی ایسی بزنس کلاس آئی جن کے مقاصد ہی اور تھے اوپر سے بزنس تھا اندر کھاتے کچھ اور چل رہا تھا۔انہیں ادب اور ادبی ایوارڈوں سے کیا لینا دینا تھا۔سنا ہے نئی بزنس کلاس کے سامنے آدم جی والے حقہ بھرتے ہیں یا ان کی جوتیاں سیدھی کرتے ہیں۔انہوں نے آج سے پچاس سال پہلے یہ سلسلہ ہی ختم کر دیا تھا۔اب ایک آدھ ادارہ ہی شاید بچا ہے جو اس طرح کے انعامات دیتا ہے۔
قاسمی صاحب کا تکیہ شہر میں مقبول ترین تکیہ ہے۔
یہ تکیہ کہاں ہے شہر کے ہر ادیب کو معلوم ہے۔شہر کا شاید ہی کوئی ادیب ہو جس نے اس تکیے میں کچھ وقت نہ گزارا ہو۔ غیر ممالک سے ادیب آئیں تو ان کے لیے یہیں خصوصی نشستیں برپا ہوتی ہیں یہاں کبھی ادبا کی مجلس سجی ہوتی ہے، کبھی مشاعرہ برپا ہے، کبھی صحافت کے بڑوں کی بحث عروج پر ہے اور کبھی بزرگانِ گزشت کی یادوں سے بزم آرائی ہو رہی ہوتی ہے۔
یہاں ایک نرالی قسم کا الہ دین پایا جاتا ہے۔اس کا نام خالد ہے۔حکم کی دیر ہوتی ہے قاسمی صاحب کے اشارہ ابرو کو سمجھنے والے ڈرائیور خالد اور سیکرٹری شمائلہ پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کر دیتے ہیں۔بیس تیس ادیبوں کو ڈیل کرنا ان دونوں پیاروں پر ختم ہے۔نہ ان کا حوصلہ ختم ہوتا ہے اور نہ کھلانے والے کا جذبہ۔خوشا ایسے جان مارنے والے معاصر کے ملازمین۔ قاسمی صاحب بھی ان سے بہت محبت کرتے ہیں۔
جس دن تکیے پر کھابہ گیری کا پروگرام ہوتا ہے خالد صاحب کا احساس ذمہ داری دیکھنے والا ہوتا ہے۔خان بابا، جاوید نہاری اور ریگل چوک کے چکڑ چھولے جیسے اس کے زیر نگین آئے ہوتے ہیں۔ایسا آباد تکیہ شاید ہی کہیں ہو جہاں کھلے دل سے آنے والوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہو۔سنا ہے ایک تکیہ تڑکے تڑکے کسی باغ میں بھی سجتا ہے جہاں منہ زبانی خدمت خاطر ہوتی ہے۔شہر کے باقی تکیے اجڑ چکے ہیں۔بہت ساروں کی خواہش ہے کہ شاعر ادیب ان کے ہاں پہنچیں۔مگر اتنا بڑا دل کہاں سے لائیں اور اتنے لوگ کہاں سے لائیں۔ایسی مجلس آرائیوں کے لیے جن چیزوں کا ہونا ضروی ہے وہ ان کے ہاں ناپید ہے۔
طرفہ تماشا یہ ہے کہ بزرگ ادیب جن کا اپنا تکیہ ہونا چاہیے، جہاں ان کے ملنے والے ان کے چاہنے والے آ سکیں
وہ شام کو یوسفِ بے کارواں کی طرح یا یوں کہیے کہ دربدر ہو کر کسی اور کے ٹھکانے پر پائے جاتے ہیں۔اندھیرے پھیلنے تک وہیں رہتے ہیں کسی کے پلّے سے چائے پیتے ہیں، اس کے بعد گہرے ہوتے اندھیرے میں اگلی شام تک غائب ہو جاتے ہیں۔

Facebook Comments

اقتدار جاوید
روزنامہ 92 نیوز میں ہفتہ وار کالم نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply