ٹکر کے لوگ/نجم ولی خان

میرے ایک دوست کااصرار ہے کہ ’انہیں‘ پہلی مرتبہ ٹکر کے لوگ ملے ہیں اور میں حیران ہوں کہ اگر یہ ٹکر کے لوگ ہیں تو پھر وہ سب کیا تھے جنہیں پھانسیاں دی گئیں، جلاوطن کیا گیا، جیلوں میں ڈالا گیا، کوڑے مارے گئے۔ میرے دوست نے یہ بات اس وقت دہرائی جب خانصاحب نے چوہدری پرویز الہی سے زبردستی پنجاب کی اسمبلی تڑوائی۔ مجھے لگا یہ وہ ٹکر کے لوگ ہیں جو اپریل سے لے کر اب تک اپنے مخالف کوتو نہ مار سکے مگر خود کو ہی ٹکریں مار رہے ہیں۔ اپنے ہی سر، دانت اور ہاتھ میرا مطلب ہے کہ اسمبلیاں اور حکومتیں توڑ رہے ہیں۔ کسی جہاں دیدہ بابے نے کہا، خدا گنجے کو ناخن نہ دے۔ پوچھنے والوں نے پوچھا، کیوں؟ بولا وہ اپنا ہی سر کھرک کھرک کے گنجا کر لے گا۔ کہتے ہیں کھسریاں دے گھر منڈیا ہویا تے اوہناں نے چُم چُم کے ای مار دتا۔ خانصاحب بھی وہی پہلوان نکلے جو اپنے منہ پر مکا مارکے مخالف کی بتیسی کاڈھ دینے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ وہ ضدی بچہ ہے جو اپنے ہی کھلونے توڑ کے غصہ نکالتا ہے اورمیں سوچ رہا ہوں کہ اگر لاڈلے کو کھیلن کو دوبارہ چاند نہ ملا تو کیا وہ رو رو کے ہوش گنوا بیٹھے گا کہ لاڈلا، لاڈلا بھی نہیں رہا۔
ٹکر کے لوگوں نے کمال یہ کیا کہ اپنے مخالفین سے وزارت عظمیٰ لینا چاہتے تھے مگر اپنے ہی بندوں سے وزارت اعلیٰ، وزارتیں اور اسمبلی کی رکنیت تک لے لی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو محلے میں سامنے والے گھر کی طرف اشارہ کر کے کہتے ہیں کہ وہ اس پر ہمارا حق ہے، وہ ہمیں دو مگر جب نہیں ملتا تو اپنے ہی دونوں گھر گرا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اب دیکھتے ہیں کہ وہ دوسرے اپنا گھر کیسے بچاتے ہیں۔ ارے بھائی تمہارا گھر تھا تم نے گرا دیا، جس کا گھر اس کی مرضی۔ کہتے ہیں کہ ایک چور، چوری کرنے کے لئے بہت سارے گھروں میں گیا مگر کسی بھی جگہ اس کی دال نہ گلی۔ وہ واپس آیا اور اپنی ہی اماں کا زیور اٹھا کے چور بازار میں بیچ آیا۔ مجھے وہ لونڈا یاد آ گیا جسے سڑک پر سے گزرتے ہوئے بم ملا اور اس نے اسے لا کے اپنے ہی گھر میں پھاڑ لیا۔ کہتے ہیں کہ اپنی ہی اسمبلیاں اور حکومتیں توڑ کے ٹکر کے لوگوں نے اپنی دہشت بٹھا لی ہے۔ دہشت سے یادآیا کہ کسی کو تھانے دار بننے کا بہت شوق تھا، ماں نے پوچھا، پترتوں تھانے دار بنیا تے ساہنوں کنج پتاچلے گا۔ متوقع تھانے دار ترنت بولا، اماں میں ابے سمیت سارے رشتے داراں نوں لمیاں پا کے چھتر ماراں گا۔ اماں بولی فٹے منہ تیرے تھانے دار بنن دا جے تو چھتر وی ساہنوں ہی مارنے نیں۔ لیں جی، خانصاحب نے بھی اپنی بہادری کی دھاک بٹھا دی ہے مگر یہ اس جیسے ہرگز نہیں جیسے وہ عورت اور مرد تھے جنہوں نے سکول جا کے استاد سے کہا کہ اگر کوئی دوسرا بچہ شرارت کرے تو اسے کچھ مت کہیے گا، اس کے ساتھ والے کو تھپڑ مار دیجئے گایہ خود ہی ڈر جائے گا۔ یہ صاحب اتنے بہادر ہیں کہ یہ ڈرانا دوسروں کو چاہتے ہیں اور دھوبی پٹخا اپنے بچوں کو لگا دیا ہے۔ میرا ایک کلاس فیلو تھا جو سردیوں میں اپنا منہ چپیڑیں مار کے لال کر لیتا تھا اوراستاد کو شکایت لگاتا ہے کہ فلاں سٹوڈنٹ نے مجھے مارا ہے۔ میں جب اس سے پوچھتا تھا کہ یہ کیا حرکت ہے تو وہ جواب دیتا تھا کہ وہ مائینڈ گیم کا ایکسپرٹ ہے۔ ایخو جئے ایکسپرٹ کہندے پھردے نیں کہ میں خود کشی کر کے مخالف نوں اپنے قتل چ پھانسی کرادیاں گا۔ ہتھ سُٹ۔ بہت سارے ایسیاں گلاں سن کے کہندے نیں کہ او بوہت خطرے ناک اے۔ خطرے ناک سے یاد آیاکہ جنگل میں کسی (احتراما روایت میں مذکور جانور کا نام نہیں لکھ رہا) کے پاس ماچس آ گئی اور اس نے جگہ جگہ آگ لگا دی۔ اب سارے شیر کے پیچھے ہیں کہ تم اچھے شیر ہو، جنگل کی آگ فوری طور پر بجھاتے کیوں نہیں؟
کسی نے پوچھا کہ خانصاحب اپنی پارٹی کی اسمبلیاں اور حکومتیں وغیرہ کیوں تڑوا رہے ہیں تو اس کا پہلا جواب ہے کیونکہ خانصاحب اب وزیراعظم نہیں رہے لہذا اب کسی دوسرے کو بھی کسی عہدے پر نہیں رہنا چاہئے۔ کہتے ہیں کہ جب بلی (شائد بلی کی بجائے کسی اور کا ذکر ہے) کے پاوں جلنے لگتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کو پاوں تلے دبا لیتی ہے کہ اسے اپنی جان سے بڑھ کے کچھ عزیز نہیں ہوتا اور خانصاحب کو اپنی وزارت عظمیٰ سے بڑھ کے کچھ عزیز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے فرمایا، ان سے حکومت لینے سے اچھا تھا کہ پاکستان پر (خاکم بدہن) ایٹم بم گراد یا جاتا۔ اس سوال پر میں نے کہا تم نے کبھی چوربازار بارے سنا ہے، کہتے ہیں کہ وہاں قیمتی کپڑا ڈانگوں کے گز بکتا ہے۔ وہ بولا،سمجھا نہیں۔ میں نے کہا کہ تم نے کبھی کسی نوجوان کو گاڑی(بقیہ نمبر1صفحہ 4پر)
بری طرح چلاتے اور ٹھوک کے تباہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جب بھی ایسے کسی بندے کو دیکھوگے تو تمہیں علم ہوگا کہ گڈی اس کے ابے نے لے کر دی ہے اور اس کی ابے سے لڑائی ہو گئی ہے۔ اب اس نے اپنی محنت سے گڈی لی ہوتی تواسے درد بھی ہوتا۔ اسے سنبھال کے بھی رکھتااور ٹوئیوں ٹبوں سے بچاتا بھی۔ ہوا کچھ یوں کہ پورا جنوبی پنجاب اٹھا کے جھولی میں ڈالا۔ الیکشن ڈے پر ٹکا کے دھاندلی کی اور پھر آر ٹی ایس بند کیا۔ الیکشن کے بعد سارے آزاد امیدوار اغوا کرکے بنی گالہ پہنچائے گئے اور انہیں گلے میں ترنگے پہنائے گئے۔ ایسی حکومتیں ابے کی دی ہوئی گڈی جیسی ہی ہوئیں۔ چلیں، میں آپ کو بتاتا ہوں کہ خانصاحب پنجاب اور خیبر پختونخوا کی تین لاکھ مربع کلومیٹر کے لگ بھگ حکومتیں کیوں ختم کر رہے ہیں، بس آپ نے ہنسنا نہیں ہے، کیونکہ ان کے مطابق انہیں وہ حکومت چاہئے جو ستائیس مربع کلومیٹر پر ہے اور اس وقت شہباز شریف کے پاس ہے۔
کالم کو مکمل کرتے کرتے بتاتا چلوں کہ خانصاحب نے اپنے دور میں ملک کے اندر اپوزیشن ہی نہیں بلکہ باہر دوست ممالک جیسے ترکی، سعودی عرب، چین وغیرہ کو بھی بہت ٹکریں ماریں اور پھر ایک ٹکر ٹرمپ کی محبت میں امریکا کو بھی مار دی۔ مجھے صوبیدار صاحب کا وہ بکرا (خانصاحب کے احترام اور موضوع کی مناسبت سے روایت کو بدلتے ہوئے بکرا کر دیا ہے) یاد آگیا جسے ہر کسی کو ٹکر مار نے عادت پڑ گئی تھی۔ کوئی بھی اس بکرے کو کچھ نہ کہتا کیونکہ وہ صوبیدار صاحب کا لاڈلا بکرا تھا مگر پھر اس نے اسی عادت میں ایک روز بم کو ٹکر مار دی۔ ایک فقرہ نواز لیگ والوں کا مشہور ہوا تھا کہ وہ لوہے کے چنے ہیں اور وہ پرویز مشرف کے بعد عمران خان کے مارشل لا میں بھی نہ چبائے جاسکے اور اب ایک فقرہ پی ٹی آئی والوں کا مشہور ہوا ہے کہ وہ ٹکر کے لوگ ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ اب تک انہوں نے جتنی بھی ٹکریں ماری ہیں وہ اپنے آپ کو ہی ماری ہیں۔ اپنی ٹکروں سے اپنے مخالفین چاہے وہ اسٹیبلشمنٹ ہو یا پی ڈی ایم، کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکے، ہاں، ان کی پاکستان کو ماری ہوئی ٹکریں بہت خوفناک تھیں جن سے لگنے والے اقتصادی زخموں سے اب تک لہو رس رہا ہے۔ان کی خواہش تھی کہ ان ٹکروں سے پاکستان گرجاتا مگر اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان ان وحشیانہ او رمجنونانہ ٹکروں کے بعد بھی اپنے پاوں پر کھڑا ہو رہا ہے مگر ابھی مہنگائی کے گھاو باقی ہیں۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london

نجم ولی خان
ڈائریکٹر جنرل پاکستان ریلوے،کالمسٹ،اینکر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply