ایک ہائی میرٹ میڈیکل فیلڈ کی تباہی/ڈاکٹر محمد شافع صابر

اگر میڈیسن کی الائیڈ کی بات کی جائے تو سب سے ہائی میرٹ ایف سی پی ایس / ایم ڈی ڈرماٹالوجی کا ہے ۔ ڈرماٹالوجی میں سی آئی پی ( سینٹرل انڈکشن پالیسی) کے زریعے سیٹ لینے کے لئے میں نے ینگ ڈاکٹرز کو دو دو سال بی ایچ یو ( بنیادی مرکز صحت) / آر ایچ سی ( دیہی مرکز صحت) میں نوکری کرتے بھی دیکھا ہے، کہ وہ اپنی ڈریم فلیڈ میں کنسلٹنٹ بن سکیں ۔ Aesthetic میڈیسن بھی ڈرماٹالوجی ہی کی ایک شاخ ہے،جو کہ صرف ڈرماٹالوجی کی ڈومائن میں آتی ہے۔
ہمارے ساتھ ظلم عظیم یہ کیا گیا کہ سادہ ایم بی بی ایس سے لیکر ہر ایرے غیرے نتھو پھیرے نے aesthetic فزیشن کے نام پر دھڑا دھڑ کلینک کھولے،اور سادہ لوح عوام کو ڈرماٹالوجسٹ کہہ کر چونا لگانا شروع کر دیا۔ بات یہاں تک بھی نہیں،انہی نام نہاد aesthetic فزیشنز نے بزنس کے نام پر اپنے اپنے سب اسٹینڈرڈ کاسمیٹک برانڈز بھی بنا لئے اور دھڑا دھڑ فیس واش،کریمز اور کیا کچھ بیچنا شروع کر دیا۔
بات یہاں رکی نہیں، فزیو تھراپیسٹ ، فارماسسٹس اور بی ڈی ایس والوں نے بھی جگہ جگہ aesthetic کلینک بنا چھوڑے۔ بات یہاں بھی نہیں رکی۔۔کچھ تھکی پرائیویٹ یونیورسٹیوں نے ایف ایس سی کے بعد aesthetic میڈیسن میں 4 سالہ بی ایس آنرز کروانا شروع کر دیا۔ ان نوجوانان قوم نے خود کو کنسلٹنٹ ڈرماٹالوجسٹ کہنا شروع کر دیا اور چل سو چل۔
سادہ ایم بی بی ایس کرنے کے بعد،ینگ ڈاکٹرز نے ایسے ہی کسی نام نہاد پریکٹس کرتے aesthetic فزیشن کے پاس چار پانچ مہینے لگا کر کام سیکھا ( اس کے پیسے بھی دئیے) اور بعد میں اپنے علاقوں میں واپس جا کر aesthetic کلینکس کھولے اور خود کو کنسلٹنٹ ڈرماٹالوجسٹ کہنا شروع کر دیا۔
بات یہاں بھی نہیں رکی۔۔ ہر چھوٹے بڑے شہروں کی بیوٹی پارلر کی مالک خواتین نے بھی اپنے اپنے پارلر میں aesthetic کلینک کھول لیے اور ڈاکٹرز کو نوکری پر رکھ لیا۔
یوں ایک ہائی میرٹ فلیڈ کی تباہی پھیر دی گئی ۔ اس میں سب سے زیادہ قصور ہم ڈاکٹروں کا خود کا ہے، جہنوں نے جلدی کامیاب (کنسلٹنٹ) بننے اور نوٹ کمانے کی خاطر ایسے شارٹ کٹ طریقے اپنائے ۔
ایم بی بی ایس کرنے کے بعد،دو سال دیہی علاقوں میں نوکری کر کے ڈرما میں ٹریننگ لینے والوں اور ایم بی بی ایس کے بعد کسی سو کالڈ aesthetic فزیشن سے پانچ چھے مہینے لگا کر کام سیکھنے والے کو ایک کر دیا گیا ہے۔۔کیا اس سے بڑا ظلم کوئی اور ہو سکتا ہے؟
ہم بحثیت قوم ہی شارٹ کٹس کے چکروں میں ہیں اور aesthetic میڈیسن کی تباہی اسکا جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔
اب اتنی تباہی کے بعد پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل نے ایک دو نوٹیفکیشن تو نکالے ہیں،جسکے مطابق aesthetic میڈیسن کی پریکٹس صرف ایف سی پی ایس / ایم ڈی کنسلٹنٹ ڈرماٹالوجسٹ ہی کر سکتے ہیں ۔
اس نوٹیفکیشن کی کوئی اہمیت نہیں جب تک پی ایم ڈی سی صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ہر گلی محلے میں کھلے ان نام نہاد aesthetic کلینکس کو سیل نا کرے.
صوبہ پنجاب میں، پنجاب ہیلتھ کمیشن (پی ایچ سی) بھی ان نام نہاد aesthetic کلینکس کو روکنے سے ناکام ہو چکا ہے ۔ پی ایچ سی کو ہر وہ aesthetic کلینک بند کرنا چاہیے جس میں ایف سی پی ایس / ایم ڈی پاس کنسلٹنٹ موجود نہیں ۔
جیسے اب حالات ہو گئے اب کوئی بھی سریس مریض ڈرماٹالوجسٹ کے پاس نہیں جا پاتا کیونکہ اسے ہر گلی میں تو ایک aesthetic کلینک کھلا ہوا ملتا ہے۔
ایک ہائی میرٹ فلیڈ کی ایسی تباہی پھیر دی گئی ہے کہ جس نے اس فیلڈ کی شاخت کو ہی متنازع کر دیا ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ تمام متعلقہ ادارے بشمول پی ایم ڈی سی، وفاقی وزارت صحت اور صوبائی حکومتیں مل کر اس کے خلاف ایکشن لیں وگرنہ آپ کو کنسلٹنٹ ڈرماٹالوجسٹ ڈھونڈے بھی نہیں ملنا اور پھر آپ ایسے ہی کسی نام نہاد aesthetic فزیشن سے اپنا علاج کروائیں گے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply