ساگ ساگ کرتے میں آپے ساگ ہوئی۔۔ساجدہ سلطانہ

ہم ساگ کھانے والی قوم نہیں ، لہذا ساگ کے بارے میں ہماری معلومات سنی سنائی بلکہ پڑھی پڑھائی باتوں تک ہی محدود ہیں لیکن ہم نے دیکھا کہ جب جب ساگ کا ذکر آیا تو اکثر عوام اس طرح جذباتی ہوگئی جیسے پسندیدہ ہیروئن کو اپنے سامنے دیکھ کے شائقین فلم جوش ِ  جنون میں آپے سے باہر ہوجاتے ہیں ، ساگ کے رنگ، اس کی نسل ،اس کے   ذائقہ پہ سیر حاصل تبصرے ہوئے پھر اس کی افادیت پہ مضامین  بھی لکھے گئے اور ہم  جیسے نادان معصوم ساتھیوں کو نہ صرف پڑھنے بھی پڑے بلکہ بھر بھر پیالے پینے بھی پڑے، پھر اس کے بعد ساگ کے دیوانوں کو اپنی مرحومہ ماں کے ہاتھوں کے بنے ساگ یاد آگئے جن کی لذت وہ امریکہ و کینیڈا جا کے بھی نہ بھول سکے اور رہے دیسی کے دیسی۔
‎اس کے بعد نمبر آیا ساگ بنانے کی ترکیب کا ، اس میں بھی مرد و زن کاندھے سے کاندھا جوڑ کے کھڑے ہوگئے اور اللہ جھوٹ نہ بلوائے تو ایسی ایسی  تراکیب  پڑھنے کو ملیں  جن کو دیکھ کے مرحومہ زبیدہ آپا کی روح بھی شرما جائے، کوئی اس میں لہسن کے بگھار کو یاد کرتا نتھنے پھلا پھلا کے اس کی خوشبو کے قصیدے پڑھتا ہے تو دوسرا جان جوکھوں سے کی گئی اس کی گھٹائی کی واردات قلب کی گہرائیوں سے بیان کرتا ۔
اللہ اللہ کرکے جب ان سارے مرحلوں سے گزرے تو پھر یہ بحث کہ کیا ساگ میں آلو ڈالے جاسکتے ہیں یا نہیں حالانکہ ہماری معلومات کے مطابق آلو ایک ایسی بھولی بھالی سبزی ہے جو ہر دوسری سبزی کے ساتھ بڑی آسانی سے ایڈجسٹ ہوجاتی ہےبلکہ گھل مل یا شاید رل مل جاتی ہے ہمیں یو ں تو آلو کی اس بے راہ روئیانہ روش پہ چنداں اعتراض نہیں مگر ساگ کے شیدائی اس بے وفا سبزی کو ساگ میں برداشت نہ کرسکے اور ایک نئی بحث کا آغاز کردیا گیا جس کے ساتھ ہی ہمارے حوصلے کا انجام ہوگیا اور ہم نے ساگ کے کھیت سے نکل بھاگنے میں ہی عافیت سمجھی!
مگر یہ کیا ساگ کے عاشقوں نے تو ہمارا پیچھا ہی لے لیا اب وہ ہمیں دلیلیں دے دے کے سمجھا رہے ہیں کہ ہماری اب تک کی زندگی کس قدر بے رنگ و بو گزری جس میں نہ ساگ تھا نہ اس کا سبز رنگ نہ لہسن کی مہکار، اور یہ کہ اب بھی وقت ہے جتنا بھی ہوسکے ہمیں اپنی باقی ماندہ زندگی ساگ کھا کے بلکہ ساگ میں مل کی ساگ ہو کے گزارنی چاہیے  تاکہ ہماری اگلی نسلیں اس آبائی اور حسبی نسبی ساگی شان و شوکت کو محسوس کرسکیں اور اس پہ بجا طور پہ فخر بھی کریں، اور سچ تو یہ ہے اب ہم بھی ساگ سے اتنے متاثر ہو گئے ہیں کہ کئی دنوں سے ہمیں خواب میں بھی ہر طرف ساگ مطلب سرسوں کے کھیت ہی نظر آرہے ہیں جابجا پیلی پیلی سرسوں پھولی ہوئی ہے اور اس کے ہرے ہرے پتے اور ڈنٹھل ہمیں ہمک ہمک کے بلا رہے ہیں مسکرا رہے ہیں ہمیں دیکھ کے خوشی سے جھوم رہے ہیں ان کے جھومنے سے جو آواز پیدا ہوتی ہے اس سے یوں لگتا ہے جیسے خیرمقدمی تالیاں بھی بجا ئی  جارہی ہوں ہم دائیں بائیں بازو  وا کئے ساگ ساگ پکارتے دوڑے چلے جاتے ہیں اور کھیت میں  گھس جاتے ہیں۔

دوڑتے دوڑتے اچانک ہی کیا دیکھتے ہیں کھیت کے بیچو بیچ مرحوم سلطان راہی اپنا مشہور زمانہ گنڈاسا سنبھالے کھڑے ہیں ہمیں دیکھ کے للکار کے بولے۔۔

اووووےےےے کون ہے تو؟؟۔۔۔۔ان کی للکار سن کے ہمیں حیرت کا شدید جھٹکا لگا ۔

گھگھیا کے بولے۔۔ لالہ ہمیں ساگ چاہیے  کراچی میں جو ساگ ملتا ہے وہ شاید چین سے آتا ہے ہمیں اصلی اور خالص سرسوں کا ساگ چاہیے،

لالہ شفقت سے مسکرائے اور اندر کی طرف منہ کرکے بولے “ جانوووووو تھوڑا ساگ توڑ لا، کیا دیکھتے ہیں کہ چند منٹ بعد ہی انجمن ایک ہاتھ سے ساگ کا بڑا سا گٹھر اور دوسرے سے اپنا لاچا سنبھالتی چلی آرہی ہیں ہم خوشی سے پاگل ہونے لگے ۔ انجمن کے گلے لگ گئے لالہ اور انجمن جی کا شکریہ ادا کیا ساگ لے کے چلتے بنے اور ساتھ ہی آنکھ بھی کھل گئی!
اب ہم کچن میں ہیں اور ساگ سے نبرد آزما ہیں بس یہ تہیہ کرلیا ہے کہ جیتے جی ساگ ایک بار ضرور کھائیں گے تاکہ مرنے کے بعد ہماری روح بلبلاتی ساگ ساگ پکارتی نہ پھرے لہذا اب اجازت دیں ابھی ساگ میں گھونٹا لگانا ہے پھر لہسن سے بگھارنا بھی ہے اور اس کے بعد ایک اور بڑا مرحلہ یعنی مکئی کی روٹی بھی ہماری راہ دیکھ رہی ہے اس کا بیان اگلی نشست میں سنائیں گے ابھی تو ساگ بنالیں۔۔
دعا کی طالب

آپ کی اپنی ڈاکٹرنی جی!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *