اس دنیا کی ساری رعنائی، خوبصورتی اور دلکشی مرد اور عورت کے دم سے ہی ہے۔ اللّٰہ تعالٰی نے مرد اور عورت کو جسمانی اور فطری لحاظ سے یکسر مختلف بنایا ہے۔ فطری اور جسمانی لحاظ سے مختلف ہونے کی وجہ سے ہی دونوں جنس پر الگ الگ فرائض اور ذمہ داریاں عائد کی ہیں۔ دنیا میں مرد اور عورت پر بطور میاں بیوی نئے خاندان کی تشکیل کی ذمہ داری رکھی ہے۔ نئےخاندان کی تشکیل نئی نسل کے وجود کی بنیاد بنتی ہے اور دنیا کا نظام نئی نسل کے وجود میں آنے سے ہی برقرار ہے۔ بے شک دنیا کے نظام کا تسلسل اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک دنیا کے خالق( اللّٰہ) کی مرضی ہے۔
آئے دن سوشل اور پرنٹ میڈیا پر مرد کی طرف سے عورت پر تشدد اور مار پیٹ کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل کے کئی کیسز سامنے آتے ہیں۔ مرد عورت کی بطور بیوی کے عزت کیوں نہیں کرتا؟ مرد ہی عزت و غیرت کے نام پر قتل کیوں کرتا ہے؟
رب سُہنے کی بنائی اس آزمائش بھری دنیا میں رب کے بنائے دو یکسر مختلف انسان یعنی مرد اور عورت کی جسمانی ضروریات اور فطری خواہشات بھی مختلف ہیں۔ دنیا میں ان دو مختلف فطرت کے حامل انسانوں کو دو سودے حاصل کرنا بہت پسند ہیں “ایک عزت کا سودا اور دوسرا محبت کا سودا”۔
یہ عزت کے سودے کی ہی طلب تھی جس کی بدولت جنگلوں اور پتھروں میں رہنے والے انسان نے اپنی پہچان اور شناخت کے لیے منفرد ناموں سے ملک اور شہر آباد کیے۔ اپنا نام اور عزت بنانے کے لیے گھوڑوں پر سفر کرنے والے انسان نے گاڑیاں، ہوائی جہاز اور بحری جہاز تک بنالیے۔ کس لیے؟ اپنی شناخت کے لیے ، شہرت کے لیے ، جان پہچان اور عزت کے لیے۔ بیشک عزت کا سودا لینے کے لیے کافی کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور محنت و لگن سے ہی یہ سودا لینا ممکن ہوتا ہے۔
محبت ایک فطری جذبہ ہے۔ محبت تو خوش بخت لوگوں کے نصیب میں لکھی رب کی طرف سے ایک عطا ہے۔ محبت کا سودا محنت یا لگن سے نہیں لیا جا سکتا۔ ہاں طلب اور دعا سے ملنا ممکن ہوتا ہے۔ محبت کا سوداگر ظاہری حسن و خوبصورتی سے متاثر ہو کر محبت کا سودا لینے کی خواہش کرتا ہے جبکہ عزت کا سوداگر اپنی ذات کی پہچان اور شناخت کے لیے عزت کا سودا لینے کی آرزو کرتا ہے۔ مرد کا من پسند سودا اَزل سے ہی عزت رہا ہے۔ دنیا میں زیادہ تر ایجادات اور ترقی قدرت نے مرد کے ہاتھوں سے ہی کروائی ہیں۔ عزت و غیرت کے نام پر حتیٰ کہ اکیسویں صدی کا مرد بھی کوئی سمجھوتا نہیں کرتا۔ کیوں کہ عزت مرد کا من پسند سودا ہے۔ یہ سودا مرد کو اس قدر عزیز ہے کہ اسے عورت کو دیتے ہوئے بھی یہ insecurity ہوتی ہے کہ کہیں اس کا اپنا عزت والا سودا کم نہ پڑ جائے۔
عورت کے لیے خاص کر آج کی پڑھی لکھی اور خود کمانے والی عورت کے لیے دونوں سودے ( محبت اور عزت) یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ دونوں سودے لینا چاہتی ہے۔ لیکن کنفیوز ضرور رہتی ہے کہ اسے کس پر کمپیرومائز کرنا چاہیے ؟ لیکن یہاں معاملہ یہ ہے کہ جب عورت محبت کا اپنا سودا مرد کے محبت کے سودے کے بدلے میں دیتی ہے تو خود بخود اس کی عزت والا سودا چلا جاتا ہے۔ اب مرد جس کو عزت والا سودا محبت کے ساتھ مفت میں مل رہا ہوتا ہے اور اس کا من پسند بھی ہے اس کی اپنی مرضی ہوتی ہے کہ وہ عورت کو عزت والا سودا بدلے میں دے یا نہ دے۔ جبکہ مرد محبت والا سودا دے دیتا ہے کیونکہ بدلے میں عورت سے محبت کا سودا ملے یا نہ ملے، عزت والا سودا تو اس کو مل ہی رہا ہوتا ہے۔ لیکن اگر مرد کو عورت کی طرف سے عزت والا سودا نہ ملے تو وہ محبت والا سودا بھی دینا چھوڑ دیتا ہے۔عورت کو بیک وقت اس کی خواہش کے مطابق دونوں سودے ملنا بلاشُبہ دنیاوی خوش قسمتی ہے مگر ایسی خوش قسمتی بخت والوں کے نصیب میں لکھی ہوتی ہے۔

ہر وہ عمل جو مرد کی عزت کے سودے کو کم کرتا ہے وہ مرد کےلیے ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔ جب بھی مرد کو اپنی عزت کا سودا ختم ہونے یا کم ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اپنے من پسند عزت کے سودے کی حفاظت کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے حتی کہ قتل بھی- یہی وجہ ہے کہ اگر عورت بطور بیوی مرد کی عزت نہ کرے تو بدلے میں تشدد اور مار پیٹ کا نشانہ بنتی ہے اور کہیں مرد غیرت کے نام پر بہن، بیوی یا بیٹی کا قتل تک کرلیتا ہے۔ اس خدشہ کے پیش نظر کہ کہیں مرد کی اپنی عزت کم نہ ہو جائے وہ عورت کی بطور ایک بیوی کے عزت نہیں کر پاتا-
عارضی دنیا میں اپنے مختصر قیام کے دوران ہر مرد اور عورت کو کسی بھی رشتے یا تعلق میں ہوتے ہوئے ایک دوسرے کی فطری خواہشات کا خیال کرتے ہوئے اعلیٰ ظرفی سے عزت اور محبت کے سودے اللّٰہ تعالٰی کے مقرر کردہ حدود و قیود کے مطابق ایک دوسرے کو دینے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ دنیا میں عزت و غیرت کے نام پر جان دینے اور لینے کے واقعات نہ ہوں اور انسان کو بطور میاں یا بیوی کے عزت یا محبت نہ ملنے کی وجہ سے مار پیٹ ، طلاق یا گھر چھوڑنے تک کے مشکل فیصلے کرنے کے کھٹن مراحل سے نہ گزرنا پڑے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں