داستان ”الف لیلہ و لیلہ“ کے حوالے سے چند معروضات جو اپنے ایک طویل مضمون سے ماخوذ ہیں:
1۔ الف لیلہ کی داستان”ایک ہزار ایک رات“1001راتوں پر مشتمل ضرور ہے مگر 1001داستانیں نہیں۔ اس میں لگ بھگ دو درجن سے زائد کہانیاں ہیں جن کو 1001راتوں میں مختلف وقفوں میں سنایا گیا۔
2۔ جب ہم الف لیلہ میں ایک کہانی میں دیگر کہانیاں پڑھتے ہیں تو گمان ہوتا ہے کہ فکشن میں بیانیے کی تہہ در تہہ (Embedded narrative) تکنیک ہے۔ جس میں ایک کہانی کسی دوسرے کہانی کو جنم دیتی ہے اورپہلی والی ختم یا غائب ہو جاتی ہے۔جوکہانی کے کہیں آخر میں جاکردوبارہ خوابیدہ حالت سے متحرک سطح پر دکھائی دینے لگتی ہے۔ اصل میں الف لیلہ کی مختلف کہانیاں اپنی حدود میں مکمل اور Framing technique میں بیان کی گئی ہیں۔ Framingیا قالب کی تکنیک میں بہت ساری کہانیاں ایک ساتھ بیان کر دی جاتی ہے۔مگر سب کہانیاں علیحدہ علیحدہ اور مکمل ہوتی ہیں۔یوں الف لیلہ اپنی کُل میں بھی ایک قالب میں ہے اور ایک ایک کہانی کے اندر بھی قالب(Frame)رکھتی ہے۔کہانی جب شروع ہوتی ہے تو کردار اپنی اپنی کہانی سنانے لگتے ہیں اور وہ بتاتے ہیں کہ وہ کہانی سے کس طرح منسلک ہوئے۔اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک کہانی میں بہت سی کہانیاں ایک دوسرے کو Overlapکر رہی ہیں اور کہانی Embedded تکنیک میں چلی گئی ہیں۔ حالاں کہ ایسا نہیں۔ کہانی جونہی شروع ہوتی ہے تو کردار کود پڑتے ہیں۔ قاری کو ان کرداروں کی وضاحت کے لیے اُن کی کہانی سنائی جاتی ہے۔ یوں کہانی میں ان کی شمولیت کی وجہ خود بخود معلوم ہو جاتی ہے۔غور کیا جائے تو ان کرداروں کی کہانیاں ایک قالب میں ایک ہی کہانی کی وضاحت کررہی ہوتی ہیں۔
3۔کہانی کا آغاز شہریار اور شہرزاد کے قصے سے ہوتا ہے۔ اس کہانی کو اگر الف لیلہ کی تکنیک کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔کیوں کہ الف لیلہ کی دیگر کہانیوں کا شہریار یا شہرزاد کے قصے سے کوئی بنیادی تعلق نہیں۔اصل میں یہ کہانی آغاز میں بالکل اسی طرح الف لیلہ کی دیگر کہانیوں کو پیش کرنے کا اہتمام کرتی ہے جس طرح جدید ناول میں ”مسودے“ کی تکنیک۔
4۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ شہرزاد کے کردار اور اس کی کہانی ہی کو تمام الف لیلہ سمجھ لیا گیا۔جو بھی الف لیلہ پر بات کرتا ہے شہرزاد کا قصہ سنانے لگتا ہے۔ فاطمہ مرنیسی نے ”الف لیلہ“ کی نئی تفہیم کی اور Scheherzad goes Westلکھی۔گویا وہ بھی شہرزاد کے کردارسے آگے نہ بڑھ پائی۔فاطمہ لکھتی ہیں: ”کہانیاں سنا کر ایک ایسے جرائم پیشہ شخص کے ذہن کو بدل دینا جو آپ کے قتل پر تُلا ہوا ہے ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔“ (ترجمہ: زاہدہ حنا) یقیناً یہ غیر معمولی ہے کیوں کہ اس میں مرد جینڈر کی طاقت کوتانیثی ذہانت کی طاقت سے تسلیم کیا گیا ہے۔(شہرزاد)عورت جب (بادشاہ شہریار)مرد کو قتل کرنے سے روکنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اصل میں وہ اس کی مردانہ (Muscular)طاقت کو تسلیم کرتی ہے۔ہر کہانی سنانے کے پیچھے اس کا خوف ہے کہ وہ ایک عورت ہے اور اس کے حرم سرا میں موجود ہے۔جنسی حملے کے علاوہ قتل کا خوف بھی اس کے بدن میں موجود ہے۔ ایسے میں اگر وہ اُس کے قتل کے ارادے سے خود کو محفوظ کر لیتی ہے تو کیا اس میں مرد جینڈر ہار جاتا ہے؟ نہیں بلکہ وہ معاف کردینے کی ”خداداد صلاحیت“ کا فراخی سے اظہار کرتا ہے۔ وہ قتل کیوں کرنا چاہتا ہے؟ اس لیے کہ وہ عورتوں کی بے وفائی سے عورت سے ناراض ہے۔کیا شہرزاد اُسے یقین دلا دیتی ہے کہ وہ باوفا ہے؟ باوفا ہونے سے مرد کی طاقت کو تسلیم کر لیا جاتا ہے۔بادشاہ شہریار کا کردار جس طرح کہانی کے آغازمیں پیش ہوا ہے اس سے اُس کے First Genderہونے پر کوئی کاری ضرب نہیں پڑتی بلکہ اس کی طاقت کو مزید تسلیم کرنے کی طرف اشارہ ہے۔
5۔الف لیلہ نے مسلم معاشروں میں کچھ ایسے بیانیوں کو رائج دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان میں ایک بادشاہت کا تصور بھی ہے۔ ہارون الرشید عباسی دور کا بادشاہ تھا جس کا عہد آٹھویں صدی عیسویں میں 786 ء سے لے کر 809ء تک کا ہے جو کل تقریباً 23سال بنتا ہے۔الف لیلہ کی تخلیق کا بہت سا حصہ اسی دور سے متعلق ہے۔سننے والے کو بھی ذہن نشین کروایاگیاہے کہ بادشاہ کو اس کہانی کا پسند آنا بہت ضروری تھا، ورنہ وہ قتل کروا سکتا تھا۔ یہ کہانی اچھی تھی تو شہرزاد بچتی رہی۔ان کاایک معیار بادشاہ کی پسندیدگی بھی ہے۔
الف لیلہ میں بادشاہ کی بادشاہت کو کسی قسم کا کوئی خطرہ یا چیلنج درپیش نہیں دکھایا جاتا۔ بلکہ اکثر کہانیاں دربار سے ہوکر جاتی ہیں۔ دوسرا بیانیہ عورت کے حوالے سے ہے جو انتہائی گراوٹ، جنسی تضحیک اورمرد اساس سماجی تصورات پر مشتمل ہے۔ عورت کو جنسی کھلونا اورمردکی ضرورت دکھایا جاتا ہے۔عورت کی سرشت ہی بے وفا ہے اور بے وفائی یہ ہے کہ وہ کسی اور سے تعلق قائم کر لیتی ہے۔ ایک اور بیانیہ جو مختلف کہانیوں میں گردش کرتا دکھائی دیتا ہے؛ وہ ہے دولت اور خوشحالی کا حصول۔ ایک ان دیکھی طاقت دولت کے در کھولنے کے لیے اترتی ہے اور خوشحالی کا دور شروع ہو جاتا ہے۔ عباسی دور کے مسلم معاشروں میں چوں کہ فتوحات کا دور دورا تھا۔ غیر عربی خطوں پر عربوں کی چڑھائی نے ایسے ہی دولت کو اکٹھا کرنے کا سامان مہیا کر رکھا تھا۔ اس لیے ان کہانیوں میں، دولت میں ایک خاص قسم کی کشش(Charming)دکھائی گئی ہے۔
6۔الف لیلہ کی کہانیوں میں پُراسراریت تخیل آمیزی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ لہٰذا ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پُر اسرایت کو ہر کہانی میں عمل دخل ہے۔پُر اسراریت کے لیے چند مقامات، کردار اور اشیا کو علامتوں کی حیثیت ہے۔ ان علامتوں پر تفصیل سے لکھا جانا چاہیے۔ان میں جزیرہ، چراغ،صندوق،محل،غار،سمندر،مافوق الفطرت پرندے اور جانور وغیرہ۔ایسے ہی ایک واقعہ ”قتل“ بھی بہت سی کہانی میں طرح طرح کی پُر اسرایت کو پیدا کرتا ہے۔ بلکہ کہانی کا مرکزی ہیولا قتل جیسی واردات سے شروع ہوتا ہے اور انجام قاتل کی دریافت سے۔جزیرہ اور غار ایسی جگہیں ہیں جہاں انسانی تخیل اکیلے سفر نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ پُراسرایت بھی جنم لیتی ہے۔ چراغ اور صندوق سے ایسی اشیا برآمد ہوتی ہیں جو پُراسرارکیفیات کو پیدا کرتی ہیں۔
7۔ الف لیلہ کی کہانیوں میں مختلف خطوں کی کہانیوں کا ماخود انداز موجود ہے مگر ان میں ہندوستانی، ایرانی یا غیر عربی ثقافتوں کو پیش نہیں کیا گیا۔ ماخوذ کہانیوں کو بھی خطہئ بغداد اور عباسی مسلم بادشاہت کی ثقافت پہنا دی جاتی ہے۔سنسکرت پنج تنتر کی حیوانات کی کہانیوں کا تتبع ضرور ملتا ہے لیکن اس سے ہندوستانی ثقافت کا کہیں کوئی اشارہ نہیں۔ ہندوستانی ثقافت مٹی سے جنم لینے والے زمینی مافوق الفطرت تصورات سے پُراسرایت کو اولیت دیتی ہے جب کہ عربی ثقافت میں آسمانی ماورائیت کا غلبہ ہے۔ اس لیے”الف لیلہ“ کسی طرح بھی ہندوستانی ثقافت کا اظہار نہیں۔
8۔الف لیلہ کو سب سے پہلے ایک فرانسیسی انتونیو گلاں (Antoine Galland)نے اٹھارہویں صدی کی پہلی دہائی میں فرانسیسی میں ترجمہ کیا۔اردو میں پہلا ترجمہ رتن ناتھ سرشار نے انیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں کیا۔ اس کی پہلی جلد سرشار نے جب کہ دوسری جلد مولوی اسماعیل نے ترجمہ کی۔ غالباً یہ پہلا ترجمہ فارسی یا عربی کی بجائے انگریزی سے ہوا۔لیکن بیسویں صدی میں الف لیلہ کے بہت سے اردو تراجم ہوئے جن میں عربی اور فارسی متن کو بنیاد بنایا گیا۔ سرشار کا ترجمہ اشعار سے مزین اور لکھنوی مزاج سے مملو ہے، جس سے اس کہانی کی چاشنی اور پُراسرایت میں رکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔
یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ مغرب کے پہلے فرانسیسی ترجمے کے پیچھے،مشرق کے حوالے سے ابھی تک کوئی مابعد نوآبادیاتی سازش تلاش نہیں کی گئی۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں