تم ان کے جھوٹے خُداؤں کو بُرا مت کہو/ڈاکٹر اظہر وحید

آمنہ بیٹی جب ہمارے پاس پہنچی تو دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا چاہتا تھا۔ ہم نے اسے ظہرانے کی دعوت دی۔ کہنے لگی: انکل! آج ہفتہ ہے، ہفتے کے دن یہاں قریب ہی ایک کلچرل انسٹیٹیوٹ ہے، وہاں سماع حال میں میں محفلِ سماع ہوتی ہے، ہفتے کے روز وہاں داخلہ فری ہوتا ہے۔ پہلے وہاں چلتے ہیں، کھانا بعد میں کھائیں گے۔ چنانچہ ہم اس کی ہمراہی بلکہ سربراہی میں مزارِ اقدس کی بیرونی دیوار کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے مزار کے صدر دروازے تک پہنچ گئے، یہاں ٹرام کا سٹیشن بھی ہے۔خانقاہ کے صدر دروازے کے عین سامنے شاہراہ کے اُس پار ایک قدیم قبرستان ہے، آمنہ نے بتایا کہ یہاں ایک معروف جرمن سکالر کی تربت ہے، وہ یہاں مولانا کے کلام پر ریسرچ کرنے آئے تھے، پھر یہیں کے ہو رہے۔ ہمارے علامہ اقبالؒ پر بھی ایک ریسرچ سکالر ڈاکٹر این میری شمل جرمنی سے آئی تھیں، اور پھر پاکستان اُن کا دوسرا گھر بن گیا۔ اُن کے نام پر لاہور میں گلبرگ کے علاقے ایک سڑک بھی موسوم ہے۔ مریدِ ہندی اقبالؒ پیرِ رومیؒ کی فکری تتبع میں تھے، ان پر کام کرنے والے تحقیقی مقالہ نگار بھی ایک دوسرے کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔ بہرطور مولانا اپنے جرمن پرستار پر مہربان ہوئے اور انہیں یہیں اپنے پاس، اپنی درگاہ کے ساتھ ہی ٹھہرا لیا۔ سمندر کسی کو خالی ہاتھ نہیں بھیجتا۔ سیپیوں کے طلبگاروں کو سیپیاں دیتا ہے اور گوہر کے طالبوں کو گوہرِ نایاب دیتا ہے … اور بے بہا دیتا ہے … اُس کے پاس موتیوں کا ایک لامحدود خزانہ ہے۔
ہم تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے کلچرل سینٹر پہنچے، مبادا ہمارے پہنچے سے پہلے ہی پروگرام شروع ہو جائے۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ لوگ خال خال ہیں۔ ایک وسیع و عریض چوکور شکل کی ایک عمارت ہے، اس کی شاندار اینٹرینس ہے، برآمدوں کے ساتھ ساتھ چند کیفے اور کچھ گفٹ شاپ ہیں، وہاں ایک لائبریری بھی نظر آئی۔ آمنہ نے استقبالیہ والوں سے سماع کا وقت دریافت کیا تو معلوم ہوا، کہ وہ پروگرام آج کل ہفتے کے دن نہیں ہوتا، بلکہ صرف رات کو ہوتا ہے اور اب فری نہیں ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق ہفتے کی سہ پہر ایک پروگرام فری کرایا جاتا تھا۔ بہر کیف جب ٹکٹ کے متعلق دریافت کیا تو ہماری جیب پر کافی گراں محسوس ہوا۔ بیٹا ساتھ ہوتا تو جھٹ سے اپنا کریڈٹ کارڈ پیش کرتا اور پلک جھپکتے ہی جھپٹ کر ٹکٹیں لے آتا۔ ہماری کفائت شعاری کی نصیحت کو باقی نصیحتوں کی طرح داخل دفتر کر دیتا۔ ہم یہ کہتے ہوئے باہر واپس ہو لیے کہ کل دیکھتے ہیں۔ وہاں گفٹ شاپس پر تحائف کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی تھیں۔ دراصل ہم تقریباً دس سال کے وقفے کے بعد یہاں وارد ہوئے ہیں۔ ترکی کا لیرا، لیرو لیر ہو چکا ہے۔ کجا وہ وقت کہ ایک لیرا ہمارے پاکستانی چھپن روپوں کے برابر تھا، اب نوبت بہ اینجا رسید کہ صرف چھ روپے میں ایک لیرا مل جاتا ہے۔
چند دن قبل استنبول میں صبیحہ گوچن ائیرپورٹ پر بھی ہمارے ساتھ کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا۔ یہاں سامان لینے کے لیے ٹرالی کے پیسے دینا ہوتے ہیں۔ پچھلی مرتبہ ایک لیرے کا سکہ ڈالنے سے سامان کی ٹرالی آہنی سنگلوں سے آزاد ہو جاتی۔ اس مرتبہ ایک آدمی کھڑا تھا، وہ ٹرالی دینے کے عوض کچھ پیسے وصول کر رہا تھا۔ ہم نے اسے پچاس لیرا کا نوٹ تھمایا اور ٹرالی لینے کے بعد اس سے ریزگاری واپس مانگی، اُس نے صرف پندرہ لیرا واپس کیے۔ ہم نے اسے بتایا، بلکہ اشاروں اشاروں میں سمجھایا کہ تمہیں پچاس لیرا دئیے ہیں۔ میرا خیال تھا، شاید اس سے نوٹ دیکھنے میں غلطی ہو گئی ہے۔ اب میں اسے انگریزی میں سمجھا رہا ہوں کہ اُس نے کم پیسے واپس کیے ہیں، میرا خیال تھا کہ اب مہنگائی ہو گئی ہے تو ایک لیرا کی جگہ پانچ لیرا کرایہ لیتے ہوں گے، اُدھر زبانِ یارِ من ترکی تھی، اور وہ بھی ترکی بہ ترکی۔ انگریزی اور ترکی کے کافی نامکمل مکالموں کے تبادلے کے بعد بالآخر اُس نے ایک چھوٹے سے الیکٹرونک بورڈ کی طرف اشارہ کیا، وہاں انگریزی میں ایک جملہ جگمگا رہا تھا: فی پھیرا پینتیس لیرا۔
پہلی ترکی یاترا میں بیٹے نے بہت اصرار کیا کہ استنبول میں ایک بہت بڑا سمندری میوزیم ہے، جہاں آبی حیات کے دلفریب نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں، دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ہم نے اس سے ٹکٹ کی قیمت پوچھی، پھر اس کے سامنے ہی اسے تین سے ضرب دی، یعنی ایک میں، ایک تم اور ایک تمہاری ماما، پھر چھپن کے عدد سے ضرب دی، تاکہ پاک روپے میں چانن ہو جائے … اور پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ ہم نے کہا: بھئی ہم سمندری مخلوق کی اقسام یہاں لائیو دیکھنے کی بجائے، نیشنل جیو گرافک کی کسی ڈاکیومنٹری میں دیکھ لیں گے۔ اس سے ایک دن پہلے بھی بیٹے کے ساتھ کچھ ایسا ہی سلوک آیا صوفیہ کے باہر ہوا تھا۔ یہاں اندر داخل ہونے سے انکار میں رقم سے زیادہ ایک اصول کارفرما تھا۔ آیا صوفیہ رومن دَور میں ایک بہت بڑا چرچ تھا، اور اس کی حیثیت وہی تھی، جو آج کل ویٹیکن سٹی کی ہے۔ عیسائی مذہب کا ایک سرکاری مرکز تھا۔ سلطان محمد فاتح نے استنبول فتح کیا تو اسے مسجد بنا لیا گیا۔ کہتے ہیں کہ سلطان محمد نے راہبوں کو معاوضہ دے کر یہ چرچ خریدا تھا … لیکن فاتح اور مفتوح کے درمیان تجارت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اتاترک کے دور میں اسے میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا۔ اب اردوان حکومت نے اسے دوبارہ مسجد کے لیے کھولا ہے۔ اسلام ایک دینِ فطرت ہے۔ دینِ فطرت ہمیں دوسرے مذاہب کی عبادت گاہوں کا احترام سکھاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہم حالتِ جنگ میں بھی ان کی عبادت گاہوں کا پامال نہیں کر سکتے۔ اس سے یہ استنباط کیا جا سکتا ہے کہ انہیں مساجد میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔ مسجد کے لیے علیحدہ جگہ لینی چاہیے۔ اہلِ مذہب کا اپنی عبادت گاہوں کے ساتھ ایک جذباتی اور روحانی تعلق ہوتا ہے۔ روحانیت کو خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ روحانیت وحدانیت ہے، یہ اشتراک اور اتصال کو نہیں مانتی۔ ہم بھول گئے کہ سپین میں مسجدِ قرطبہ کو جب کلیسا بنایا گیا تھا تو ہمیں کتنی روحانی تکلیف ہوئی تھی۔ اس کے جواب میں آیا صوفیہ کو مسجد نہیں بنانا چاہیے تھا۔ چاہیے تھا کہ ہم انہیں کہتے: ہم تمہارے گرجوں کو مساجد نہیں بنائیں گے۔ اگر اہلِ اسلام کی طرف سے کسی کا دل ہی زخمی ہو گیا تو اس کے دل میں اسلام کی کیا گنجائش باقی رہے گی۔ آج کل برطانیہ میں یہ رجحان عروج پر ہے۔ وہاں چرچ برائے فروخت ہوتے ہیں اور مسلمان جوش سے کام لیتے ہوئے، خرید لیتے ہیں اور اسے مسجد میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہ رجحان ہرگز دانشمندانہ نہیں۔ اگرچہ اہلِ کلیسا اپنی مرضی سے اپنے کلیساؤں کو مسلمانوں کے ہاتھ فروخت کر رہے ہیں، لیکن کل کلاں، اگلے سو دو سو برس میں وہاں کوئی انتہا پسند گروہ پیدا ہو جاتا ہے تو وہ ہجوم اپنے کلیساؤں کو واپس لینے کی تحریک شروع کر دے گا۔ ہجوم جذبات کی لہروں پر سوار ہوتا ہے … تعصب اس کا تغذیہ ہے اور نفرت اُس کا ایندھن! فاتحین کی نفسیات اور ہوتی ہے … انہیں مالِ غنیمت اور کشور کشائی سے غرض ہوتی ہے۔ مذہب کا داعی بن کر اُن کا مدعا عوام میں مقولیت حاصل کرنا ہوتا ہے۔
غیر مذہب کی عبادت گاہوں کو مسجدوں میں تبدیل کرنے کی ممانعت کے باب میں ہمارے پاس ہمارے اسلاف کا طرز عمل ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضرت عمرِ فاروقؓ کے دَور میں بیت المقدس فتح ہوا، آپؓ یروشلم تشریف لے گئے تو وہاں جب نماز کا وقت ہوا تو پادریوں نے کہا کہ آپؓ یہاں ہمارے گرجے میں نماز ادا کر لیں۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اُن کی یہ پیش کش قبول نہیں کی، بلکہ یہ کہتے ہوئے گرجے سے باہر نکل آئے کہ آج میں نے یہاں نماز پڑھ لی تو بعد میں آنے والے اسے مسجد بنا لیں گے۔ قرآن کریم میں سورۃ الانعام کی آیت 108 سے بھی اِس کی تائید ملتی ہے، جہاں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم اُن کے جھوٹے خداؤں کو بُرا مت کہو، وہ تمہارے سچے رب کو بُرا کہیں گے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply