آج ایک خبر دیکھ کر مجھے اپنا گھر یاد آگیا ۔ خبر مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال کی ہے ۔ تین نوجوانوں فرحان ، سعد اور ساحل کو پہلے تو ’ لو جہاد ‘ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ، پھر ان کے گھروں پر بلڈوزر چڑھا دیا گیا ۔ تینوں نوجوانوں کے گھر بھوپال کے ارجن نگر علاقہ میں تھے ، ان پر بلڈوزر کارروائی کرنے سے پہلے سارے علاقہ کو پولیس نے گھیر لیا تھا ۔ اس کارروائی پر سوال اٹھ رہے ہیں ، لیکن سوال پہلے بھی اٹھتے رہے ہیں ، نتیجہ کوئی برآمد نہیں ہوا ہے ۔ والدین کا سوال ہے کہ ’ لڑکیوں نے ہمارے بچوں کا نام نہیں لیا اس کے باوجود ہمارے گھر منہدم کر دیے گیے ، اب ہم کہاں جائیں ؟ ‘ کیا اس سوال کا جواب دینے والا کوئی ہے ؟ کیا جن گھروں پر بلڈوزر چلایا گیا ہے ، ان میں رہنے والے والدین کا ، اور دیگر اہلِ خانہ کا کوئی جُرم تھا کہ انہیں گھر سے بے گھر کر دیا گیا ہے ؟ سپریم کورٹ تک نے یہ کہہ دیا ہے کہ کسی کے بھی گھر کو ، چاہے وہ کوئی قصوروار ہی کیوں نہ ہو ، منہدم نہیں کیا جا سکتا ۔ لیکن مسلمانوں کے گھروں کو معمولی معمولی سی باتوں پر ڈھا دیا جاتا ہے ، بلڈوزر چڑھا دیا جاتا ہے ۔ اور حکام ، سیاست دان انتہائی بے شرمی کے ساتھ ایسی کارروائیوں کو جائز ٹھہراتے ہیں ، اس لیے کہ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف شدید ترین عصبیت اور نفرت بھری ہوتی ہے ۔ میں نے پہلے کبھی لکھا تھا ، آج پھر دوہرائے دیتا ہوں کہ کوئی کمرہ میرے پاس ایسا نہیں ہے جسے میں اپنا مکمل گھر کہہ سکوں ۔ والدہ مرحومہ نے ایک گھر بڑی مشکل سے ، پیسے جوڑ جوڑ کر بنایا ، وہ بھی وطن میں ہے ، ممبئی میں میرے کسی کام نہیں آسکتا ، لیکن اس میں رہوں نہ رہوں ، اسے کسی حد تک اپنا گھر کہہ سکتا ہوں ۔ اس سے ایک لگاؤ ہے۔ یہ لگاؤ اس لیے ہے کہ اس کے بنانے میں جو مشکلات پیش آئیں ، وہ دیکھی اور جھیلی ہوئی ہیں ۔ ایک دفعہ خبر آئی کہ گھر کے کسی کمرے میں آگ لگ گئی ہے، میں تڑپ اُٹھا تھا ۔ ایک دفعہ پتا چلا چور گھر میں گھس گیے ہیں ، میں پریشان ہو اٹھا ۔ اور یہ معاملہ صرف میرا نہیں ہے، اس ملک میں نہ جانے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے تنکے جوڑ جوڑ کر اپنے آشیانے بنائے ہیں ، تکلیفیں ، مشکلات اور پریشانیاں جھیلی ہیں۔ ان لوگوں میں مدھیہ پردیش فرحان ، سعد اور ساحل بھی ہیں ، اور کھرگون کے وہ مسلمان بھی ہیں جن کے گھروں کو بلڈوزر سے ڈھایا گیا ہے ، اور گجرات و اترپردیش کے وہ مسلمان بھی ہیں جن کے گھر وں پر بڑی ہی بے حسی کے ساتھ بلڈوزر چڑھادیے گیے ہیں ۔ جنہوں نے بلڈوزر چلوائے، وہ آج کے دور کے حکمراں ہیں ۔ یوگی آدتیہ ناتھ، وزیر اعظم نریندر مودی و مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کی ساری زمین ان کی ملکیت ہے اور وہ جب چاہیں جیسے چاہیں ، ویسے اس زمین کا استعمال کرسکتے ہیں، اور اس زمین پر رہنے والے غریبوں، مجبوروں و بے کسوں کی زندگیوں سےکھیل سکتے ہیں۔ یہ کھیل ہی تو ہے، انتہائی ظالمانہ اور بے رحمانہ کھیل کہ بسے بسائے گھروں پر بلڈوزر چلوادئے جائیں۔ بلڈوزر چلانے کے لیے جھوٹ بولا جارہا ہے اور جھوٹ بولتے ہوئے انہیں کوئی شرم نہیں آتی۔ بھلا بغیر کسی نوٹس کے، کسی تحقیق اور تفتیش کے کیسے کسی کے گھر منہدم کروائے جاسکتے ہیں ؟ حکمرانوں کا جواب ہوتا ہے کہ یہ فسادی ہیں ، لو جہاد کے مجرم ہیں ۔ جان لیں کہ آئین نے اس ملک میں فسادیوں اور قاتلوں تک کے گھروں کو منہدم کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اجازت ہوتی تو گاندھی کے قاتل گوڈسے کا گھر پہلے ڈھایا جاتا ۔ گجرات میں ۲۰۰۲ء کے مسلم کش فسادات کے مجرموں کے مکانوں پر پہلے بلڈوزر چلائے جاتے۔ کسی کے بھی مکان کو ڈھانا نہ تو قانوناً درست ہے اور نہ ہی ایسا کسی بھی حکومت نے کیا ہے ۔ یہ جرم ہے اور آج اس جرم میں سارے ہندوستان کی فاشسٹ طاقتیں ملوث ہیں ۔ مسلمانوں کے گھر پہلے فسادی لوٹتے ، توڑتے اور تباہ وبرباد کرتے تھے اب یہ کام بی جے پی حکومتیں کرنے لگی ہیں ۔ ایم پی کے سابق وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کا ایک بیان یاد آ گیا کہ جو گھر تباہ ہوئے ہیں حکومت ان کے بنوانے میں تعاون کرے گی اور اس کے پیسے فسادیوں سے وصولے گی ۔ یہ مکانات جنہیں بنوانے کی بات کی گئی ہے ، مسلمانوں کے نہیں اُن کے ہیں جو اصلی فسادی ہیں۔ اور پیسے جن سے وصولےجائیں گے وہ مسلمان ہیں یعنی مظلوم ۔ گویا کہ اب اس ملک میں لفظوں کے معنی تک تبدیل کردیے گیے ہیں، مسلمان کا مطلب فسادی ہو گیا ہے اور فسادی کا مطلب مظلوم ہوگیا ہے !
بشکریہ فیس بک وال
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں