ادبی فائل/دوزخی(پہلی قسط،ب)۔۔۔مشرف عالم ذوقی

ذہن کے پردے پر جھلملاتی ہوئی ہزاروں کہانیاں روشن ہیں۔ میں انہیں لکھنا بھی چاہتا ہوں مگر دل بوجھل اور الفاظ گم۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے۔۔۔۔ تم مجھے نہیں لکھ پاؤ گے ذوقی۔۔۔۔ اورمیں محسوس کرتا ہوں، راجندر یادو کی شخصیت کو الفاظ میں قید کرنا اس لیے بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ خود کو کبھی کسی زنجیر، کسی قید میں نہیں دیکھ سکے۔۔وہ زندگی میں ہر طرح کی زنجیر اور قیود سے آزاد تھے۔ وہ سچ بولتے تھے اور یہ سچ سماج اور معاشرے کے لیے ایک چیلنج بن جاتا تھا۔ انہوں نے عورتوں کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی تو ہنس کے صفحات استری و مرش، کے نام پر جگمگااٹھے۔ انہوں نے دلت و مرش کے نام پر دلت لیکھکوں کی ٹیم بنائی۔ ہنس کی طرف سے زندگی بھر وہ مسلمانوں کی جنگ لڑتے رہے۔ اور مسلمانوں پر ہنس کا ایک خصوصی شمارہ بھی شائع کیا۔ اس شمارہ میں اصغر وجاہت کے ساتھ میں بھی شامل تھا۔ وہ فرقہ پرستی اور فاشزم کے خلاف تھے۔ ان کے کئی چہرے نہیں تھے، ان کا ایک ہی چہرہ تھا، جو بیباک بھی تھا اور سچ بولنے سے گھبرا تا نہیں تھا۔ لیکن ان سب کے باوجود وہ تنہا تھے۔ ہنس کی اشاعت کے بعد وہ زیادہ تر میور وہار، ہندستان ٹائمز  اپارٹمنٹ کے ایک فلیٹ میں رہے۔ دوبرس قبل ان کی بیٹی رچنا نے انہیں ایک فلیٹ خرید کر تحفہ میں دیا تھا۔ یہ بھی ایک بیٹی کی محبت تھی، اس بیٹی کی جو اپنے باپ کو اپنا آئیڈیل سمجھتی تھی۔
میوروہار کا ہندستان ٹائمس اپارٹمنٹ۔۔ یہاں میں ہزاروں بار یادو جی سے ملا ہوں، چلتے چلتے۔۔ میں وہ چہرہ دکھانا چاہتا ہوں، وہ چہرہ جو ایک لیجنڈ ، ایک عہد ساز شخصیت کاتھا، لیکن وہ چہرہ کتنا تنہا تھا۔۔۔۔ کتنا اکیلا۔۔۔۔ ماضی کی ریل میری آنکھوں کے آگے دوڑ رہی ہے۔

کالج کے دنوں میں عصت چغتائی کا تحریر کردہ ایک خاکہ پڑھا تھا۔ دوزخی۔ عصمت نے یہ خاکہ اپنے بھائی کی یاد میں لکھا تھا۔ میرے لیے یقین کرنا مشکل تھا۔ کیا سچ مچ دوزخی اتنے خوش قسمت ہوتے ہیں؟۔۔ اتنی بڑی تقدیر والے کہ انہیں عصمت جیسی بہن مل جاتی ہے۔۔ دلی آنے سے قبل سوچتا تھا، یہ دوزخی کیسے ہوتے ہوں گے۔۔۔۔ کیادِلی کی بھیڑ بھاڑ والی زندگی میں ایسے دوزخیوں سے ملاقات ممکن ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ دلی آنے کے بعد سب سے پہلے جس شخصیت سے ملنے کی آرزو تھی، وہ تھے راجندر یادو۔۔ آرہ جیسے چھوٹے سے شہر میں ان لوگوں کو لے کر کتنی کتنی باتیں ہوا کرتی تھیں، کملیشور، یشپال، اگے، موہن راکیش، نامور جی، اور راجندر یادو۔۔راجندر یادو کا نام آتے ہی احترام کے ساتھ ایک سے بڑھ ایک واقعات کے دروازے اس لیے بھی کھل جاتے کہ ان کی شخصیت شروع سے ہی ہمہ جہت اور متنازعہ رہی تھی۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ نیند اورخواب میں بھی یہ چہرہ طلسم ہوشربا کی کہانیوں کی طرح مجھے چونکا دیا کرتا تھا۔ اور اس نام کے ساتھ چپکے سے ایک نام جڑ جاتا۔۔۔۔ دوزخی کہیں کا۔۔۔

tripako tours pakistan

دِلی آنے کے بعد ماہنامہ ہنس نکلنے کے ایک سال بعد یادو جی سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ یاد ہے تب بھی ان کو گھیرے ہوئے کافی لوگ بیٹھے تھے۔ میں ہندی کے لیے ابھی تک اجنبی تھا۔ لیکن اردو میں میری شناخت بن چکی تھی۔ پہلی ملاقات میں کچھ رسمی مکالمہ کے علاوہ میں زیادہ تر خاموش ہی رہا۔ میری آنکھیں بغور ان کے چہرے کا جائزہ لے رہی تھیں۔ گورا چٹا، رعب دار کافی بڑا چہرہ۔ چوڑی، چمکتی پیشانی سے ذہانت کی کرنیں نکلتی ہوئی۔۔آنکھوں پر کالا چشمہ۔۔ باتوں میں بیباکی اور ذہانت۔ چہرے پر جلال۔ درمیان میں چبھتی ہوئی باتیں اور ٹھہاکوں پر ٹھہاکا۔یہاں اجنبیت کا نام ونشان تک نہ تھا۔
پہلی ملاقات کا جادو میرے سر چڑھ کر بول رہاتھا۔
یہ آدمی۔۔۔۔

یہ آدمی دوزخی نہیں ہو سکتا۔ ایسی چمک، ایسی ذہانت تو مجھے کارل مارکس کے چہرے پر بھی نظر نہیں آئی تھی۔ وہاں تو ’فلسفی داڑھیوں‘ کا ایک جنگل آباد تھا، اور یہاں سفید چمکتے چہرے میں مجھے مردولا گرگ کے بے شمار چتکوبرے دکھائی دے رہے تھے۔ پتہ نہیں کیوں؟

آہستہ آہستہ ہنس اور یادو جی سے ملاقاتوں کے سلسلے طویل ہونے لگے۔ مجھے کبھی کبھی وہ دوزخی نہیں، جنتی دکھائی دیتے تھے۔جنت کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں حوریں ملیں گی، یعنی انتہائی حسین عورتیں۔ لیکن ہمارے یادو جی کی جنت کا انداز ہی مختلف تھا، وہ عورتوں کے پاس نہیں جاتے، مینکائیں خود ان کے پاس آتی تھیں۔ وہ شری کرشن کی مرلی کی طرح اپنا بسنتی راگ چھیڑتے اور مدھوبن کی رادھاﺅں میں ہلچل مچ جاتی۔۔ استری ومرش(نسائی ادب) شروع سے ہی ان کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔ عورت یعنی اس کائنات کی سب سے حسین مخلوق۔ وہ دوسرے تخلیق کاروں یا نقادوں کی طرح ترچھی نظر سے چوری چوری عورتوں کو دیکھنے کے قائل نہیں تھے۔ وہ عورت میں زندگی کی حقیقت کو دریافت کرنے کی کوشش کرتے تھے اور اس کے لیے انہیں سارتر یا سیمون د بووار کی ضرورت نہیں تھی۔ چاہے منوجی کا تنازعہ رہا ہو یا سولہ سال کی لڑکی کو بھابھی کہنے کامعاملہ۔ یا پھر صرف لڑکی ہونے کے نام پر تخلیقات شائع کرنے کا الزام ہو۔۔ میتری پشپا کو ادبی دنیا میں چمکانے کا الزام ہو یا پھر اپنی کہانی ’حاصل‘ میں دفتر میں آئی ہوئی لڑکی سے فلسفہ ؟ عشق تک رسائی کا الزام ہو۔ وہ اےک ایسی شخصیت تھے جو کبھی نہیں گھبرائے۔ جو اپنی ذلت، بدنامی اور رسوائی کو بھی اپنے ’ہونے، سونے اور کھونے‘ کا ایک عام راستہ مانتے تھے۔ اس معاملے میں وہ ایک چھوٹے سے بچے کی طرح تھے۔ ہم ہیں، اس لیے یہ ہوگا۔ بلے سے بال لگے گی تو کھڑکی کا شیشہ ٹوٹے گا۔مرد ہیں تو عورت میں ہی دلچسپی ہوگی۔شرافت کے بیجا ڈھونگ سے انہیں نفرت تھی۔ اور تنازعات میں گھرے رہنا ان کی سب سے بڑی مضبوطی۔ ان کے چہرے کی مسکراہٹ کا راز۔

اصل میں کبھی کبھی خود مجھے ان سے جلن ہوتی تھی۔ وہ ہر بار مجھے جوانوں سے بڑھ کر جوان لگتے ۔ چہرے پر تھکان نام کو نہیں۔ شاید اس لیے وہ الفاظ کے تیر پر تیر چھوڑے جاتے ۔ اور الزامات کی پرواہ نہیں کرتے۔ میں نے انہیں ایک ایسے جہادی کی شکل میں دیکھااور محسوس کیا ہے جسے پرواہ نہیں ہے کہ سامنے کون ہے۔ ہنومان جی کو پہلا دہشت گرد بنانے کا معاملہ ہو یا اردو رسم الخط بدلنے کا معاملہ ہو۔ وہ اپنے سخت رویے سے کبھی پریشان نہیں ہوتے تھے۔
ہزاروں واقعات کی شمعیں روشن ہیں۔ ایک ملاقات میں، میں نے اپنا ارادہ ظاہر کیا۔ میں آپ پر لکھنا چاہتا ہوں۔‘
تیز ٹھہاکا گونجا— ’تم مجھ پر نہیں لکھ سکتے ذوقی‘
پوچھا۔ ’کیوں؟‘
جواب ملا۔ ’کتنا جانتے ہو مجھے؟ جتنا جانتے ہو وہ مجھے جاننے کا ایک حصہ بھی نہیں ہے۔

میں چاہتا تو اس پر بہت کچھ بول سکتا تھا۔ لیکن سچائی یہی تھی کہ میں کتنا جانتا تھا۔ تنازعہ سے الگ کا بھی ایک چہرہ رہا ہوگا۔ میں اس چہرے کو کتنا پہچانتا تھا۔ اپنے پروگرام ’کتابوں کے رنگ‘ کے پہلے ہی اے پی سوڈ میں منو جی کی کتاب ’نایک، کھلنایک، ودوشک‘ پر بولتے ہوئے وہ زور سے ہنس پڑے تھے۔ یہ تینوں میں ہی ہوں۔ نایک(ہیرو) بھی، کھلنایک(ولین) اور ودوشک (مسخرہ) بھی۔ پہلے میں نایک تھا۔ ایک سوپن نایک(خیالی ہیرو) ۔ پھر کھلنایک بنا اور پھر ودوشک ۔ یہ زمانہ تو ودوشک کا ہی ہے۔ آپ کو بار بار الگ الگ ڈھونگ بھرنا ہے۔ گھر سے باہر اور سیاست سے سماج تک۔ جو جتنا بڑا ودوشک ہوگا وہ اتنا ہی بڑا نایک ہوگا۔ عام زندگی سے سیاست تک ان ودوشکوں کی ہی حکومت ہے۔ مگر ہوتا کیا ہے۔ ادب کے ودوشک اگر سوانگ بھرتے ہیں تو صورت حال مشکل ہو جاتی ہے۔ مشکلیں یہاں بھی پیدا ہوئیں۔ ہندی ادب میں ہونے والا کوئی بھی حادثہ سیدھے یادو جی سے وابستہ کردیا جاتا۔ استری ومرش، ذمہ دار یادو جی، دلت ومرش، ذمہ دار یادو جی،حاشیے پر مسلمان،ذمہ دار یادو جی۔ ہندی ادب زوال کی طرف کیوں؟ یادو جی سے پوچھئے جیسے ادب پرقدرتی آفات تک سب میں یادو جی کا ہی ہاتھ ہے۔ زلزلہ کیوں ہوا۔ بارش کیوں ہوئی، فساد کی وجہ کیا ہے؟ کون سی حکومت بنے گی۔ سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا،سماج کدھر جائے گا۔یادو جی کی زندگی تک جیسے ہر واقعہ یا حادثہ کے پیچھے صرف اور صرف یادو جی تھے۔
برسوں کی ان ملاقاتوں میں کتنی ہی ایسی باتیں ہیں جنہیں ابھی کھولنا نہیں چاہتا۔ ابھی لکھنا نہیں چاہتا۔ لیکن لکھنے کا فیصلہ کر چکا ہوں۔ ہاں۔ اگر کبھی کبھی کوئی ایک بات چپکے سے ڈس جاتی ہے تو بس وہی۔

’ذوقی تم مجھ پر نہیں لکھ سکتے۔ کتنا جانتے ہو مجھے؟‘
لیکن شاید میں نے دوسروں سے کہیں زیادہ یادو جی کے اندر کے آدمی کو پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ آدمی بے نیاز ہونے کا دعویٰ کرتا ہے مگر اندر سے بے حد جذباتی ہے۔ مارخیز کے ناول ’اداسی کے سو سال‘ کی طرح میں اس لمحے کو فراموش نہیں کرسکتا،جہاں میں نے راجندر یادو کی شخصیت کا وہ پہلو دیکھا تھا جسے بیان نہ کروں تو شاید یہ مضمون ہی مکمل نہ ہو— ایک دفعہ شاید پہلی بار یادو جی سے ملنے ان کے ہندستان ٹائمس اپارٹمنٹ گیا تھا۔ ڈائننگ ٹیبل کی ایک ترچھی کرسی پر صبح نو بجے بریڈ میں آملیٹ لگاتے ہوئے وہ موجود تھے۔ یکایک مجھے روسی ناول نگارگوگول کے ’ڈیڈ سول‘ کی یاد آگئی۔ گھپ اندھیرا، صبح کے آنچل میں سمٹی ہوئی ویرانی۔ سو سال کی اداسی اور ویرانی سمٹ کر صرف ایک چہرے میں مقید ہوگئی تھی۔
میں نے ناشتہ میں ساتھ دیا۔ پھر آواز آئی۔
’اب یہاں کوئی نہیں ہوگا۔ پانی دینے والا بھی نہیں۔ اب میں ایک گھنٹہ آرام کرونگا۔ تمہارا کیا پروگرام ہے ذوقی؟‘
میں نے آہستہ سے کہا۔ ’میں آپ کا انتظار کرونگا۔‘

یہ میرے لیے زندگی کے ناقابل فراموش لمحات میں سے ایک لمحہ تھا۔ بچپن میں ایک کتاب پڑھی تھی ’طلسم ہوشربا‘، قہقہہ لگانے والی آواز کی طرف دیکھنے والی شخصیت پتھر کی ہوجاتی ہے۔ لیکن یہاں ہنس کون رہا تھا،؟ یہاں تو تین کمروں کے فلیٹ کے ایک اداس بستر پرایک شخص سو رہا تھا۔ایک عام انسان نہیں، ایک ایسا شخص جس کے ہر لفظ سے تنازعہ پھوٹ پڑتا تھا۔ جو اپنے عہد کاعظیم کھلنایک(ولن) تھا۔ وہ ایک گھنٹہ کے لیے سو گیا تھا۔ بے فکری کی نیند۔ مجھے یکایک ہی ان کے لفظ ایک بار پھر سے یاد آئے۔ لیکن شاید، یہاں اس ایک لمحہ میں مَیں نے تنازعات کا اصلی چہرہ دیکھ لیا تھا۔ یہ چہرہ کسی کھلنایک کا نہیں تھا۔ ایک معصوم اور بے حد کمزور بچے کا تھا۔ جسے اس کے اپنے گھروالے چھوڑ کر کچھ دیر کے لیے باہر چلے گئے ہوں۔
میں نے اس ایک لمحے کو اپنے دل کے فریم میں فریز کرلیا ہے۔ یقیناً  وہ میری بات پر ابھی بھی ہنسیں گے۔
’تو سونے سے کیا ہوتا ہے‘

اپنی منطق پر ٹھہاکا لگائیں گے۔ لیکن کاش! میں اپنے احساس اور جذبات سے اس ایک لمحے کی تصویر بنا سکتا۔ شاید اسی اداسی کو، وہ باہر کے ہنگاموں اور تنازعات سے دور کرتے تھے۔ ایسا شخص جنت کی اداسی کہاں تسلیم کرے گا۔ اسے تو ’باہر‘ کا جہنم چاہیے۔
دوزخی کہیں کا۔
ان کا سچ یہی تھا کہ وہ ساری زندگی تنہا رہے۔ اور اسی لیے اپنی ذات میں ایک بڑی دنیا کو آباد کررکھا تھا۔ اس دنیا میں ہنگامے تھے، الزامات تھے، تنازعات تھے، مگر ان سے الگ اداسی کا ایک پیکر تھا۔ اور وہ تا عمر اسی پیکر کا حصہ رہے۔
جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *