سابق وارلارڈ احمد شاہ مسعود کی 24 ویں برسی کے موقعہ پر ان کے بیٹے احمد مسعود نے کہا ہے ” ہم آزادی کی خاطر لڑنے پہ مجبور ہیں ، بلاشبہ کوئی جبر ہمیشہ نہیں رہتا ، قومی مزاحمتی محاذ طالبان کا تختہ الٹنے تک جنگ جاری رکھے گا ۔ 1990 کی دہائی میں کابل پر افغان طالبان کے قبضہ کے خلاف مسلح مزاحمت کرنے والے شمالی اتحاد کے روح رواں کمانڈر احمد شاہ مسعود کو القاعدہ نے 9 ستمبر 2001 کو کابل پہ امریکی حملہ سے کچھ دن قبل خودکش مشن میں قتل کرا کے افغان معاشرے میں ایسی دراڑ پیدا کر دی تھی جسے پُر کرنا ممکن نہیں ہو گا ۔
حیرت انگیز طور پر یہ متنوع خطہ کم و بیش ڈیڑھ سو سال پہ محیط داخلی انتشار، ہولناک خانہ جنگیوں اور بڑی طاقتوں کے طویل تسلط جیسے تلخ تجربات سے گزرنے کے باوجود ایک بار پھر ایسی مہیب خانہ جنگی کے دہانے پہ آ کھڑا ہوا ہے جو بلآخر مملکت کی تقسیم پہ منتج ہو گی ۔ رموز حکمرانی سے ناواقف طالبان کی امارت اسلامی نے ملک کی جغرافیائی حدود پہ حکومتی عملداری اور انتظامی نظم و نسق قائم کرکے معاشرے کو سیاسی ،اقتصادی اور سماجی طور پہ ریگولیٹ کرنے کی بجائے مملکت کو بدستور مسلح جتھوں کے سپرد رکھنے کی روش اپنا کر بدقسمت افغانوں کے لئے منظم قوم اور افغانستان کو نارمل ملک بنانے کا نادر موقعہ گنواء دیا ، یہ ایسی حکومت ہے جو حکم تو دیتی ہے لیکن شہریوں کی مدد نہیں کرتی ۔ پچھلے چار سالوں کے دوران مزار شریف سے لیکر کابل اور واخان سے لیکر قندھار تک ملک کے طول و ارض میں مسلح گروہوں کی فرماروائی افغان معاشروں کے علاوہ پڑوسی ممالک کے لئے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہے۔
اس وقت افغانستان میں داعش خراسان ، القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے علاوہ طالبان مخالف قومی مزاحمتی فرنٹ(NRF) کی سرگرمیاں محل نظر ہیں ۔ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے علاوہ جماعتِ انصاراللہ جیسی تاجک شدت پسند تنظیمیں ، خوست ، کُنڑ، ننگرہار، پکتیکا اور تخار جیسے شہروں میں عالمی دہشتگردی کے تربیتی مراکز قائم کرکے پڑوسی ممالک کی قومی سلامتی کے لئے خطرات پیدا کر رہی ہیں ۔ شامی جنگ سے شہرت پانے والی ازبک جنگووں کی جہادی تنظیم ”امام بخاری ” کے علاوہ جنوبی ترکستان موومنٹ سمیت ترک نسل کے کئی مسلح گروہ شمالی افغانستان سے طالبان کی حکمرانی کے خلاف نسلی اور علاقائی چیلنج کے طور پر نمودار ہوتے یکھائی دیتے ہیں ، القاعدہ اور داعش جیسی عالمگیر دہشتگرد تنظیموں کی افغان سرزمین پہ موجودگی جنوبی ایشیا میں امریکی و اسرائیلی قدموں کے نشانات کو ظاہر کرتی ہیں ۔ اسی طرح بلوچستان لبریشن فرنٹ ، یہ پاکستان اور ایران کی بلوچ علاقوں میں سرگرم عمل علیحدگی پسندوں کی فعال تنظیم ہونے کے باوجود جنوبی افغانستان کے شہر ہلمند، قندہار اور نیمروز میں پناہ گاہیں رکھتی ہے ۔ افغان سرحد کے اندر ملیشیائیوں کے کئی چھوٹے گروہ ، سرکش قبائلی دھڑے یا تحفظِ علاقہ کی مقامی تحریکیں بھی روزافزوں ہیں جو طالبان حکومت سے نجات اور مقامی نظم و نسق یا برادری کی خود مختاری کے لئے لڑ رہی ہیں ۔ ملک کے شمال مغربی صوبوں جیسے بنجشیر،تخار وغیرہ میں افغانستان کی فوج اور پولیس کے سابق اہلکاروں پہ مشتمل جس قسم کے جتھے طالبان کے حتمی غلبہ کے خلاف مزاحمت پہ کمربستہ ہیں ، ان میں سب سے وسیع نیٹ ورک اور عالمی شناخت رکھنے والا الائنس، قومی مزاحمتی فرنٹ ، ہے جو طالبان کے تسلط سے آزادی، جمہوریت ، نسلی برابری، مذہبی آزادیوں اور خواتین کے حقوق کی وابستگی رکھتا ہے ۔ این آر ایف کے ایسے ہزاروں مسلح جنگجو تمام صوبوں میں موجود ہیں ، جو ماضی قریب میں افغان قومی سلامتی فورسز اور پولیس فورس میں تربیت حاصل کرتے رہے ہیں ، یہی منظم جتھے شمال اور شمال مشرقی علاقوں میں طالبان فورسیز پر حملوں میں مشغول ہیں ، جغرافیائی اعتبار سے مزاحمتی تحریکوں کو دفاعی فوائد پہنچانے والی وادی پنجشیر جیسا اسٹریٹیجک ایریا روایتی طور پہ این آر ایف کا مضبوط گڑھ ہے ، ابھی حال ہی میں اسی گروپ نے کنڑ میں طالبان انٹیلی جنس چیف کے گھر کو نشانہ بنایا ۔ این آر ایف بنیادی طور پر اُن تاجک، ازبک اور ہزارہ برادریوں میں مقبول سیاسی تحریک ہے، جو طالبان کی پشتون مرکزیت اور نسلی غلبہ سے نالاں ہیں ۔ تمام غیر پشتون گروہ، خصوصا شمال کے ترکمان لوگ این آر ایف کو اپنا حقیقی نمائندہ سمجھتے ہیں ۔ این آر ایف نے اگرچہ انسانی حقوق کے تناظر میں طالبان حکومت کی سختیوں کے خلاف اپنے لئے بین الاقوامی سطح پہ کچھ حمایت پیدا کی ہے لیکن جدید اسلحہ ، مالیات اور دیگر وسائل کی کمی کے علاوہ بین الاقوامی سفارتی سطح پر وسیع توثیق نہ ملنے کی وجہ سے محدود دائرہ عمل رکھتی ہے ، ہرچند کہ شہریوں میں بڑھتا ہوا احساسِ کمتری، نسلی تنازعات ، پناہ گزینوں کا بحران، عمیق اقتصادی بدحالی کے ساتھ طالبان کا استبدادی طرز حکومت وسیع پیمانے کی عوامی ناراضگی پیدا کر رہا ہے ، جو مسلح مزاحمت تحریکوں کو موافق فضا فراہم کرے گا تاہم پھر بھی این آر ایف کے لئے ان عوامل سے مثبت نتائج لینا دشوار ہو گا کیونکہ طالبان کے پاس ریاستی طاقت ، قومی وسائل اور عالمی لیول پر تسلیم کا بڑھتا ہوا رجحان ، خصوصاً روس ، چین اور دیگر ممالک سے تعلقات میں استحکام کی بدولت متعدد محاذوں پر استقامت اور زیادہ کھلا میدان موجود ہے ۔ یہ بھی سچ ہے کہ ”قومی مزاحمتی فرنٹ” کی جدوجہد محض مزاحمتی مظہر نہیں بلکہ یہ ایسی سیاسی، سماجی اور اخلاقی تحریک ہے جو طالبان کے جبریت پہ مبنی انداز حکمرانی ، نسلی امتیازات اور انسانی بہبود پہ پابندیوں کے خلاف افغان معاشرے کی روح کی گونج بن کر ابھر رہی ہے۔ این آر ایف ، مستقبل میں اگر موثر اتحاد کے ذریعے نسلی برابری اور انسانی حقوق کے مطالبات کو فصاحت کے ساتھ پیش کرکے بین الاقوامی برادری کا اعتماد اور عالمی شناخت حاصل کر سکی تو اس کی وقعت مزید بڑھ جائے گی بصورت دیگر طالبان کا جغرافیائی تسلط، عسکری استبداد اور حالیہ بین الاقوامی رغبت مزاحمت کے میدان کو زیادہ سخت اور طویل المدتی بنا سکتی ہے ۔
امر واقعہ بھی یہی ہے کہ 2025 میں روس نے طالبان کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکال کر باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ، چین و ایران کے ساتھ ان کے اقتصادی روابط بڑھ رہے ہیں، طالبان اگر پاکستان، روس،چین اور ایران سے سفارتی و تجارتی تعلقات مضبوط کر لیں تو متذکرہ ممالک طالبان کو سیکیورٹی پارٹنر کے طور پر قبول کر سکتے ہیں مگر شومئی قسمت سے صورت حال متخالف سمت بڑھتی دیکھائی دے رہی ہے ، پاکستان جس کا طالبان کے ساتھ تاریخی تعلق رہا ، ٹی ٹی پی کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی وجہ سے اسلام آباد کے طالبان سے تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں ، جو پاکستان کی افغان پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا محرک بن سکتے ہیں ۔ اگر پاکستان نے پالیسی بدل کے این آر ایف کو براہِ راست یا بالواسطہ مدد فراہم کی تو فرنٹ طالبان حکومت کے لیے خطرناک اسٹریٹیجک چیلنج جائے گا ۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں