ہم ایک دیہاتی اسکول سے دیہاتی کالج میں پہنچے تو جیسے ایک نئی دنیا سامنے تھی۔فرسٹ ائر میں پہلی کلاس اور پہلے دن ہمیں کہا گیا کہ ہر کالج کے طالب علم کے پاس ایک ڈائری ہونی چاہیے۔ایک کتابوں کی دکان پر گئے وہاں سے وہ ڈائری خریدی۔ڈائری کیا تھی عمرو عیار کی زنبیل تھی۔ایک طرف گول شیشہ، اس کے ساتھ کنگھی رکھنے کا خانہ، پین پنسل رکھنے کی ایک جگہ اور نوٹس کے لیے کچھ سفید کاغذات۔کہاں نویں دسویں کا بیگ اور کہاں ایک ڈائری نما فائل اور ایک دو کتب۔اس پر اسکول کے مقابلے میں کالج کی ایک وسیع عمارت جہاں ایک طرف ایڈمن بلاک اور پرنسپل صاحب کے آفس کے سامنے ایک خوبصورت اور کھلا لان، دائیں جانب میں وہ ہوسٹل جہاں رہتے ہو ئے ہمیں پطرس بہت یاد آتے ۔یو شکل کی بلڈنگ کے آخر میں ہماری پسندیدہ ترین جگہ یعنی لائبریری جہاں ایک اسسٹینٹ اور رزاق لائبریرین ہمہ وقت موجود ہوتے تھے۔لائبریرین رزاق صاحب اپنا کام کم اور پرنسپل صاحب کی خوشامد میں ید۔ طولی رکھتے تھے اور اپنے اسٹینٹ کا ناطقہ بھی بند رکھتے تھے۔اسی لائبریری نے سب سے پہلے پیاس جگائی اور یہیں سے ایک ایک گھونٹ کی لذت سے آشنائی ہوئی۔کالج میں سب سے خوبصورت جگہ ایڈمن بلاک کے سامنے لان تھا جس کا داخلہ ایک خوبصورت اور نفیس گیٹ کے ذریعے ہی ممکن تھا اور وہ گیٹ پرنسپل صاحب کے آفس کے بالکل سامنے تھا۔تب ڈبلیو ایم چوہدری پرنسپل تھے اور وہاں تو چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تھی مگر ہم فیس جمع کرانے کی تاریخوں پر اس کا خوب نظارہ لیا کرتے تھے۔یہ ہمارا مادر علمی گورنمنٹ ڈگری کالج منڈی بہاؤالدین تھا۔
ڈبلیو ایم چوہدری کے علاوہ اور بھی بہت سے اساتذہ تھے جن کو یاد کر کے اب بھی آنکھیں احترام سے جھک جاتی ہیں۔ان صبغت منصور سی ایس پی، راجہ عرفان الحق سی ایس پی جو بعد میں سفیر بنے، غلام سرور ڈوگر اور میاں حسام الدین شامل ہیں۔میاں صاحب کی تاریخ اسلام پر لکھی ہوئی کتاب ہماری رہنمائی کے لیے کافی تھی۔
یہ کالج ضلع کا سب سے قدیم کالج ہے اور بہت ساری بری بھلی روایات کا امین ہے جو آج کل شدید مسائل سے دوچار ہے۔اس کا لینڈ سکیپ جس کو ہم حذر جان بنائے ہوئے ہیں مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔کالج کی پرانی تصویر اب ہماری آنکھوں کے خزانے میں ہی محفوظ رہ گئی ہے۔ باقی امتداد ِ زمانہ سب کچھ اپنے ساتھ بہا لے گیا ہے۔شہر کی سب سے ہر دلعزیز شخصیت ملک صلاح الدین تو کالج کی اس حالت کو دل کا روگ ہی بنا بیٹھے ہیں۔کالج کے مسائل جیسے ان کو حفظ ہی ہو چکے ہیں۔کالج کا سب سے اہم مسئلہ اس کا شہر اور آس پاس کے علاقے اور سڑکوں کے مقابلے میں گہرا ہو جانا ہے یعنی باقی سارے علاقے اور سڑکوں کے مقابلے میں اس کا نشیب میں چلے جانا بہت سارے مسائل کو جنم دیتا ہے۔شہر کا سارا پانی کالج کی دیواروں کو گرا اس کے اندر داخل ہو جاتا ہے اور اسے ایک نشیبی گڑھے میں تبدیل کر دیتا ہے۔نکاسی آب کا وہاں انتظام کیا ہونا ہے جب سارا پانی اسی گھیرے میں آ آ کر گرتا ہو۔ دہائیوں سے کالج کو شہر کے بارش کے نکاس آب کی وجہ سے دیواریں گرنے اور شہر کا پانی کالج میں داخل ہونے جیسے واقعات کا سامنا ہے۔
ایک دفعہ طلبا اور طالبات کمرہ امتحان میں تھیں کہ بارش نے اس گڑھے یعنی کمرہ امتحان کو ہی بھر دیا اور بچوں اور ان کے والدین کی حالت وہی تھی جو فارسی بزرگ کہہ گئے ہیں کہ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن یعنی جب انسان عاجز آ جائے تو اس ضرب المثل کا سہارا لیا جاتا ہے۔یہ آئے دن کا معاملہ ہے۔منڈی بہاؤالدین کی والے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے مگر آخر اس کا کوئی حل بھی ہونا چاہیئے۔
اسی وجہ سے کئی بار لائبریری، کتب اور لیبارٹریوں کے سامان دفاتر میں طلباء کے ریکارڈ کے نقصان سمیت بلڈنگ انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچ چکا ہے ۔
ایک مسٸلہ یہاں کا ہال ہے جو کالج کی غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے وقف ہوتا ہے۔مگر ہمارے زمانے میں بھی غیر نصابی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر تھیں اور اب بھی یہی حال ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہی کثیر المقاصد ہال صرف کمرہ امتحان کے طور پر مخصوص کر دیا جائے۔یہاں اپنے کالج کے امتحانات ہی نہیں دوسری یونیورسٹیز اور کالجز کے لیے بھی یہی ہال مخصوص ہے۔
ان گئے گزرے حالات میں بھی کالج کی انتظامیہ اور وہاں کے دانشور دوست اس درسگاہ کو بہتر سے بہتر بنانے کی سعی مشکور کر رہے ہیں۔کالج میں بی ایس فزکس ، بی ایس کمپوٹر سائنس ،بی ایس کیمسٹری ، بی ایس زوالوجی اور بی ایس باٹنی کی کلاسز جاری ہیں مگر ان کی لیبز کی استعداد بہت محدود ہے۔
کالج میں اٹھاون کلاس رومز کی فوری ضرورت ہے مگر پرنسپل صاحب اور ان کے رفقاٸے کار کی ہمت کی داد دینی چاہیے کہ وہ محض چونتیس کمروں سے کسی طرح اس کشتی کے کھیون ہارا بنے ہوئے ہیں۔
منڈی بہاؤالدین سے متںصل اضلاع کے دو کالجز کا یہاں ذکر ضروری ہے ایک زمیندار کالج اور دوسرا گورنمنٹ کالج سرگودھا اور اس ضلعی کالج کا موازنہ بھی ان سے بنتا ہے۔موخر الذکر تو اب باقاعدہ یونیورسٹی میں تبدیل ہو چکا ہے اور مقدم الذکر بھی کسی یونیورسٹی سے کم نہیں۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ضلع منڈی بہاؤالدین کے سیاسی زعما نے اس کالج کو اس طرح اون نہیں کیا جس طرح گجرات اور سرگودھا کے سیاست دانوں نے کیا ہے۔ہمارے سیاست دانوں کے وژن کا کیا مذکور ان سے اپنی ذمہ داری نبھانے کا ہی کہا جا سکتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس کالج کو کسی مناسب ترین اور کشادہ جگہ پر منتقل کیا جائے اور موجودہ عمارت کو سائنس فیکلٹی کے لیے مخصوص کر دیا جائے ۔ ہم اپنے مادر علمی کو اصل حالت میں نہیں اس سے کہیں بہتر اور موجودہ زمانے سے ہم آہنگ حالت میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں