جہاں دو سمندر ملتے ہیں /ڈاکٹر اظہر وحید

قونیہ میں کوئی ساحلِ سمندر نہیں … مگر ایک سمندر ہے۔ حکمت و دانائی اور محبت و عرفانِ کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر آج بھی اپنے غواص کو دعوتِ نظارہ دیتا ہے۔ آؤ! مجھے دیکھو…! میں کتنا گہرا ہوں اور تم کتنے پانی میں ہو…!
یہاں شاد عظیم آبادی کے اِس شعر نے دلِ ناشاد کو خوب شاد کیا:
میں حردت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر
دریائے محبت کہتا ہے، آ کچھ بھی نہیں، پایاب ہیں ہم
قدیم قونیہ میں ایک دھوبی گھاٹ تھا۔ کہتے ہیں، مولانا رومؒ کی حضرت شمس تبریزؒ کی پہلی ملاقات یہاں ہوئی تھی۔ جہاں ان دونوں کی پہلی ملاقات ہوئی، وہ جگہ بھی محفوظ کر لی گئی ہے اور وہاں ایک علامتی یادگار نصب کر دی گئی ہے۔ اس یادگار پر لکھا ہے: ’’وہ جگہ جہاں دو سمندر ملے تھے‘‘۔
بتانے والے بتاتے ہیں کہ یہاں مولانا اپنے شاگردوں کے ہمراہ بڑی آن بان سے گھوڑے پر سوار جا رہے تھے، اردگرد مؤدب شاگردوں کی بارات تھی۔ مجذوب صفت حضرت شمس تبریزؒ ان کی سواری کی لگام روک کر کھڑے ہو گئے۔ کہنے لگے: ایک سوال کا جواب چاہیے۔ حضرت شمس تبریزؒ نے سوال کیا: علم اور مجاہدے کا کیا مقصد ہے؟ مولانا نے جواب دیا: اتباعِ شریعت۔ عشق کا شمس پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا … چاہتا تو اسی وقت یہ علم کا سمندر بھک سے اڑ جاتا۔ شمس تبریزؒ نے ایک متانت کا سحاب لیتے ہوئے کہا: یہ تو سب جانتے ہیں؛ لیکن علم اور مجاہدے کا اصل مقصد یہ ہے کہ یہ تجھے تیری منزل تک پہنچا دیں۔ پھر آپؒ نے حکیم سنائیؒ کا ایک شعر پڑھا:
علم کز تو ترا نہ بستاند
جہل زاں از علم بود بسیار
(وہ علم جو تجھے تجھ سے نہ لے لے، اس علم سے جہل بہت بہتر ہے۔)
مولانا اس بات سے اتنے متاثر ہو ئے کہ کچھ دیر کے لیے گم صم ہو گئے۔ کہتے ہیں: حضرت شمس تبریز کو ان کے مرشد بابا کمال الدین جندیؒ نے یہ کہہ کر قونیہ بھیجا تھا کہ وہاں ایک سوختہ دل ہے، اسے گرما آؤ۔ چنانچہ جناب ِ شمس تبریزؒ اپنے مرشد کے حکم پر قونیہ تشریف لائے۔ دلوں کا شکاری یہاں شکر فروشوں کی سرائے میں گھات لگا کر بیٹھ گیا۔
مولانا روم کے ایک مرید سپہ سالار نامی گزرے ہیں جنہوں نے مولانا کی یہ سرگزشت تحریر کی ہے۔ سپہ سالار کو چالیس برس تک مولانا کے ساتھ مصاحبت رہی۔ قرینِ عقل و قیاس یہی ہے کہ یہ
تفصیل زیادہ معتبر ہے۔ وہ لکھتے ہیں: حضرت شمس تبریزؒ نے یہ دعا کی تھی کہ مجھے کوئی ایسا ذی نفس مہیا ہو جائے جو میری صحبت کا متحمل ہو سکے۔ چنانچہ دعا قبول ہوئی اور انہیں ان کے مرشد کی طرف سے مولانا رومؒ پر مامور کر دیا گیا۔ قونیہ پہنچ کر آپؒ ایک سرائے میں مقیم ہو گئے جہاں ایک چبوترے میں امراء و علماء علمی مجالس برپا کرتے۔ اس مجمع میں آپؒ بھی بوجوہ شامل ہو جاتے۔ اُدھر سر راہ پہلی ملاقات کے بعد مولانا رومؒ کے دل میں اشتیاق پیدا ہوا کہ اس مجذوب سے دوبارہ ملا جائے۔ مولانا کو معلوم ہوا کہ شمس تبریزؒ وہاں جاتے ہیں، چنانچہ مولانا بھی وہاں پہنچ گئے۔ وہاں پہلے مولانا کی اُن سے آنکھیں چار ہوئیں، پھر دل دوچار ہو گیا۔ سرِ محفل جنابِ شمس تبریزؒ نے مولانا سے ایک عجیب سوال کر دیا۔کہنے لگے: مولانا! یہ بتایئے کہ حضرت بایزید بسطامیؒ نے ساری زندگی خربوزہ نہیں کھایا کیا انہیں معلوم نہ تھا کہ رسولِ کریمؐ نے خربوزہ کس طرح تناول فرمایا تھا۔ یہ ان کی اتباعِ سنت ِ رسولؐ کا جذبہ تھا، لیکن دوسری طرف ان کا یہ جملہ مشہور ہے: سبحانی ما اعظم شانی (میں پاک ہوں، میری شان بلند ہے)، حالانکہ رسولِ کریمؐ باوجود اپنی شانِ جلالت کے فرماتے کہ میں دن میں ستّر مرتبہ توبہ کرتا ہوں۔ یہ دونوں باتیں کس طرح منطبق ہوتی ہیں۔ مولانا نے کہا: اگرچہ حضرت بایزید بسطامیؒ بہت بلند مرتبہ بزرگ تھے لیکن وہ ایک جگہ ٹھہر گئے تھے اور اپنے مقام رتبے کی وجہ سے ان کے منہ سے ایسے الفاظ سرزد ہو گئے تھے۔ رسولِ کریمؐ ہمہ حال روبہ ترقی و عروج تھے، اس لیے وہ دن میں ستر مرتبہ پہلے سے بلند تر مقام پر جب فائز فرما دئیے جاتے تو آپؐ اس بلند تر مقام کی نسبت سے جب پہلی منزل کو دیکھتے تو پہلے مقام سے توبہ فرماتے‘‘۔ احوال ِ رومیؒ قلم بند کرنے والے آپؒ کے مریدِ خاص سپہ سالار لکھتے ہیں کہ اس مکالمے کے بعد مولانا رومؒ اور حضرت شمس تبریزؒ دونوں صلاح الدین زرکوب کے حجرے میں چالیس روز تک چلہ کش ہو گئے۔ اس عرصے میں کھانا پینا ترک کر دیا گیا اور کسی کو اس حجرے میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔ اس کے بعد مولانا کے احوال بدل گئے، ایک عجب مدہوشی کا عالم طاری رہتا اور اسی عالم میں اشعار کا نزول جاری رہتا۔ انہیں حضرت شمس تبریز کے بغیر ایک پل چین نہ آتا تھا۔ مولانا نے مسندِ تدریس اور فتویٰ نویسی ترک کر دی اور ہمہ حال سماع سنتے اور ان پر عجیب وجد طاری رہتا۔ شہر میں شور مچ گیا کہ ان کے ایک بلند پایہ ایک فقیہہ کو باہر سے آنے والے کسی درویش نے گمراہ کر دیا ہے۔ اہل شہر کی مخالفت اور مولانا کے خاندان کی طرف سے خفگی کے سبب حضرت شمس تبریزؒ قونیہ چھوڑ کر دمشق منتقل ہو گئے۔ مولانا اپنے خضر کی جدائی میں بے چین ہو گئے اور شدتِ فراق میں پہلے سے زیادہ پُر سوز شعر کہتے رہے۔ مولانا نے اپنے بیٹے اور چند شاگردوں کو ایک خط دے کر دمشق روانہ کیا اور اپنے سوختہ دل کا حال بھی اشعار کی صورت میں لکھ بھیجا۔ چنانچہ حضرت شمس تبریز قافلے کیساتھ قونیہ واپس لوٹ آئے اور مزید دو سال قونیہ میں قیام پذیر رہے۔
بہرطور آپؒ کے رخصت ہونے کے بعد مولاناؒ کا دل صرف صلاح الدین زرکوبؒ کی معیت میں بہلتا۔ یہ نوائے سروش تھے اور وہ گوشِ مشتاق۔ آپؒ اپنا حالِ دل اشعار کی صورت میں بیان کرتے … وہ اشعار، جو آج ہم مثنوی میں سنتے ہیں اور سر دھنتے ہیں۔ ایک مرتبہ صلاح الدین زرکوبؒ اپنی دکان پر ورق کوٹ رہے تھے کہ ہتھوڑی کی آواز نے مولانا پر وجد طاری کر دیا اور آپؒ کپڑے پھاڑ کر باہر نکل آئے اور رقص کرتے رہے۔ صلاح الدین زرکوبؒ کے وصال کے بعد آپؒ نے اپنے ایک مرید حسام الدین چلیبی کو اپنا ہمراز بنا لیا اور ان کی فرمائش پر مثنوی ضخیم تر ہوتی چلی گئی۔ آپؒ کی مثنوی میں جابجا حسام الدینؒ کا تذکرہ یوں ملتا ہے کہ میں اس شعری سلسلے کو موقوف کرنے لگا تھا کہ حسام الدینؒ کی فرمائش پر پھر ایک مزید جلد لکھنے پر آمادہ ہو گیا۔ حسن کو اپنے اظہار کے لیے ایک آئینہ درکار ہوتا ہے۔ مجرد حسن جب آئینے کے روبرو ہوتا ہے تو دنیا کو مجسم نظر آتا ہے … اگر ایسا نہ ہوتا … اگر یہ سنتِ الٰہیہ نہ ہوتی تو … مخفی خزانہ مخفی ہی رہ جاتا۔
یہ اہلِ ذکر بھی عجب لوگ ہیں … فقط اِن کے ذکر ہی سے دل دھمال ڈالنے لگتا ہے … مکالمہ اور معاملہ ہو جائے تو کیا ہو گا!! یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے محبوب کی یاد میں قیام کر لیا۔ یہ دم بھر کے لیے بھی غفلت کے دام میں نہیں آئے۔ اِنہوں نے ذکرِ خدا کیا، خدا نے بھی اپنے فرمان اور وعدے کے مطابق اِن کا ذکر کیا۔ خدا کس طرح ذکر کرتا ہے؟ … خدا نے اپنی مخلوق کی زبان پر اِن کا ذکر جاری کر دیا … مخلوق کے دلوں میں اِن کی یاد کا دیا روشن کر دیا۔ دراصل ذکر ہی زندہ کرتا ہے۔ ذکر زندگی ہے … غفلت موت! ذکر ہی یاد کا ثبوت ہے۔ پاک ذات کا ذکر زبان و دل کی پاکیزگی طلب کرتا ہے۔ سبحان ذات کی بارگاہ میں پاک زبان اور پاک دل لے کر ہی حاضر ہوا جاتا ہے … پاک زبان کیا ہے …؟ وہ زبان پاک ہے جس گلہ اور شکوہ نہیں کرتی۔ پاک دل کیا ہے؟ … وہ دل پاک جو ناپاک دنیا کے ذکر سے خود آلودہ نہیں کرتا۔ پاک وہ ہے جو ہر مفاد سے پاک ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply