اگر ہم غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک مشرک و کافر اور ایک مسلم کی زندگی میں کتنا فرق ہے؟ مشرک پتھروں سے ڈرتا ہے کہ وہ معبود ہیں‘ ستاروں سے ڈرتا ہے کہ وہ معبود ہیں‘ کہنہ اور بوسیدہ قبروں کی اینٹوں سے ڈرتا ہے کہ وہ خدا ہیں‘ خود انسانوں سے ڈرتا ہے کہ وہ خدا ہیں لیکن ایک مسلم کا عقیدہ یہ ہے کہ ایک اللہ کی ذات کے سوا دنیا میں کو ئی وجود نہیں جس سے ڈرا جائے۔ ایک مشرک اپنے کو دنیا کی ہر شے سے کمزور و حقیر سمجھتا ہے لیکن ایک مسلم وجود ذات ”عزیز و متکبر“ کے سوا خود کو سب سے بلند اور سب سے اعلیٰ سمجھتا ہے کیونکہ ہر لحظہ اس کے کان میں یہ آواز آتی رہتی ہے۔
ترجمہ: عزت صرف اللہ کے لیے ہے‘ اس کے رسول کے لیے ہے اور مسلمانوں کے لیے۔ (المنافقون‘8)
اے مشرک انسان! تو کیوں خدا کے سوا اوروں کی طرف ہاتھ پھیلاتا ہے؟ کیا تو ان میں سے بعض سے بہتر اور بعض کے برابر نہیں ہے؟ اے مشرک انسان! تو کیوں خدا کے سوا اوروں سے ڈرتا ہے؟ کیا وہ بھی تیری ہی طرح خدا کی مخلوق نہیں۔ اے مشرک انسان! تو خدا کو چھوڑ کر کن سے حاجت براری کی درخواست کرتا ہے؟ کیا وہ خود خدا کے محتاج نہیں؟ پس ایک ہی ہے جس کی طرف ہاتھ پھیلانا ہے‘ ایک ہی ہے جس سے ڈرنا ہے‘ ایک ہی ہے جس کے آگے جھکنا ہے‘ ایک ہی ہے جس کے آگے گڑگڑانا ہے‘ ایک ہی ہے جس کو اپنے سے بالاتر سمجھنا ہے اور ہاں ایک ہی ہے جس سے ضرورتوں میں مانگنا ہے۔
ترجمہ: اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟تو یقیناََ وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے۔ آپ ان سے کہیے کہ اچھا یہ تو بتاؤجنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہواگر اللہ تعالی مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں؟یا اللہ تعالیٰ مجھ پر مہربانی کا ارادہ کرے تو کیا یہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟آپ کہہ دیں کہ اللہ مجھے کافی ہے‘ توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں۔ (الزمر‘38)
مسلم خدا کے سوا کسی سے کیوں نہیں ڈرتا؟ اس لیے کہ وہ دل سے اعتقاد رکھتا ہے کہ:
اللہ کے سوا نفع و نقصان کسی کے ہاتھ میں نہیں۔
دنیا کی ہر قدرت و قوت کا مالک وہی ہے۔
اس کے سوا کسی میں قوت و قدرت نہیں۔
مخفی دعاؤں کا سننے والا تنہا وہی ہے۔
دنیا کی تمام قوتوں کی عنان حکومت صرف اسی کے دست قدرت میں ہے۔ عطائے موت و حیات و نفع و نقصان صرف اسی کا کام ہے۔ ہماری طرح دنیا کا ذرہ ذرہ اسی کا محتاج ہے مگر وہ کسی کا محتاج نہیں۔ پھر کیونکر ممکن ہے کہ خطرات کا بھیانک دیو اس مسلم کو خوف زدہ بنا سکے جس کا قلب مطمئن خدا کے سوا کسی سے خوف زدہ نہیں اور کیونکر ممکن ہے کہ خوف و ہراس اس دل پر قبضہ کر سکے جو خدا کے سوا کسی کے قبضہ میں نہیں اور ہاں کیونکر ممکن ہے کہ متکبرین کی ہیبت و عظمت‘ جبائرہ عالم کا قہر و غضب‘ سپاہیوں کی تیغ و سنان اور فرعون کا جاہ و جلال اس انسان کو مرعوب کر سکے‘ جس کی نظر میں یہ سب کے سب ایک دست شل اور ایک عضو معطل سے زیادہ نہیں۔
پھر کیا یہ سچ نہیں کہ مسلم فطرتاًَ خوددار ہے کہ اکثر مخلوقات سے وہ برتر اور بعض کے برابر ہے۔ کیا یہ درست نہیں کہ مسلم فطرتاًَ آزاد اور حر ہے کہ خالق کے سوا وہ کسی مخلوق سے نہیں ڈرتا‘ کیونکہ قوتوں کا منبع اور قدرتوں کا مرکز اس کی نظر میں ایک ہی ہے۔
ترجمہ: اور اگرتجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا سوااللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں۔ اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی نفع پہنچائے تو وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ اور وہی اللہ اپنے بندوں کے اوپر غالب ہے برتر ہے اور وہی بڑی حکمت والا اور پوری خبر رکھنے والا ہے۔(الانعام‘ 17-18)
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں