تعلیم کا مقصد ہمیشہ صرف نوکری یا ڈگری دینا نہیں تھا۔ اصل میں تعلیم کو سماجی شعور بڑھانے اور معاشرتی ترقی کے لیے سب سے اہم سرمایہ سمجھا جاتا تھا۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں تعلیم زیادہ تر عوامی مفاد پر مبنی تھی۔ سرکاری سکول اور کالجز میں فیس یا تو نہ ہونے کے برابر تھی یا بہت کم۔ G.I. Bill جیسے قوانین فوجیوں اور عام شہریوں کے لیے مفت تعلیم کے مواقع فراہم کرتے تھے۔ لوگ خوشی سے ٹیکس دیتے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ پورے معاشرے کے لیے فائدہ مند ہے: یتیم بچوں کی تعلیم، بیواؤں کے لیے سہولتیں، غریب خاندانوں کی مدد۔
یہ دور وہ تھا جب تعلیم انسانیت کے اجتماعی فائدے کا ذریعہ تھی، نہ کہ کاروبار۔
مسئلہ کہاں پیدا ہوا؟ نوجوانوں کی بیداری اور اداروں کا خوف
ساٹھ اور ستر کی دہائی میں حالات بدلنے لگے۔ نوجوان نسل نے سوالات اٹھانا شروع کیے۔ امریکہ میں ویتنام جنگ، انسانی حقوق کی تحریکیں، نسلی مساوات، خواتین کے حقوق اور مزدور تحریکیں زوروں پر تھیں۔ یونیورسٹی کے طلبہ بڑے پیمانے پر اکٹھے ہوتے، احتجاج کرتے، پالیسیوں پر بحث کرتے۔ برکلے یونیورسٹی کے Sproul-Hall جیسے مقامات نوجوانوں کی اجتماعی طاقت کی علامت بن گئے۔
چومسکی کے مطابق طاقتور طبقات نے یہ سب خطرہ سمجھا۔ سوال اٹھانے والے شہری طاقتور اشرافیہ کے لیے ہمیشہ چیلنج ہوتے ہیں۔ جب نوجوان سوچنے اور بات کرنے لگے، تو سسٹم نے یہ فیصلہ کیا کہ تعلیم کو ایک نئے سانچے میں ڈھالا جائے تاکہ یہ مزید آزادی نہ دے بلکہ قابو کرے۔
تعلیم اور کالجز پر پہلا حملہ
سب سے پہلا حملہ تعلیم اور تعلیمی اداروں کے ذریعے کیا گیا۔ ستر کی دہائی کے آغاز سے ہی ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کالج کے طلباء کو قابو کرنے کے لئے بہت سے طریقہ ہائے کار عمل میں لائے گئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ حیران کُن طور پر کالجز کے طرزِ تعمیر کو باقاعدہ طور پر تبدیل کیا گیا۔ اور عمارات کی تعمیر اس طرز پر کی گئی جہاں ایسی کوئی جگہ موجود نہ ہو جہاں تمام طلباء بیک وقت اکٹھے ہو سکیں، ایسی تمام جگہیں منہدم کی گئیں جو برکلے یونیورسٹی کے Sproul-Hall سے متشابہ ہوں، یہ ایک ایسا ہال تھا جہاں پر طلباء اکٹھے ہوتے اور جہاں یونین کی سطح پر سرگرمیاں تشکیل پاتی تھیں۔
تعلیم کے اخراجات اور فیسوں میں اضافہ
عوام کو قابو میں رکھنے کا دوسرا حربہ کالج کے اخراجات کا اچانک بہت زیادہ بڑھ جانا تھا۔ میرے پاس کوئی دستاویزی ثبوت تو نہیں ہے جس سے میں یہ ثابت کر پاؤں کہ ایسا باقاعدہ منصوبے کے تحت کیا گیا تھا لیکن ہم نتائج بہت واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں؛ کالج کی ٹیوشن فیس بڑھنے سے امریکی نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد حصولِ علم سے خود بخود محروم ہو گئی۔ اور جو کسی نہ کسی طرح کالج کے اخراجات برداشت کر پاتا تھا، کالج سے گریجویٹ ہوتے ہوتے اس پر بھی کم و بیش 100،000امریکی ڈالرز کا قرض چڑھ چکا ہوتا تھا جو کہ اس طالبعلم کو ایک قیدی بنا دیتا تھا۔ اور قرض اس شکل میں ترتیب دیا جاتا کہ طالبعلم اسے ادا کر ہی نہ پائے اور دو دھاری تلوار کی طرح تمام عمر آپ کے سر پر لٹکتا رہے اور آپ بس اس پر سود ادا کرتے کرتےمقید حالت میں اس دنیا سے رخصت ہو جائیں۔ اور ہر طرح کی تخلیقی ، سیاسی سرگرمی سے دور رہیں ۔
تعلیم میں تخلیقیت کو ہنر سے بدل دیا
کم و بیش یہی صورتحال K-12 ایجوکیشن میں دیکھنے میں آتی ہے۔ k-12ایجوکیشن میں جو رجحانات دیکھنے میں آ رہے ہیں وہ یہ ہیں کہ تعلیم کو میکانکی ہنرُ (mechanical-skills) تک محدود کر دیا جائے۔ تخلیقی صلاحیت اور خود مختاری کو اُستاد اور شاگرد دونوں کیلئے مکمل طور پر کالعدم کر دیا جائے۔ اور اس کو عملی جامہ ’’امتحانات کو مدنظر رکھ کر پڑھایا جانا‘‘، ’’کوئی بچہ (نمبر حاصل کرنے میں) پیچھے نہ رہ جائے‘‘، ’’پہلی پوزیشن حاصل کرنے کیلئے سب کا بھاگنا‘‘ جیسے زہر آلود خیالات کو آدرش قرار دے کر پہنایا گیا ہے۔ یہ تمام طریقے نوجوان نسل کو قابو کرنے میں از حد معاون ثابت ہوئے ہیں۔ اور تعاون، اتحاد کی جگہ مقابلہ اور distrust کی فضا قائم کرنا ۔
مفت تعلیم کا خاتمہ اور پرائیویٹائزیشن
تیسرا طریقہ جو عمل میں لایا گیا وہ مفت سرکاری تعلیم کے ختم کرنے کا تھا۔ چارٹر سکول سسٹم کا اجراء اسی مقصد کے تحت عمل میں لایا گیا۔ چارٹر سکولز سرکاری تعلیمی فنڈ کو پرائیویٹ سیکٹر میں کھینچ لانے کا ایک طریقہ ہیں، آپ سرکاری سکول تباہ کر دیں، لوگ وہاں جانا خود بخود چھوڑ دیں گے۔
أپ مزدوروں اور ملازمین کو نوکری ختم ہونے کے خوف میں مبتلا رکھیں اور وہ آپ کے مکمل قابو میں رہیں گے۔ وہ معقول اجرت کا تقاضہ کریں گے نہ ہی کارخانوں میں بہتر حالات کی فراہمی کا مطالبہ کریں گے۔
انسانی ہمدردی کی جگہ لالچ اور خود غرضی کی پرورش
یہ دوطریقہ ہائے کار، ایک financialization اور دوسرا off shoring-of-capital اُس درندہ صفتcycle کا حصہ ہیں جو دولت اور طاقت کے ارتکاز میں مزید سے مزید اضافہ کر رہا ہے۔ایڈم سمتھ کے معاشی اصول و ضوابط کی تمام تر اساس اس نظریے پر تھی کہ دوسروں سے ہمدردی انسان کی فطرت میں شامل ہے لیکن طاقتور طبقات کے لئے سب سے اہم امر یہ ہے کہ اپنی رعایا کے دماغ سے ہمدردی کے اس بیج کو اکھاڑ پھینکا جائے۔
سالہا سال کی مسلسل کاوشوں کے بعد آقاؤں کو بالآخر اس بنیادی ترین انسانی جذبے کو اپنے غلاموں کے دماغ سے بے دخل کرنے میں کامیابی نصیب ہوئی ہے۔ اس کی سب سے بدیہی مثال سوشل سیکیورٹی ہے۔ میں ٹیکس کیوں ادا کرتا ہوں، اس لئے کہ میرے ساتھ والے قصبے میں کوئی بیوہ ہے تو اس کے راشن کا بندوبست ہو سکے، بے گھر کو گھر مل سکے، بچوں کو مفت تعلیم مل سکے۔
عوامی فلاح کا سسٹم کیسے تباہ ہو سکتا ہے؟
متمول ترین طبقہ ٹیکس نہیں دے گا، اور وہ سہولیات جو اس ٹیکس پر منحصر ہیں، پیسے کی قلت کی وجہ سے عوام کو میسر نہیں آئیں گی۔ سسٹم کام نہیں کرے گا، عوام خفا ہو گی اور کسی متبادل کا مطالبہ کرے گی۔ یہ کسی بھی سسٹم کو پرائیویٹائز کرنے کا عمومی اصول ہے۔
کنڈر گارٹن سے لے کر اعلی تعلیم تک سرکاری تعلیمی نظام اس وقت شدید حملے کی زد میں ہے۔ اگر ہم سنہری دور کو دیکھیں تو 1950 اور 60 کی دہائی میں تعلیم کا زیادہ تر حصہ مفت سرکاری سکولوں پر مبنی تھا۔ G.I.Bill of rights نے جنگِ عظیم دو کے امریکی فوجیوں کیلئے مفت تعلیم کا بل پاس کرایا اور ان سب نے مفت تعلیم حاصل کی۔
لیکن آج، کالج کی آدھی سے زیادہ فنڈنگ ٹیوشن فیس ادا کئے بغیر ممکن نہیں۔ یہ ایک حیران کُن تبدیلی ہے اور طالبعلم پر خطرناک بوجھ۔یہ امریکی سرکاری سکولز پر ایک حملہ ہے۔
سرکاری سکول انسانی ہمدردی کے جذبے سے دئے گئے عطیات پر چلائے جاتے ہیں۔ میرے پوتے سکول میں نہیں پڑھتے لیکن پھر بھی میں بخوشی ٹیکس ادا کرتا ہوں کہ میرے پڑوسیوں کے بچے سکول جا سکیں۔ یہ ایک فطری اور مثبت انسانی جذبہ ہے، لیکن آقاؤں کیلئے نقصان دہ اور ناقابلِ برداشت، وہ میری سوچ کو اس نہج پر لے آئے ہیں کہ میرے بچے سکول نہیں جاتے تو میں ٹیکس کس لئے ادا کروں؟ سرکاری سکول ہونے ہی نہیں چاہییں، انہیں پرائیویٹ کر دیا جائے۔
سنہری دور کا معاشرہ آج کی نسبت بہت زیادہ غریب تھا لیکن اس دور میں مفت سرکاری تعلیم کو بآسانی یقینی بنایا گیا تھا۔ آج کے متمول معاشرے کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کے پاس مفت سرکاری تعلیم کیلئے وسائل کمیاب ہیں۔ یہ اجتماعی فلاح و بہبود پر ایک شدید حملہ ہے۔یہ امریکی معاشرے کا وہ جوہرِ نایاب ہے جو ہم سے چرا لیا گیا ہے۔
اشرافیہ کے نقطۂ نظر سے اگر دیکھیں تو آپ بطور ملازم، صرف اور صرف اپنے بارے میں فکر مند ہوں، اور اپنے کولیگز یا باقی کسی شخص کی آپ کو فکر نہ ہونی چاہیے نہ ہی کرنی چاہیے۔ اس کے برعکس ایڈم سمتھ کے معاشی اصول و ضوابط کی تمام تر اساس اس نظریے پر تھی کہ دوسروں سے ہمدردی انسان کی فطرت میں شامل ہے لیکن ہمارے موجودہ آقاؤں کے لئے سب سے اہم امر یہ ہے کہ اپنے غلاموں کے دماغ سے ہمدردی کے اس بیج کو اکھاڑ پھینکا جائے۔
چومسکی کے مطابق، یہ سب اتفاقیہ نہیں۔ یہ ایک منصوبہ ہے:
تعلیم کو مہنگا کرو تاکہ نوجوان قرض میں پھنسے رہیں۔
اجتماعی جگہیں ختم کرو تاکہ وہ اکٹھے نہ ہو سکیں۔
نصاب کو ایسا بناؤ کہ وہ صرف حکم ماننے والے بنیں، سوال نہ کریں۔
عوامی ادارے کمزور کر کے نجکاری کرو تاکہ دولت اور طاقت چند ہاتھوں میں رہے۔

مقصد واضح ہے: ایسا معاشرہ جہاں ہر شخص بس اپنی فکر کرے، قرض اتارے، نوکری بچائے، اور کبھی طاقت کے ڈھانچے کو چیلنج نہ کرے۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں