چینی مافیا کے بعد گندم مافیا /اطہر شریف

جب سے حکومت آئی ہے کسانوں کو رل دیا ہے ذلیل کر دیا ہے پہلے چینہ مافیا نے چینی ایکسپورٹ کر کے منافع کمایا اس کے بعد چینی کی کمی کر کے اربوں روپے منافع کمایا -اس کے بعد امپورٹ کر کے دیہاڑیاں لگائی گئی -اب دو سالوں سے کسان سے گندم نہ خرید کر کسانوں کو قرضے تلے دبا دیا گیا ہے پچھلے سال کی طرح اس سالُ بھی گندم 1800 سے لے کر 1900 من تک بکی اور کسان کے پلے کچھ نہیں بچا اور کسان کے پاس اگلی فصل کی کاشت کے پیسے نہیںُ بچے اور وہ قرضوں تلے دب گئے ان کے گھروں میں بھوک کا افلاس کا ننگا ناچ شروع ہو گیا لیکن دوسری جانب حکومت بے حس کی تصویر بنی رہی
اب ایک نیا کھیل شروع ہو گیا کسانوں سے خریدی گئی گندم جو 1800 روپے فی من کے حساب سے خریدی گئی اس کی قمیت سٹاکسٹ مافیا نے اضافہ کرنا شروع کر دیا جس سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو گیا -حکومت نے عوام کو دکھانے کےُلیے کچھ سختی شروع کی تو فلور ملز نے ہڑتال شروع کر دی تو 9 ستمبر 2025 کو
پنجاب حکومت اور فلارملز مالکان میں معاملات طے پا گئے. ملز مالکان نے مشروط مقدار میں آٹا سپلائی کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔
پنجاب بھر کی 800 ملزآج سے دوبارہ کھل جائیں گی،آج 10 اور 20 کلو آٹے کا تھیلا سرکاری نرخوں پرمارکیٹ میں سپلائی کریں گی۔
فلار ملز ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت فلار ملوں کو ایک لاکھ ٹن گندم ماہانہ دیگی، ملٹی نیشنل کمپنیاں 25 لاکھ بوری گندم 3 ہزارروپے من میں فراہم کرنے پرآمادہ ہوگئی۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نمائندے آج ڈی جی فوڈ سے ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں مقدار اور طریقہ کار طے کریں گے۔1800 روپے فن من میں خریدی ہوئی گندم کا ریٹ اب 3000 روپے فی من حکومت خرید کر فلور ملز کو دے گا تو اس میں اس مافیا کی ڈیہاڑیوں کی مالیت بنتی ہے 6 ارب 25 کروڈ روپے – لیکن اس میں قصور میرے کسان بھائیوں کا بھی ہے -کیونکہ الیکشن کے دن ان کو پی ٹی آئی اور مسلم لیگ یاد رہ جاتی ہے دونوں نے کسانوں کا بیڑہ غرق کر دیا ان کے پلے کچھ نہیں چھوڑا -پیپلز پارٹی جس نے اپنے دور حکومت میں 2008 تک 2013 میں گندم کا ریٹ 400 روپے فی من سے 1100 روپے فی من کا اضافہ کیا 175% فیصد پاکستان کی تاریخ میں ریکارڈ اضافہ اور زراعت میں تاریخ ساز اضافہ کیا اور بمپر فصلیں ہوئی کسان اس دور میں خوشحال ہو گیا -لیکن وؤٹ دیتے وقت وہ پیپلز پارٹی کی کسان دوست حکومت کو بھول گئے جس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اس طرح تنخواہ دار خاص کر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنیشن میں پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں پاکستان کی تاریخ میں رئکارڈ ساز اضافہ 157% فیصد اضافہ کیا اس کے مقابلے میں عمران خان کی حکو مت میں صرف اضافہ 25% فیصد اور موجودہ حکومت کے دو سالہ حکومت میں 32 % فیصد اور پنشن میں 22% اضافہ کیا-اور ان ملازمین میں بھی پیپلز پارٹی حکومت کے اس تاریخی اضافے کو فراموش کر کے اب دھکےُکھا رہے ہیں سرکاری ملازمتیں ختم ڈاؤن سائزنگ اور یوٹیلٹی سٹور جارپورشین جو پیپلز پارٹی کی حکومت میں منافع میں تھی عمران اور موجودہ حکومت میںُ خسارے ہیں اس کے ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے -اب میں ایک محکمے کیُیونین سے بات کی انہوں نے تسلیم کیا کہُپیہلز پارٹی واحد پاکستان کی پارٹی ہے جو غریب کسان اور ملازم دوست ہے اور ہمُنت وؤٹ نہ دے کر خود اپنا نقصان کیا-لیکن ایک المیہ اور ہے پیپلز پارٹی لیبر اور کسان ونگ اس ایشو کو ہائی لائٹ نہیں کر سکے اور ان کے اندر جاکر اس بات کا ادراک نہیں کروا سکے اب بھیُ موقع ہے میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس بات کو زیادہ سے زیادہ ایکسپوز کیا جائے اور کسان اور لیبر ونگ اور سٹڈی سرکل ان کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر ان کو اس بات کا احساس دلوائے تب ہی ُ ہم پنجاب میں اب کھوئی ہوئی مقبولیت دوبارہ بحال کر سکتے ہیں

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply