نیپال کی موجودہ جدلیات /کامریڈ فاروق بلوچ

تمہید

قوموں کی تقدیر میں بعض ایسے لمحے آتے ہیں جو محض وقت کے تقویمی خانے نہیں بلکہ تاریخ کی دائمی مہر بن جاتے ہیں۔ وہ لمحے جب خواب اور حقیقت آمنے سامنے آ کھڑے ہوں، جب ماضی کا بوجھ حال کے شانے جھکا دے اور مستقبل کا سوال آنکھوں میں لرزنے لگے۔ نیپال آج اسی کٹھن موڑ پر کھڑا ہے۔ ہمالیہ کے سائے میں بسی یہ چھوٹی سی ریاست اس وقت فسادات کی لپیٹ میں ہے—نظریہ اور حقیقت کی کشمکش، عوام اور اقتدار کا تصادم، اور آزادی و پابندی کی کھینچا تانی۔

بادشاہت سے جمہوریت تک: ایک خونچکاں سفر

نیپال کی تاریخ صرف تہذیب اور عقیدت کی کہانی نہیں بلکہ طاقت اور مزاحمت کا رزمیہ بھی ہے۔
صدیوں تک نیپال میں شاہی خاندان نے حکمرانی کی۔ عوام کے لیے اقتدار محض ایک درباری پردہ تھا جس کے پیچھے بادشاہت کی اجارہ داری قائم رہی۔

1990 کی جمہوری تحریک:
پہلا بڑا دھماکہ 1990 میں ہوا جب عوامی احتجاج کے نتیجے میں بادشاہ کو آئینی بادشاہت تسلیم کرنی پڑی۔ مگر یہ جمہوریت کا ابتدائی سانس تھا، جو جلد ہی خفقان میں بدل گیا۔

ماؤسٹ بغاوت (1996–2006):
نیپال کی جدلیاتی تاریخ کا سب سے خونریز باب وہ دس سالہ خانہ جنگی ہے جو ماؤسٹ باغیوں نے چلائی۔ ان کا دعویٰ مساوات اور عوامی حکمرانی کا تھا۔ لیکن یہ جدوجہد 17 ہزار لاشوں اور لاکھوں متاثرین کا بوجھ اپنے پیچھے چھوڑ گئی۔

2006 کا امن معاہدہ اور بادشاہت کا خاتمہ:
بالآخر عوامی تحریک نے بادشاہ گیانیندر کو جھکنے پر مجبور کیا۔ 2008 میں نیپال ایک جمہوریہ بن گیا۔ یہ لمحہ قوم کے خوابوں کا سنگِ میل تھا۔ لیکن خواب اکثر کمزور بنیادوں پر کھڑے کیے گئے محلات کی مانند ہوتے ہیں—خوبصورت مگر ناپائیدار۔

موجودہ بحران: خوابوں کا انہدام

آج کے نیپال میں وہی سوال پھر سر اٹھا رہا ہے: کیا عوامی اقتدار محض نعرہ ہے یا حقیقت؟

وزیرِ خزانہ بشنو پراساد پاوڈل پر حملہ اس بات کا اعلان ہے کہ عوام اپنے رہنماؤں سے مایوس ہو چکے ہیں۔
سابق وزیرِ اعظم شیر بہادر دیوبا کا زخمی ہونا اس شگاف کو مزید واضح کرتا ہے جو اقتدار اور رعایا کے درمیان کھل چکا ہے.
احتجاجات کے دوران جانیں جانے اور عمارتوں کے جلنے نے یہ ثابت کیا کہ جب ریاست زبان بند کرتی ہے تو عوام ہاتھ کھول لیتے ہیں۔ یہ سب واقعات نیپال کے سیاسی ڈھانچے کے لرزنے کا اعلان ہیں۔

کمیونسٹ نظریہ اور نیپال کی حقیقت

کمیونسٹ نظریہ مساوات کا علمبردار ہے۔ اس کے مطابق وسائل عوامی ملکیت ہوتے ہیں اور طبقاتی فرق مٹ جاتا ہے۔ نیپال میں بھی 2018 میں کمیونسٹ اتحاد نے حکومت سنبھالی تو امید کی کرن جاگی۔ مگر نظریہ ایک بات ہے، اور عملی سیاست دوسری۔
کرپشن اور بدانتظامی نے مساوات کے نعرے کو داغدار کیا۔
سوشل میڈیا پر پابندی نے آزادیِ اظہار کے خواب کو مسمار کیا۔
سیاسی دھڑوں کی آپسی لڑائی نے عوامی اعتماد کو چکناچور کر دیا۔
یوں کمیونسٹ حکومت وہی روش اختیار کر بیٹھی جس کے خلاف کبھی جدوجہد کی تھی۔

نوجوان نسل: نیپال کی نئی طاقت

نیپال کی موجودہ جدلیات کا اصل سرچشمہ نوجوان ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جس نے بادشاہت نہیں دیکھی مگر جمہوریت کے وعدوں میں پلی۔ جب انہی وعدوں کو توڑا گیا، جب سوشل میڈیا پر قدغن لگائی گئی، تو یہ نسل بپھر گئی۔
یہ “جن زیڈ” نہ صرف احتجاج کر رہی ہے بلکہ اپنی سیاسی شناخت بھی تراش رہی ہے۔ یہی نسل کل کا نیپال تشکیل دے گی۔ آج وہ لاٹھیوں اور آنسو گیس کے سامنے ہیں، کل فیصلہ کن ایوانوں میں ہوں گے۔

خطے کا تناظر

نیپال کا بحران صرف داخلی مسئلہ نہیں۔ بھارت اور چین دونوں کی نظریں اس خطے پر ہیں۔ نیپال اگر کمزور ہوگا تو یہ دونوں طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے بساط بچھائیں گی۔ یوں نیپال کی سیاست مقامی سے زیادہ علاقائی کھیل بن جائے گی۔

مستقبل کے امکانات

نیپال دو راہوں پر کھڑا ہے:
1. اصلاحات کی راہ:
اگر حکومت سنسرشپ ختم کرے، نوجوانوں کو ساتھ لے، کرپشن کا خاتمہ کرے اور شفافیت لائے تو یہ بحران ایک نئی بیداری میں بدل سکتا ہے۔
2. زوال کی راہ:
اگر ضد، جبر اور قدغن جاری رہی تو نیپال کا معاشی ڈھانچہ بکھر جائے گا، سماجی ہم آہنگی ٹوٹ جائے گی اور جمہوریت محض ایک لفظ رہ جائے گی۔

انجام کلام

julia rana solicitors

“قومیں خوابوں پر جیتی ہیں۔ جب خواب چھن جائیں تو ان کے پاس تاریخ کا ملبہ رہ جاتا ہے۔”
نیپال کے پاس آج یہ انتخاب ہے کہ وہ خوابوں کو حقیقت بنائے یا انہیں ملبے میں دفن کر دے۔ وقت کے ایوان میں فیصلہ ابھی مؤخر ہے۔ مگر جو بھی فیصلہ ہوگا، تاریخ اسے ہمیشہ یاد رکھے گی۔

Facebook Comments

فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply